حماس کی چیک سفارت خانہ کی القدس منتقلی کے فیصلے پر کی شدید الفاظ میں مذمت

حماس کی چیک سفارت خانہ کی القدس منتقلی کے فیصلے پر کی شدید الفاظ میں مذمت

غزہ (اے این این) جمہوریہ چیک کی جانب سے اسرائیل میں قائم اپنا سفارت خانہ تل الربیع (تل ابیب) سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر فلسطین میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے پارلیمانی لیڈر صلاح الدین بردویل نے جمہوریہ چیک کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی اور القدس میں فلسطینی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے،حماس کے ترجمان اور جماعت کے سیاسی چہرہ "اصلاح وتبدیلی" کے سربراہ صلاح الدین بردویل نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ حماس کو جمہوریہ چیک کے ایک متنازعہ فیصلے کی اطلاع ملی ہے۔ وہ اطلاع یہ ہے کہ جمہوریہ چیک اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنا چاہتا ہے۔

 حماس اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے اسے مسترد کرتی ہے۔ ہماری جانب سے جمہوریہ چیک کی حکومت کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ اس کا یہ فیصلہ نہ صرف عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بیت المقدس میں عربوں اور فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی ہے۔ اس اقدام کو مذہبی، سیاسی اور ثقافتی کسی پہلو سے درست نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔حماس رہ نما نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے خاموش تماشائی اور دشمن سے بے مقصد مذاکرات کی رٹ کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل سے مذاکرات صہیونی جرائم کی پردہ پوشی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل بیت المقدس کو یہودیانے اور دیگر شہروں میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔حماس نے جمہوریہ چیک کو بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرانے سے روکنے کے لیے عرب اور مسلمان ملکوں سے ٹھوس کردار ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بردویل کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کی جانب سے چیک ریپبلک پر دبا ڈالا جانا چاہیے تاکہ وہ بیت المقدس کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کا حصہ نہ بنے۔

مزید : عالمی منظر