عباس ملیشیا نے حماس کے شہید رہنما کا بیٹا اشتہاری قرار دے دیا

عباس ملیشیا نے حماس کے شہید رہنما کا بیٹا اشتہاری قرار دے دیا

نابلس (اے این این) فلسطینی صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی فورسز نے اسلامی تحریک مزاحمت(حماس) کے شہید رہنما کے فرزند کو اشتہاری قرار دے کر اس کی گرفتاری کےلئے چھاپے مارنے شروع کر دیئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کے روز عباس ملیشیا نے نابلس شہر میں 21 سالہ بکر کی گرفتاری کےلئے اس کے گھر میں چھاپہ مارا تاہم گھر پر نہ ہونے کے باعث وہ گرفتاری سے محفوظ رہا ہے۔فلسطینی مجلس قانون ساز کی رکن اور حماس کے شہید رہ نما جمال منصور کی بیوہ منی منصور نے میڈیا کو بتایا کہ نابلس میں اس کے بیٹے کی گرفتاری کےلئے عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتےہوئے عباس ملیشیا کے غنڈہ گرد گھر میں گھس گئے اور کئی گھنٹے چیزوں کی الٹ پلٹ کرتےرہے۔منی منصور کا کہنا تھا کہ چھاپے کے دوران عباس ملیشیا کے غنڈوں نے بتایا کہ وہ بکر جمال منصور کو حراست میں لینے کے لیے آئے ہیں۔ اسے فوری طور پر حکام کے حوالے کردیا جائے۔ اشتہاری نوجوان کی والدہ نے عباس ملیشیا کے اس طرز عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بے گناہ شہریوں اور طلبا کو ہراساں کرنے کا سیکیورٹی اداروں کو کوئی جواز نہیں ہے۔

 بکر ایک طالب علم ہے اور اسے اشتہاری قرار دینے سے عباس ملیشیا کی بدنیتی کھل کرسامنے آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی انٹیلی جنس اور پولیس صرف اس کے بیٹے کے درپے نہیں بلکہ وہ مغربی کنارے کی جامعات اور اسکولوں کے طلبا کا بھی مسلسل تعاقب کرکےصہیونی دشمن کو خوش کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ان کے جبرو تشدد سے اساتذہ اور معاشرے کے قابل احترام لوگ بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔خیال رہے کہ 21سالہ بکر جمال منصور نابلس میں النجاح نیشنل یونیورسٹی میں "اکنامک کالج" میں سال چہارم کے طالب علم ہیں۔ اس کے والدہ کو 31مئی 2001 کو اسرائیلی فوج نے نابلس میں حماس کے ایک دفتر پر میزائل حملے میں شہید کردیا تھا۔ اسرائیل کی اس وحشیانہ ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں دو بچوں سمیت آٹھ افراد جام شہادت نوش کرگئے تھے، جن میں جمال منصور بھی شامل تھے۔

مزید : عالمی منظر