باپ نمبری، بیٹا دس نمبری

باپ نمبری، بیٹا دس نمبری
باپ نمبری، بیٹا دس نمبری

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مذہبی گرو آسام رام باپو کے خلاف ایک نابالغ لڑکی سے جنسی زیادتی کے الزام اور جیل جانے کے بعد ان کےبیٹے کے خلاف بھی ریپ کے مزید الزامات سامنے آئے ہیں۔

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے جودھپور آشرم میں جنسی زیادتی کے ایک الزام کے بعد اب آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں پر ریاست گجرات کے معروف شہر سورت میں جنسی زیادتی کا نیا کیس درج ہوا ہے۔بی بی سی کے مطابق یہ تازہ کیس دو سگی بہنوں نے درج کرایا ہے۔سورت کے جہانگیر پورہ تھانے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق آسا رام باپو نے بڑی بہن جبکہ ان کے بیٹے نارائن سائیں نے چھوٹی بہن سے جنسی زیادتی کی۔پولیس کے مطابق اس ایف آئی آر میں آسارام کی بیوی اور بیٹی کے نام بھی شامل ہیں۔ایف آئی آر میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ہندو مذہبی گرو آسا رام کے آشرم میں ان دونوں بہنوں کو آیورویدک (جڑی بوٹیوں سے یونانی قسم کی) دوائیں بنانے کا کام دیا گیا تھا جہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا رہا، دونوں بہنوں کی اب شادی ہو چکی ہے۔بڑی بہن کے مطابق آسارام نے احمد آباد کے موٹیرا آشرم میں 2001 سے 2007 کے درمیان انہیں کئی بار ریپ کیا۔چھوٹی بہن کی شکایت کے مطابق آسارام کے بیٹے نارائن سائیں نے سورت کے جہانگیر پورہ آشرم کے علاوہ ،بہار کے پٹنہ آشرم، نیپال کے کھٹمنڈو آشرم اور مدھیہ پردیش کے میگھ نگر آشرم میں ان کا ریپ کیا۔ایف آئی آر کے مطابق چھوٹی بہن 2002 سے 2004 تک آشرم میں سادھوی (روحانی طالبہ) رہیں۔ چھوٹی بہن کو تھوڑے عرصے کے لیے آسارام کے ہمت نگر آشرم کی منتظمہ بھی بنایا گیا تھاجبکہ بڑی بہن آسارام کے آیورویدک دوائیں بنانے کے کارخانے میں دوا بنانے میں مدد کرتی تھیں۔دونوں بہنوں کا الزام ہے کہ انہوں نے جب ان کے جبرو ظلم کی مخالفت کی تو انہیں پریشان کیا گیا اور بعد میں چوری کے جھوٹے الزام لگا کر انھیں آشرم سے نکال دیا گیا۔بڑی بہن تقریبا دس سال تک آسارام کے آشرم میں سادھنا یا عبادت میں مشغول رہیں لیکن 2007 میں انہوں نے آشرم چھوڑ دیا۔سورت کے پولیس کمشنر راکیش ستھانہ نے آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس