”زمیندار“ کے اداریوں پر مشتمل تیسری جلد کی تکمیل

”زمیندار“ کے اداریوں پر مشتمل تیسری جلد کی تکمیل
”زمیندار“ کے اداریوں پر مشتمل تیسری جلد کی تکمیل

  

                                        برطانوی دور کے ہندوستان کی تاریخ کا ایک نہایت اہم ماخذ اس دور کے اخبارات و رسائل ہیں، ان میں نمایاں ترین اخبار ”زمیندار“ ہے، جو مولانا ظفر علی خان کی ادارت میں آزادی کی صبح طلوع ہونے کے چند سال بعد تک باقاعدگی سے چھپتا اور غلاموں کا لہو گرماتا رہا۔ حق گوئی کی پاداش میں یہ اخبار کئی بار زیر عتاب آیا۔ کبھی کسی خبر سے، کبھی مولانا کی کسی نظم سے اور کبھی کسی اداریے سے انگریز حکومت کا چہرہ پُرشکن ہو جاتا، مولانا ظفر علی خان کو جیل بھیج دیا جاتا اور اخبار سے نئی مالی ضمانت طلب کی جاتی۔ مولانا استقامت کا کوہِ گراں تھے، جھکنے کا سوال ہی نہ تھا۔ دوسری طرف زمیندار کے قارئین کا حلقہ ہندوستان گیر تھا۔ انہیں ”زمیندار“ کی ایک روز کی بندش بھی گوارا نہ تھی، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ضمانت کی رقم جمع ہو جاتی اور اخبار اگلے روز سٹالوں پر موجود ہوتا تھا۔

چند سال سے چونکہ ہمارے ملک میں یونیورسٹی سطح کی تعلیم کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لئے تاریخ اور سیاست کے شعبوں میں تحقیق کا کام بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ برطانوی دور کے کسی بھی پہلو کو موضوع تحقیق بنایا جاتا ہے تو ریسرچر کو اس دور کے اخبارات دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جب اسے ان اخبارات کے فائل سلامت نہیں ملتے تو اسے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جب کوئی تحریک چلتی تھی یا انگریز حکومت کوئی خاص اقدام کرتی تھی یاکسی آئینی مسئلے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا تھا، تو اخبارات کے اداریوں میں ان مسائل پر کیا تجزیہ کیا جاتا تھا۔

روزنامہ ”زمیندار“ کے فائل بھی کہنگی کا شکار ہونے لگے تھے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ خزینہ ¿ علم وقت کی گرد میں گم ہو جاتا۔ مولانا ظفر علی خان کے جانشینوں نے اسے محفوظ کرنے کا اہتمام کر لیا۔ صورت یہ نکالی کہ پہلے ظفر علی خان ٹرسٹ قائم کیا، پھر اس کے زیر اہتمام زمیندار کے اداریوں کو مرتب کرنے کا لائحہ عمل بنایا۔ پروفیسر احمد سعید جو تاریخ نگاری میں ایک خاص مقام و مرتبہ رکھتے ہیں، انہیں اداریوں کو مرتب کرنے کا کام سونپا۔ ان کی کہولت اب بڑھاپے میں بدل رہی تھی، لیکن وہ جوانوں کی طرح میدان تحقیق میں نکل آئے۔ مَیں جب کبھی ملنے گیا انہیں کام میں غرق پایا۔ 1923ءکے اخبارات کے اداریے تین جلدوں میں مرتب کرنے کا پروگرام تھا، چنانچہ ستمبر 2012ءمیں پہلی جلد شائع ہوئی، جس میں جنوری تا اپریل کے اداریے شامل تھے۔ مارچ2013ءمیں دوسری جلد منصہ شہود پر آئی،جو مئی تا اگست کے دور کا احاطہ کرتی ہے۔ تیسری جلد ستمبر سے دسمبر تک کے دور پر مشتمل ہے۔ تینوں جلدوں کا عنوان ہے: روزنامہ ”زمیندار“ لاہور: مقالہ ہائے افتتاحیہ اور شذرات۔ ہر جلد کی ضخامت پانچ صد صفحات سے زائد ہے۔

