گراموفون کوگاؤں والے پیار سے پیٹی یا گانے والی مشین کہتے اور ریکارڈ کو توا کہا جاتا،سوئی گھس جاتی تو پتھر کی سل پر تیکھا کر تے 

 گراموفون کوگاؤں والے پیار سے پیٹی یا گانے والی مشین کہتے اور ریکارڈ کو توا ...
 گراموفون کوگاؤں والے پیار سے پیٹی یا گانے والی مشین کہتے اور ریکارڈ کو توا کہا جاتا،سوئی گھس جاتی تو پتھر کی سل پر تیکھا کر تے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:88
یہ گراموفون کا بھی بڑا عجیب سا قصہ تھا، میرے دادا بڑے رنگین مزاج تھے اور ان کو بھی موسیقی سننے سے زیادہ شوخیاں بگھارنے کا شوق تھا۔ ابا جان نے کسی زمانے میں انھیں یہ گراموفون خرید کر لادیا تھا۔ وہ بلا مبالغہ آدھی چارپائی جتنا بڑا اور بہت ہی وزنی تھا، جس کو اٹھانے اور اٹھوانے کے لیے 2 بندوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ گراموفون کا لفظ ان کی زبان پر نہیں چڑھتا تھااس لیے گاؤں والے پیار سے اسے پیٹی یا گانے والی مشین کہتے تھے۔ اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے لکڑی کے چوکور ڈبوں میں لاکھ کے بنے ہوئے درجنوں ریکارڈ ہوتے تھے جنہیں توے کہا جاتا تھا، جب تک دادا صحت مند تھے وہ گاؤں کے بیچ چوک میں بیٹھ کر اس پیٹی سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے، ابا جان کو سرکاری نوکری نے اتنا وقت اور موقع ہی نہ دیا کہ وہ اس سے محظوظ ہو سکتے۔ وہ بیچارے تو اپنے لیے خاص طورپر خریدا ہوا ہارمونیم بھی ٹھیک طرح سے نہ بجا سکے تھے۔ لہٰذا یہ قیمتی اثاثہ براہ راست تیسری نسل یعنی ہماری تحویل میں آگیا تھا۔ اب ہم لوگوں کے لیے ان کا فرمائشی پروگرام پیش کیا کرتے تھے۔ ایک دو ریکارڈ چلانے کے بعد سوئی گھس جاتی تو نئی بدل دیتے یا پھر عدم دستیابی کی صورت میں استعمال شدہ سوئیوں کو پتھر کی سل پر گھس گھس کر تیکھا کر تے اور اس سے زبردستی ایک دو ریکارڈمزید بجوا لیتے، بزرگ زیادہ تر پرانی قوالیاں یا لوک گیت سنتے تھے جس کے آخر میں گانے والا اپنا مکمل تعارف کرواتا تھا کہ ”میں ہوں بھائی دین محمد قوال انبالے والا“۔ پیٹی کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد چابی دینا ضروری تھاتاکہ ریکارڈ مسلسل گھومتا رہے۔ اوپر رکھا ہوا ساؤنڈ بکس کسی پاگل ہدہدکی طرح ریکارڈ پر مسلسل چو نچیں مارتا رہتا تھا۔
بعض دفعہ جب کوئی چابی زیادہ زور سے دے دیتا تو گھرررر…… کی ایک خوفناک آواز آتی اور اس کا سپرنگ، جسے ”پھنّر“ کہتے تھے، ٹوٹ کر کھل جاتا جسے فوراً ہی پیٹی سے نکال کر کسی کے ہاتھ لوہار کی طرف بھیجا جاتا جو اسے ربٹ لگا کر جوڑ دیتا اور یوں آدھے گھنٹے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا۔ یہ محفل موسیقی عموماً یا تو گھر کے باہر بیٹھک کے سامنے بنے ہوئے تھڑے پر سجتی تھی یا گرمیوں کی تپتی دوپہر کو ایک بندہ پیٹی سر پر اٹھا کر ہانپتا کانپتا سکول کی طرف روانہ ہوتا، دو لوگ پیچھے پیچھے ریکارڈوں کے بکسے اٹھا کر چلتے۔ ان کے عقب میں بچوں، کام کاج سے فارغ لوگوں اور بزرگوں کا ایک قافلہ بھی چلتا تھا۔ سکول چھٹیوں کی وجہ سے بند ہوتا تھا اس لیے وہاں گھنے شیشم تلے میز رکھ بیٹھ جاتے اور شام ڈھلے تک محفل جمی رہتی۔ اس تقریب کا دولہا وہ شخص ہوتا تھا جو بڑی احتیاط سے کاغذ کے غلاف میں سے ریکارڈ نکالتا، اس پر بھاپ نما پھو نک مارتا، اور قمیض کے دامن سے اسے صاف کرتا اور پھر ہاتھ میں پکڑ کر اس انتظار میں بیٹھا رہتا کہ کب پہلا گانا ختم ہو تو اسکی باری آئے۔ اور وہ دولہا بھلا کون تھا؟
وقت کے ساتھ گراموفون کی وقعت کم ہو گئی تو اسے کسی کونے کھدرے میں پھینک دیا گیا، کچھ سالوں بعد ایک رنگ ساز کے ساتھ گھر میں سفیدی کروانے کا ٹھیکہ ہوا، وہ قریب کے ہی کسی گاؤں کا تھا اور بچپن سے ہی اس پیٹی سے بڑا متاثر تھا، اس نے انتہائی چالاکی اورفلمی انداز سے ٹھیکے میں سیدھا سیدھاگراموفون ہی مانگ لیا۔ اور بڑی محنت سے رنگ و روغن کا کام مکمل کیا اور جاتے وقت کہا کہ اب طے شدہ محنتانہ یعنی گراموفون اٹھوا کر اس کی سائیکل کے کیرئیر پر رکھوا دیا جائے۔ چنانچہ اس کی خواہش کے مطابق ایسا ہی کیا گیا اور اسے وہاں رکھ کر مضبوطی سے باندھ دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے سائیکل کو دھکیلا اور چھلانگ مار کر اوپر بیٹھنا چاہا، تب ہی یکلخت اس کی قسمت بیوفائی کر گئی اور وہ اپنی دھوتی چین میں پھنسا بیٹھا۔ پھر وہ، سائیکل اور پیٹی تینوں ایک ساتھ ہی گرے تھے۔ سائیکل کو توکچھ خاص نہیں ہوا، دھوتی بھی پردہ پوشی کی حد تک تھوڑی بہت بچ گئی تھی البتہ جہاں دیدہ گراموفون کی موقع پر ہی شہادت واقع ہو گئی۔ اس کے کوئی نصف درجن ٹکڑے ہو گئے اور انجن کھل کر ہواؤں میں بکھر گیا، ٹوٹے ہوئے ریکارڈ بھی دل کے ٹکڑوں کی طرح کوئی یہاں گرا اورکوئی وہاں گرا۔ یوں یہ تاریخی گراموفون انتہائی نامساعدحالات میں اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوا۔ آخر کو ہر شے فانی ہے اور یہ دن بھی آنا ہی ہوتا ہے۔ ٹھیکیدار اتنا بڑا نقصان برداشت نہ کر سکا اور پھر وہیں زمین پر بیٹھ کر وہ ٹوٹ اور پھوٹ کے رویا۔ اشک شوئی کے لیے یہ کیا گیا کہ اس کی مزدوری نقدی کی صورت میں اسے ادا کر دی گئی،اور پھریہ جہاندیدہ گراموفون قصہؐ  پارینہ بن گیا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -