کامیابی یہ نہیں کہ دولت کے انبار اکٹھاکر لیں, ناجائز طریقے سےحاصل کی دولت کو اکثر پَر لگ جاتے ہیں اور لمحوں میں تحلیل ہو جاتی ہے

 کامیابی یہ نہیں کہ دولت کے انبار اکٹھاکر لیں, ناجائز طریقے سےحاصل کی دولت ...
 کامیابی یہ نہیں کہ دولت کے انبار اکٹھاکر لیں, ناجائز طریقے سےحاصل کی دولت کو اکثر پَر لگ جاتے ہیں اور لمحوں میں تحلیل ہو جاتی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:93
حقیقی کامیابی کا تعین اور معیار:
ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں: ”لیکن جیمز (Jomes) نے دھوکے اوربددیانتی کے ذریعے ”تیل کے ذخیرے“ فروخت کر کے بے انتہا دولت کما لی اور اس کی خوش قسمتی کا ستارہ عروج پر پہنچ گیا۔“ لیکن دھوکہ دہی، جعلسازی اور بددیانتی کے ذریعے وقتی اور عارضی طور پر تو کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اور اس ناجائز طریقے کے ذریعے حاصل کی ہوئی دولت کو عام طور پر اور اکثر پَر لگ جاتے ہیں اور وہ لمحوں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ جب ہم کسی دوسرے شخص کا مال و اسباب چوری کرتے ہیں، تو اس وقت ہم ذات میں نقب لگاتے ہیں کیونکہ جب ہم احساس کمتری اور اعتماد کے فقدان کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے اثرات ہمارے بدن، گھریلو زندگی اور دیگر معاملات میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جوکچھ بھی ہم سوچتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں، وہی عملی شکل میں ہمارے سامنے آ جاتا ہے اور عملی صورت میں وہی چیز ہمارے سامنے آتی ہے جس پر ہمارا اعتقاد، ایمان اور یقین ہوتا ہے۔ اگرچہ ایک شخص دھوکہ دہی، جعلسازی اور بددیانتی کے ذریعے کامیابی حاصل کر لیتا ہے، دولت کے انبار اکٹھے کر لیتا ہے، تو پھر بھی وہ کامیاب نہیں ہے۔ جس کامیابی، امارت اور دولتمندی میں ذہنی سکون کا عنصر شامل نہیں ہے، اسے کامیابی، امارت اور دولتمندی نہیں کہا جا سکتا۔ وہ دولت کسی کام کی نہیں ہے جس دولت کی موجودگی میں انسان نہ تو چین کی نیند سو سکے، بیماریوں اور امراض کا شکارہو جائے اورہر وقت احساسِ جرم میں گرفتار رہے۔
میں لندن میں ایک ایسے شخص سے واقف تھا جس نے مجھے اپنی تباہی و بربادی کی کہانی سنائی۔ وہ ایک پیشہ ور جیب تراش تھا اور اس نے اس طریقے کے ذریعے بہت سی دولت اکٹھا کر لی تھی۔ موسم گرما میں وہ فرانس اپنے گھر چلا جاتا تھا اور وہ برطانیہ میں ایک شاہانہ زندگی بسر کرتا تھا۔ اس کی داستان یوں تھی کہ وہ مستقل طور پر پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے خوف میں مبتلا رہتا تھا۔ اندرونی طو رپر اس کی ذات بے شمار نقائص اور کمزوریوں کا شکار تھی جس کے باعث وہ حقیقی طورپر احساس جرم میں مبتلا رہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے یہ دولت ناجائز ذرائع، دھوکہ دہی، بددیانتی اور جعلسازی کے ذریعے کمائی ہے۔ جرم کے گہرے اور شدید احساس کے باعث اسے بے شمار تکالیف لاحق ہو چکی تھیں۔ بالآخر اس نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور قید کی سزا بھگتی۔ قید بھگتنے کے بعد اس نی نفسیاتی اور روحانی رہنمائی اور مشاورت حاصل کی اور اس کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی۔ اس نے اپنے لیے ایک مہذب، شائستہ اور جائز ذریعہ معاش تلاش کرلیا او روہ ایک ایماندار، قانون پسند شہری بن گیا۔ اس نے اپنی پسند کا پیشہ اختیار کر لیا اور ہنسی خوشی زندگی بسرکرنے لگا۔
ایک کامیاب شخص اپنے کام، اپنے پیسے سے محبت کرتا ہے، اسے پسند کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اور برملا اظہار کرتاہے۔ کامیابی یہ نہیں کہ آپ دولت کے انبار اکٹھاکر لیں بلکہ کامیابی تو یہ ہے کہ آپ اپنا پسندیدہ پیشہ اور ذریعہ معاش تلاش کر لیں جس کے ذریعے آپ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ انسانیت کیلئے بھی بھلائی کا کام کر سکیں۔ ایک کامیاب شخص وہ ہے جو عظیم نفسیاتی اور روحانی فہم اور بصیرت کا مالک ہے۔ آج کے دور کے بہت سے عظیم صنعتکار اپنی کامیابی کیلئے اپنے تحت الشعوری ذہن کے صحیح اور بروقت استعمال پر انحصار کرتے ہیں۔
کافی عرصہ پہلے ایک نہایت دولت مند شخص فلیگلر (Flager) کے متعلق ایک مضمون شائع ہوا۔ فلیگلیر تیل (پٹرول) کی کاروباری دنیا کی ایک مشہور و معروف شخصیت تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس کی کامیابی کا راز اس کی یہ صلاحیت و قابلیت تھی جس کے ذریعے وہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل کے ضمن میں تمام تفصیلات کو قبل از وقت محسوس کر لیا کرتا تھا۔ مثال کے طو رپر فلیگلیر ہی کے معاملے کو اگر ہم پیش نظر رکھیں۔ اس نے اپنا منصوبہ شروع کرنے سے پہلے تخلیلاتی منصوبہ اپنایا۔ اس نے ایک تنہا اور خاموش کمرے میں بیٹھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، تیل (پٹرول) کے ایک بہت بڑے ادارے کے قیام کو تصور اور تخیل کی نگاہوں سے دیکھا، تصور ہی تصور میں پٹرول لانے والی مال گاڑیوں کوپٹڑی پر دوڑتے ہوئے دیکھا، ان کے انجن کی سیٹی کی آواز سنی، انہیں دھواں اگلتے ہوئے محسوس کیا۔ اس کے تحت الشعوری ذہن نے اس کی دعا اور درخواست کو دیکھتے اور اس کی تکمیل کو محسوس کرتے ہوئے، اس کی دعا اور خواہش کو ٹھوس اور عملی شکل میں ڈھال دیا۔ اگر آپ اپنے کسی مقصد کو تخیلاتی اور تصوراتی نگاہوں سے واضح طورپر دیکھ لیتے ہیں تو آپ کو اپنے مقصد کی تکمیل کے ضمن میں درکار لوازمات بھی دستیاب ہو جاتے ہیں، جن کے متعلق آپ کو خبرتک نہیں ہوتی اور یہ سب کچھ آپ کے تحت الشعورکی شاندار اور حیرت انگیز صلاحیت و قوت کی بدولت انجام پاتا ہے۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -