اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کا استفسار

اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟اسلام ...
اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کا استفسار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سائفر کیس میں جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی انٹراکورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ جیل وزٹ کے دوران ہم نے دیکھا تھا کہ وہاں ایک ہال ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ میڈیا، فیملی ، پبلک اگر جیل ٹرائل دیکھنا چاہے تو ان کو اجازت ہونی چاہئے، سب دیکھیں گے اس کیس میں جرم موجود ہی نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزارت قانون نے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا این او سی جاری کیا،جیل سماعت کیخلاف درخواست پر 12ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیاگیا، فیصلہ 16اکتوبر کو سنایا گیا اس دوران وزارت قانون نے مزید 2نوٹیفکیشن جاری کردیئے،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ وزارت قانون نے تو جیل ٹرائل کا  این او سی جاری کیا،ٹرائل جیل میں چلانے سے متعلق اجازت دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ وزارت قانون نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جیل ٹرائل کیلئے خط لکھا،چیئرمین پی ٹی آئی کو اس دوران اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا،3گواہ عدالت کے سامنے پیش کئے گئےہیں۔

سپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ ابھی تک 3گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کئے گئے، عدالت نے کہاکہ اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ جیل وزٹ کے دوران ہم نے دیکھا تھا کہ وہاں ایک ہال ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ میڈیا، فیملی ، پبلک اگر جیل ٹرائل دیکھنا چاہے تو ان کو اجازت ہونی چاہئے، سب دیکھیں گے اس کیس میں جرم موجود ہی نہیں۔