18صدی عیسوی میں ہونے والی جنگ کے دوران فرانسیسی فوجیوں کو لکھے گئے خطوط 265سال بعد بالآخر کھول دیئے گئے

18صدی عیسوی میں ہونے والی جنگ کے دوران فرانسیسی فوجیوں کو لکھے گئے خطوط 265سال ...
18صدی عیسوی میں ہونے والی جنگ کے دوران فرانسیسی فوجیوں کو لکھے گئے خطوط 265سال بعد بالآخر کھول دیئے گئے
سورس: Representational Image

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ اور فرانس کے درمیان 18صدی عیسوی میں ہونے والی جنگ کے دوران فرانسیسی فوجیوں کو لکھے گئے خطوط 265سال بعد بالآخر کھول دیئے گئے۔ نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق یہ خط فرانسیسی فوجیوں کے گھر والوں کی طرف سے انہیں لکھے گئے تھے جو برطانوی فوج نے ضبط کر لیے اور آج تک یہ خط لفافوں میں ہی بند پڑے رہے۔
1750ءکی دہائی کے آخر اور 1760ءکی دہائی کے ابتدائی تین سالوں میں لکھے گئے ان خطوط سے فرانسیسی نیوی کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم ہوئی ہیں۔ ان میں کئی ’لو لیٹرز‘ ہیں جو فوجیوں کی بیویوں نے ان کے نام لکھے تھے۔ ایک خط ان میں شامل ہے جو ایک فوجی کی عمر رسیدہ ماں کی طرف سے لکھا گیا ۔ اس خط میں ماں اپنے فوجی بیٹے کی انہیں خط نہ لکھنے پر سرزنش کرتی ہے۔ 
برطانیہ اور فرانس کی یہ جنگ 1963ءمیں ختم ہو گئی تھی۔ منظرعام پر آنے والا ایک خط 1758ءمیں ایک فرانسیسی جنگی جہاز کے لیفٹیننٹ لوئس چیمبرلین کی بیوی میری ڈوبوسک کی طرف سے اپنے شوہر کو لکھا گیا تھا۔ خط میں خاتون نے لکھا تھا کہ ”میں آپ کو لکھتے ہوئے پوری رات گزار سکتی ہوں۔ میں آپ کی ہمیشہ کے لیے وفادار بیوی ہوں۔ شب بخیر۔ یہ آدھی رات ہے۔ میرے خیال میں اب میرے آرام کرنے کا وقت ہے۔“
کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کے مطابق میری کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے شوہر کے جہاز کو انگریزوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ لوئس کو اپنی بیوی کا یہ خط کبھی موصول نہیں ہوا اور اگلے سال میری کا انتقال ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ جنگ 7سال تک جاری رہی جس میں لگ بھگ 65ہزار فرانسیسی فوجی برطانیہ کے قیدی بنے۔ ان میں سے کچھ بیماری اور غذائی قلت سے مر گئے جبکہ بچ جانے والوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -