پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات نتیجہ خیز کیوں نہ ہوئی؟

پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات نتیجہ خیز کیوں نہ ہوئی؟
پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات نتیجہ خیز کیوں نہ ہوئی؟

  

                                                                                اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 68ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات کا پوری دنیا کو انتظار تھا کہ شائد اس ملاقات کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کے دروازے ایک بار پھر کھل جائیں گے، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہورہی تھی ،جب حال ہی میں بھارت میں انتہا پسند جنونی ہندوﺅں کی جانب سے نہ صرف پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا ،بلکہ بھارتی فوج نے بھی مسلسل سرحدی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے گولہ باری اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید ہوئے دوسری وجہ بھارتی وفد کا سرد مہرانہ رویہ تھا، جنہوں نے اس پورے دورے میںکوئی خیر سگالی کے جذبات کی بات نہیں کی، بلکہ منموہن سنگھ نے تو اپنی تقریر میں پاکستان کو دہشت گردوں کی آماج گاہ قرار دے کر گویا کھل کر یہ اظہار کر دیا کہ کوئی ان سے خیر کی توقع نہ رکھے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب نے کافی کھلے دل کا مظاہرہ کیا اور اپنے خطاب میں بھارت کی کسی بھی شرارت کا تذکرہ نہ کر کے یہ ثبوت دیا کہ وہ ان تمام معاملات کو آپس میں مل بیٹھ کر بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ان کے منموہن سنگھ سے ملاقات کے پروگرام کو بار بار تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم سے ان کے ہوٹل میں جاکر ملاقات کی جہاں پر بھارتی وزیراعظم تمام وقت دہشت گردی کا ہی رونا روتے رہے اور پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے رہے، جس کے جواب میں میاں نواز شریف نے بھی بھارت کو بجاطور پر باور کرایا کہ پاکستان دہشت گرد نہیں، بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور بھارت پاکستان پر یہ الزامات لگانے کی بجائے بلوچستان میں دہشت گردی بند کرائے اور کشمیر ، سیاچن اور سرکریک جیسے معاملات کو حل کرنے میں سنجیدگی دکھائے۔

یہ ملاقات ایسے ماحول میں ہوئی ،جس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ بعد میں دونوں وزرائے اعظم مشترکہ اعلامیہ تو دور کی بات، مشترکہ پریس کا نفرنس بھی نہ کر سکے۔ اس طرح یہ ملاقات کسی نتیجے کے بغیر اپنے اختتام کو پہنچ گئی ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بات چیت کا مینڈیٹ دے کر بھیجا ہی نہیں گیا تھا، اس کی دو بڑی وجوہات ہیں....ایک تو یہ کہ منموہن سنگھ اپنے وزارت عظمیٰ کے بالکل آخری ایام گزار رہے ہیں اور وہ پاکستان کے ساتھ نئی پالیسی کو نئی حکومت پر چھوڑنا چاہتے تھے، دوسری وجہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی شکل میں ایک ایسا جنونی ہندو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جس کا سینہ اسلام اور پاکستان کے خلاف نفرت سے بھرا ہوا ہے، جس کا اظہار وہ آئے روز عوامی اجتماعات میں کرتا رہتا ہے۔ بھارت میں ایسے شخص کا وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننا بھارتی عوام کی سوچ کی واضح طور پر عکاسی کر رہا ہے، جس کے اپنے ہاتھ پانچ ہزار سے زائد مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ایسے میں ایک سکھ رہنما کیسے ہندﺅوںکے غم و غصے کو برداشت کر سکتا تھا، لہٰذا اس نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا، لیکن افسوس کہ پاکستان اور بھارت کے میڈیا نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس ملاقات کو موثر بنانے میں سازگار ثابت ہوتا۔

ملاقات کے دنوں میں دونوں ملکوں کے دو معروف ٹی وی چینلوں نے ایک مشترکہ اکھاڑہ نما پروگرام چلائے رکھا، جس نے دونوں طرف کے عوام کو مزید مشتعل کیا، جس کا اندازہ سوشل میڈیا کو قریب سے دیکھنے والوں کو خوب اچھی طرح ہوا ہو گا، حالانکہ اگر مذاکرات مقصد تھا تو اس کے لئے ضرورت اس بات کی تھی کہ دونوں ممالک سابقہ رنجشوں کا احسن طریقے سے حل نکالنے کے لئے ان پر زور دیا جاتا، لیکن اس ٹاک شو میں اختلافات کی آندھی کو مزید بھڑکایا گیا۔ یہاں پر پاکستان کے ایک معروف اینکر صاحب کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا تذکرہ بھی کرنا ضروری ہے، جس نے ایک پاکستانی ٹاک شو میں یہ کہہ دیا کہ میاں نوازشریف نے ناشتے کی میز پر کہا کہ ”منموہن سنگھ تو ایک دیہاتی عورت کی طرح صدر اوباما کو شکایتیں لگا رہے ہیں“۔ یہ میاں نواز شریف کے ساتھ منسوب ایک ایسی بات تھی، جو انہوں نے کی ہی نہیں تھی، جس کا ثبوت وہاں پر موجود این ڈی ٹی وی کی اینکر برکھادت نے اپنی ٹویٹ میں یہ کہہ کر دیا کہ میاں نواز شریف نے ان کی موجودگی میں ایسی کوئی بات نہیں کی، بلکہ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ ایک اچھے انسان ہیں اور وہ ان کا استقبال کرنا چاہتے ہیں۔

ایک اور پاکستانی صحافی ابصار عالم نے بھی ایسی کسی بات کے ہونے کی تردید کی، اگرچہ بعدازاں حامد میر نے بھی یہ ٹویٹ کیا کہ میاں نواز شریف نے منموہن سنگھ کے بارے میں کوئی توہین آمیز الفاظ استعمال نہیں کئے، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس غلط اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے بھارت میں تلخی میں بہت اضافہ ہوا اور منموہن سنگھ، جو پہلے ہی بہت دباﺅ میں تھے، ان کے لہجے میں مزید تلخی آ گئی۔ اس غیرذمہ دارانہ رپورٹنگ پر اوورسیز پاکستانیوں میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ایسے میڈیا پرسنز کو مہنگے دورے کروانے کی بجائے یہ تحقیقات کرے کہ ایسے لوگ مذاکرات کے ماحول کو خراب کر کے کس کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں؟یہ کون لوگ ہیں جو عین وقت میں بے بنیاد اور زہریلا پروپیگنڈہ کر کے ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں، جب ہم طالبان یا بھارت سے مذاکرات کر کے مسائل حل کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم