"معیشت کی بحالی ، عوام کی بدحالی"

"معیشت کی بحالی ، عوام کی بدحالی"

                                کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی اس کی معاشی ترقی اور استحکام سے منسلک ہوتی ہے۔ جس ملک میں معاشی بحران ہوتے ہیں وہاں چاروںجانب مہنگائی ، بے روزگاری اور جرائم کے طوفان ہوتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تیل و بجلی کی قیمتیں پہلے سے کمزور و لاچار لوگوںپر یقینا بجلی کی طرح گری ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بے بس انسانوں پر بوجھ ڈالنے والے سکون سے نہیں رہتے۔ حال ہی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پچھلے 65سالہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں ۔ یہ جملہ اخبارات او ر ٹی وی چےنل کی زینت بن چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام تر خرابیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ عوام جس نے میاں نوازشریف صاحب کو ریکارڈ ووٹ دے کر ملک کا سربراہ منتخب کیا وہی اتنے تلخ فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟

میاں نوازشریف صاحب نے اپنے بیانات میں ملک بچانے اور اس میں موجو د بحرانوں کے خاتمہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی بات کی ہے۔ کیا یہی وہ حل ہیں ؟ یقینا کوئی مجبوری ہو گی جس کی وجہ سے یہ تلخ فیصلے ہوتے چلے جار ہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان فیصلوں نے عوام کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ کوئی بھی پارٹی یا حکمران اقتدار میں آتے ہی یہ راگ الاپنا شرو ع کر دیتا ہے کہ مسائل بہت زیادہ ہیں اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہماری معیشت تباہی کے دہانے ُپر کھڑی ہے ، خزانہ خالی ہے اور ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ وہ سب جملے اور بیانات ہیں جنہیںہم ہمیشہ سنتے رہتے ہیں۔ اب تو عوام نے بھی سنی کو ان سنی کر نا شروع کر دیا ہے۔ مطلب عوام مسائل میں اس قدر گھر چکے ہیں کہ اب لوگوں نے بھی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی طرح اہم ترین مسائل کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں قدرتی وسائل کی بھر مار ہونے کے باوجود مسائل کے انبا ر نظر آتے ہیں ۔ اقتدار میں آنے والا ہر شخص یا پارٹی نہ امیدی اور اندھیروں کی با ت کرتی ہے ۔ ملک میں موجود تمام تر مسائل کا حل زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو مہنگا کر کے عام آد می پر بوجھ ڈال کر کرتی ہے۔

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں ارد گرد نظر دوڑائیں تو دل دکھی ہو جاتا ہے ۔ کہیں بیٹیاں بھوک اور جہیز نہ ملنے کے ڈر سے خودکشیاں کر رہی ہیں تو کہیں حالات کے مارے والدین اپنی اولاد کو دریاﺅں میں پھینک کر زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کرتے ہیں ۔ نوجوان نسل ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اسلحہ پکڑ رہی ہے۔ خواتین اپنا گھر چلانے کے لیے اپنی عصمت کو پامال کرنے سے بھی دریغ نہیںکر رہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مفلسی بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے اورجب گناہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو وہ گناہ کبیرہ کی طرف لے جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گناہ کبیرہ ناقابل معافی عمل ہے۔ اس سے پہلے کہ عوام کے اندر بڑھتے ہوئے غصے ، لاچاری اور بے بسی موت کی شکل اختیار کر جائے حکمرانوں کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی مسائل سے آگاہی حاصل کرےں ۔ اگر انہوں نے معیشت کی بحالی کو عوام کی بدحالی سے منسوب کیے رکھا تو پھر ملک میٹرو بس یا پھر ٹرنیوں سے نہیں چلتے۔ ملکوں میں زندہ انسان امن کے ساتھ رہیں تو وہ ملک کہلاتے ہیں۔

ہم سب بحیثیت پاکستانی یہ چاہتے ہیں کہ ملک میںخوشحالی آئے و معاشی استحکام آئے لیکن اس کے لیے مہنگائی کا بوجھ یا ٹیکسز کی بھرمار کا طریقہ نہیں بلکہ ملک میںموجود قدرتی و تکنیکی وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ اللہ رب العزت نے پاکستان کو زراعت،معدنیات اور بے شمار قدرتی نعمتوں سے سرشار کیا ہے ۔ لہذا موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں موجود بہترین معیشت دانوں کو اکٹھا کرکے ان سے مشاورت کریں کہ پاکستان اور عام آدمی کو کیسے ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ چونکہ مہنگائی کے جن کو قابو نہ کیا گیا تو بے بس اور لاچار عوام دہائی دیتے ہوئے حکومت کی رسوائی کی وجہ بھی بن سکتے ہیں ۔ اور جب عوام سڑکوں پر آتے ہیں تو ججز کی بحالی جیسے ناممکن عمل حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ موجودہ حکومت ایک عوامی جمہوری حکومت ہے جسے عوام نے بھاری مینڈیٹ دے کر منتخب کیا ہے۔

کوئی بھی قوم جب کسی کا انتخاب کرتی ہے تو ان کے کچھ جذبات ہوتے ہیں لہذا حکومت وقت کو چاہیے کہ عوام کے جذبات کو ہرگز مجروح نہ کیا جائے کیونکہ جذبات احساسات پیدا کرتے ہیں اور احساسات آراءبنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس لیے موجودہ حکومت کو معیشت کی بحالی کے لیے عوام کی بدحالی کی بجائے کچھ ایسے اقدامات کرنے چاہیں کہ جس سے عام آدمی کی رائے مثبت پہلوﺅں کو اجاگر کرے نہ کہ منفی اندھیروں کی ترجمانی ۔ اپنی بات کو ختم کرنے سے پہلے میاں صاحب کے لیے تجویز ہے کہ اپنے ترجمانوں کے علاوہ کچھ معاشی دیوانوں سے ضرور مشاورت کریں چونکہ کبھی کبھی مشورہ کرنے سے مسائل کا آسان حل مل جاتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ معیشت کی بحالی عام آدمی کی بدحالی کے بغیر بھی ممکن ہو سکے۔  ٭

مزید : کالم