ایک ہفتے میں 1600یہودی انتہا پسندوں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی، رپورٹ

ایک ہفتے میں 1600یہودی انتہا پسندوں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی، رپورٹ

مقبوضہ بیت المقدس(اے این این) فلسطینی شہربیت المقدس کے خلاف یہودیوں کی شرانگیزیوں پر نظر رکھنے والے ایک ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران سولہ سو یہودی انتہا پسندوں نے مسجد اقصی میں گھس کراس کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔ رپورٹ کے مطابق سال رواں کے آغازسے اب تک نو ماہ میں چھ ہزار یہودی قبلہ اول کے تقدس کو پامال کر چکے ہیں۔بیت المقدس میں قائم مرکزاطلاعات برائے وادی حلوہ۔ سلوان کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین کے اس تاریخی شہر میں انتہا پسند یہودیوں کی شرمناک سرگرمیوں میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ گذشتہ مہینے میں اسرائیلی فوج نے یہودیوں کے مذہبی تہواروں کی آڑ میں مسجداقصی سات مرتبہ مسلمان نمازیوں کے لیے بند کی۔ یہ شرمناک اقدام فلسطینیوں کی مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی شرپسندانہ کارروائیوں میں اضافہ صرف انتہا پسند گروپوں کی حد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس شرارت میں اب اسرائیلی سیاست دان، اراکین کنیسٹ، صہیونی ریاست کی مسلح افواج کے اعلی افسران، پولیس اور طبقہ ہائے فکرکے تمام یہودی شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ مسجد اقصی پر دھاوے بولنے والوں میں مذہبی انتہا پسندوں کے علاہ بڑی تعداد میں صہیونی سیاست دانو، فوجی و پولیس افسروں اور حکومتی وزرا بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں عبرانی سال نو کی تقریبات اور کئی دوسری مذہبی تقریبات کےلیے ماضی کے برعکس غیرمعمولی تعداد میں مسجد اقصی میں دیکھے گئے۔ ماہ ستمبرمیں 1595یہودیوں نے مسجد اقصی میں گھس کر اس کی بے حرمتی کی اور نام نہاد تلمودی تعلیمات کی آڑ میں وہاں پر موجود فلسطینی نمازیوں کو زدو کوب کرتے رہے۔ مسجداقصی میں داخلے کی یہودیوں کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کے قبلہ اول کی جگہ مذعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ مذہبی انتہا پسندوں کےساتھ آنے والے ان کے یہودی پشواں کی جانب سے مسجد اقصی میں بیٹھ کر ہیکل سلیمانی کی اہمیت اور اس کی تعمیر کی ضرورت پر روشنی ڈالی جاتی۔ یوں یہودیوں کو بالواسطہ طور پر مسجد اقصی پریلغار کرنے اور اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے اکسانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

مزید : عالمی منظر