ڈاکٹر وں کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی بے لوث خدمت کرنی چاہئے:ڈاکٹر عارف علوی

ڈاکٹر وں کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی بے لوث خدمت کرنی ...

  

      پشاور (سٹی رپورٹر)  صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں انسانی وسائل بالخصوص صحت کے شعبے میں جو ترقی ہوئی ہے وہ دیگر صوبوں کے لیئے بھی قابل تقلید ہے،یہاں کے طلباء نے طبی میدان میں اپنی قابلیت اور خدمات کالوہا نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی منوایا ہے جو پورے ملک کے لیئے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) پشاور کی پندرہ سالہ کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ہے جب کہ اس موقع پر گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان،صوبائی وزیر صحت وخزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسرڈاکٹر ضیاء الحق اور رجسٹرار پروفیسر داکٹر محمد سلیم گنڈاپور کے علاوہ یونیورسٹی کے تینوں سابق وائس چانسلرز،ڈینز،مختلف اداروں کے سربراہان، فیکلٹی،ایڈمن سٹاف اور طلباء وطالبات کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ڈاکٹرزکو اِنسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر مناسب منصوبہ بندی اور بہتر طرز حکمرانی کے فقدان کے باعث70 اور 80 کی دہائیوں میں قیمتی انسانی سرمایہ اور وسائل پاکستان سے باہر منتقل ہوئے جس کا خمیازہ پوری قوم کو معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں بے پناہ مسائل کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہندمند افراد کی ضرورت ہے، ہمیں باہنر اور تعلیم یافتہ انسانی وسائل ملک کے اندر ہی استعمال کرنے چاہئیں البتہ ہماری اپنی ملکی ضروریات پوری ہونے کے بعد ان وسائل کو بیرون ملک بھیجنے میں کوئی مذائقہ نہیں ہوگا۔صدر مملکت نے کہا کہ طب ایک باوقاراور مقدس پیشہ ہے اور اسے محض کمائی کا ذریعہ بنانااس پیشے کی توہین اور ناانصافی ہے۔ٹیلی ایجوکیشن اور ٹیلی میڈیسن کو ماضی میں نطر انداز کیا گیا لیکن کورونا کے دوران ان شعبوں کی اہمیت مزید ابھر کر سامنے آئی ہے،ترقی یافتہ حتیٰ کہ بعض ترقی پذیرممالک میں بھی ٹیلی ایجوکیشن اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے بہترین تدریسی اور طبی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔صدر مملکت کاکہنا تھا کہ تعلیم اور علم کا وسیع ذخیرہ آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود ہے البتہ ضرورت اس سے استفادے کی ہے جس کے لیئے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سے نہ صرف ہسپتالوں پر مریضوں کا عمومی بوجھ کم کیاجاسکتا ہے بلکہ اس سے معاشرے کے غریب طبقات کو علاج معالجے کی آسان اور سستی سہولیات بھی ان کی دہلیز پر فراہم کی جاسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں علاج سے ذیادہ توجہ بیماریوں سے بروقت بچاؤ اور امراض کے تدارک پر مرکوز کرنی چاہیے،پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں امراض سے بچاؤ کی حکمت عملی اپنانے کے انتہائی مفید اور دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں جس سے نہ صرف شعبہ صحت پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے کثیر ملکی وسائل کی بچت بھی ممکن ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کے نوزائیدہ بچوں کوغذائیت میں کمی اور ذہنی و جسمانی کمزوریوں کاسامنا ہے جس پر قابو پانے کیلئے ہمیں ڈبہ بند دودھ کی بجائے ماں کے دودھ اوربچوں کی خوراک کی قدرتی ضروریات کی فراہمی پر توجہ دینی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے میڈیکل سائنس میں بے پناہ تبدیلیاں آرہی ہیں جن سے مستفید ہونا نہ صرف وقت کا تقاضہ ہے بلکہ یہ ملک کی ترقی کے لیئے بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت نولاکھ نرسز اور پیرامیڈیکس کی ضرورت ہے جب کہ ان کی موجودہ تعداد محض 25ہزار ہے لہٰذا توقع ہے کہ کے ایم یو خیبر پختونخوا کی ھد تک نرسز اور پیرامیڈیکس کی تیاری میں جوکردارادا کررہی ہے اس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوں گے۔صدر مملکت نے کہا کہ انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ جدید ٹولز اور ٹیکنالوجی اپنا کر بیماریوں کی شرح اموات کو کافی حدتک کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں ترقی کیلئے ہر شعبے میں رویوں میں تبدیلی لانے کے لیئے بڑے پیمانے پر ذہن سازی کی ضرورت ہے۔قبل ازیں تقریب سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے بھی خطاب کیا جب کہ یونیورسٹی پہنچنے پر صدر مملکت نے لان میں پودالگانے کے علاوہ اکیڈیمک بلاک کاافتتاح کیااور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے ان کے سامنے یونیورسٹی کی گزشتہ پندرہ سالہ کارکردگی اور خدمات کی تفصیل پیش کی۔#

مزید :

صفحہ اول -