کل سہ پہر جب مَیں ظفر علی خان ٹرسٹ گیا تیسری جلد کے با رے میں استفسار کیا تو آفس سیکرٹری جناب محمد علی چراغ نے مذکورہ جلد کی ڈمی میرے سامنے رکھی تو سچی بات ہے آنکھوں کو ٹھنڈک سی مل گئی۔ چراغ صاحب نے بتایا کہ یہ جلد اب پریس چلی گئی ہے ، دو چار ہفتوں میں طباعت کا مرحلہ بھی طے ہو جائے گا۔

مَیں نے چند منٹ کتاب کی ورق گردانی کی تو ذہن فوراً اس دور میں پہنچ گیا، جب مسلمان کیا شرق اوسط میں اور کیا ہندوستان میں ہر کہیں ظلم و جبر کا نشانہ بن رہا تھا۔ عالمی طاقتیں باہم گٹھ جوڑ کر کے ملت اسلامیہ پر بجلیاں گرا رہی تھیں۔ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف انگریز حکومت ہی کے جورو جفا کا ہدف تھے بلکہ متعصب ہندو رہنماﺅں اور تنظیموں کی چیرہ دستیوں کا بھی شکار تھے۔ اس حوالے سے زمیندار کے اداریے یہ حقیقت واشگاف کرتے ہیں کہ ایک اعتبار سے پاکستان تو 1923ءہی میں بن گیا تھا۔ ہندوﺅں میں مسلمانوں کے لئے نفرت کے جذبات انتہا کو پہنچ رہے تھے اور وہ جگہ جگہ اپنے سیاسی کارکنوں کو جسمانی تشدد کرنے کے لئے ٹریننگ بھی دے رہے تھے، بہانے بہانے سے فساد کی آگ بھڑکائی جاتی اور منظم ہو کر مسلمان آبادیوں پر حملے کئے جاتے تھے۔ ان حالات میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو اپنا مستقبل خطرے میں دکھائی دینے لگا تھا۔ ”زمیندار“ کے بے شمار اداریے ہندو مسلم مناقشات ہی کے تجزیوں پر مشتمل ہیں۔ مسلم رہنماﺅں کی سیاست میں ہندوﺅں کے مقابلے میں کوئی جارحیت نظر نہیں آتی۔ وہ صرف دفاعی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کی مسلم دشمن کارروائیاں بھی انہی اداریوں سے خوب کھل کر سامنے آتی ہیں، علامہ اقبال ؒ کے سامنے یہی زخمی عالم اسلام تھا جب انہوں نے کہا تھا:

برق گرتی ہے توبے چارے مسلمانوں پر

”زمیندار“ کے اداریوں میں بیان کا ایسا حُسن ہے کہ آج کے دور کے اخبارات میں کہیں ڈھونڈے سے نہیںملتا۔ مولانا ظفر علی خان آتش بیان شاعر اور خطیب تھے۔ حالات بھی شور انگیز تھے، لیکن ”زمیندار“ کے اداریوں میں نہ خطابت کے دریا بہائے گئے ہیں اور نہ اسلوب بیان پر شور انگیزی غالب ہے، بلکہ بیان کا لہجہ اتنا سنبھلا ہوا اور متوازن ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اداریہ نگاری میں مولانا کو اس وقت کے بہت اچھے اصحاب قلم کا تعاون میسر تھا، جنہیں وقت کے مسائل و افکار کا گہرا ادراک حاصل تھا۔ مولانا کی تربیت نے ان کی صلاحیتوں کو مزید چمکا دیا تھا۔

”زمیندار“ کے اداریوں کے تیور کیسے ہوتے تھے، ذرا اقتباسات ملاحظہ فرمایئے۔ ایک نوٹ ”سیف الملت ڈاکٹر کچلو لاہور میں“ کے عنوان سے ہے۔ اداریہ نگار لکھتا ہے:

”ہمیں خاص ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیف الملت ڈاکٹر کچلو اپنی دو سالہ اسیری کے دورِ ابتلا کو ختم کرنے کے بعد یکم ستمبر کے روز پہلی بار سر زمین لاہور کو اپنے قدوم ِ میمنت لزوم سے مشرف فرمانے والے ہیں۔ باشندگان ِ لاہور سے ہمیںیہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی جلالت ِ منصب اور علوِشان کے پیش ِ نظر ان کا استقبال کس طرح ہونا چاہئے، اس لئے کہ کون سا شخص ہے جس کے دل پر ڈاکٹر صاحب کی عدیم النظیر قربانیاں اور بیش بہا قومی اور ملکی خدمات نقش نہیں ہیں اور کون سا شخص ہے جس کے سینے میں ملک کے اس بلند مرتبت سردار کی محبت و الفت کے جذبات موجزن نہیں ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خلافت و کانگرس پُرجوش استقبال اور شاندار جلوس کی طیاریوں میں مشغول ہیں۔ یہ سطور صرف اس غرض سے حوالہ ¿ قلم کی گئی ہیں کہ عام بھائیوں کو ڈاکٹر صاحب کی تشریف آوری کا علم ہو جائے اور وہ اپنے اس محبوب رہنما کے سامنے اپنی دِلی محبت و عقیدت کے اظہار سے بے بہرہ نہ رہیں جو مذہب کے تقدس و احترام اور ملکی حریت وآزادی کی خاطر دو سال کی قید و بندش کے مصائب برداشت کرنے کے بعد سیدھا پہلی بار لاہور آ رہا ہے اور جس کی ذات ِ گرامی کے ساتھ ملک کی بہت بڑی امیدیں وابستہ ہیں“۔

9ستمبر1923ءکا اداریہ ہے:”فسادات آگرہ.... بدمعاش اور لفنگے ہندوﺅں کی حرکتیں“۔ اس میں یوم عاشور کے موقع پر ہندوﺅں کی طرف سے کی گئی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے اداریہ نگار ایک تیسرے ہاتھ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ظاہر ہے وہ ہاتھ برطانوی حکمرانوں کی خفیہ ایجنسیوں کا تھا جو پس پردہ رہ کر مسلمانوں اور ہندوﺅں کو باہم لڑاتا تھا۔ افسوس کا مقام ہے کہ آزادی کے بعد جب پاکستان میں برطانوی دور کی تاریخ لکھی گئی ہے تو اس میں اس خفیہ ہاتھ کا کہیں ذکر نہیں ملتا، فقط ہندو مسلم تضاد کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ لیجئے اقتباس ملاحظہ فرمایئے:

”جتنے مقامات پر پچھلے دِنوں ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ہوئے ہندوﺅں نے ہر جگہ یکساں طریق ِ کار اختیار کیا۔ وہی کوٹھوں پر چڑھ جانا اور وہی اینٹیں برسانا، وہی بازاروں میں مقابلے سے گھبرانا اور گھروں میں گھس کر وار کرنا، وہی اِکے دُکے مسلمانوں کو لاٹھیوں سے بے دم کر دینا، وہی بچوں، ضعیفوں، عورتوں پر ظلم ڈھانا، غرض یہ تمام فسادات اور ہندوﺅں کی تمام حرکات اپنی تمام تفصیلات میں یکساں ہیں۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ سب ایک ہی زبان اور ایک ہی ہاتھ کے کرشمے ہیں جس نے اس بے چینی اوربے اطمینانی کے عہد سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر ہندوﺅں کو مضبوط بنانے کا تہیہ کر لیا ہے؟ لیکن اس کو معلوم نہیں کہ اینٹوں، لاٹھیوں، بندوق اور لوٹ مار سے کوئی قوم کسی قوم پر اپنا رعب و اقتدار قائم نہیں کر سکتی اور بالخصوص مسلمانوں پر جنہوں نے آج تک خدا کے سوا کسی کا رعب تسلیم ہی نہیں کیا“۔

پروفیسر احمد سعید کے ساتھ ساتھ ہم ظفر علی خان ٹرسٹ کے صدر جناب خالد محمود اور سیکرٹری جناب راجہ اسد علی خان کو تیسری جلد کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسی طرح ”زمیندار“ کے باقی تمام اداریے بھی مرتب مدوّن ہو جائیں گے اور تاریخ نگاروں کے لئے بہت سی آسانیاں فراہم کریں گے!!      ٭

مزید : کالم