امریکی معاشرے میں تشدد اور اس کے اسباب!

امریکی معاشرے میں تشدد اور اس کے اسباب!
 امریکی معاشرے میں تشدد اور اس کے اسباب!

  

                                امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بحریہ کے مرکز میں ایک شخص کی فائرنگ سے بارہ افراد مارے گئے۔ اس واقعہ پر ابھی نصف ماہ گزرا ہے کہ اب پھر واشنگٹن میں ایک اور حادثہ رونما ہوگیا ہے۔ ایک سیاہ کار نے امریکی ایوان صدر (وائٹ ہاو¿س) کی جانب جانے کی کوشش کی اور راستے پر لگی ہوئی رکاوٹوں کو توڑتی ہوئی نکل گئی۔ امریکہ بھر میں حکومتی شٹ ڈاو¿ن کی وجہ سے وہاں پر فرائض انجام دینے والی کیپیٹل پولیس بلا تنخواہ فرائض انجام دے رہی ہے۔ پولیس نے کارکو روکا تو کار نے پارلیمینٹ ہاو¿س کیپٹل ہل کا رُخ کر لیا۔ پارلیمینٹ کی عمارت سے دو بلاک پہلے کار کو روک لیا گیا اور کار ڈرائیور خاتون کو گولی مار دی گئی۔ ایک پولیس والا بھی اس کشمکش میں زخمی ہوا، لیکن اُسے گولی نہیں لگی وہ گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا ہے۔ پارلیمینٹ کے اندر عوامی نمائندے کاروبار حکومت کی بندش کے معاملات پر غور و فکر اور بحث مباحثہ کر رہے تھے۔ فائرنگ کی آوازوں، ہنگامے اور شور کے بعد عوامی نمائندے محفوظ جگہوں پر چلے گئے۔ عمارت کو اندر سے تالے لگا دئیے گئے اور تمام داخلی راستے بھی بند کر دئیے گئے۔ یہ تالہ بندی آدھ گھنٹے تک جاری رہی۔

میڈیا میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ جب خاتون کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا تو اسے گولیاں کیوں ماری گئیں۔ اگر گولی چلانا تھی تو گاڑی کو روکنے کے لئے چلائی جاتی۔ خاتون کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا، جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی پولیس کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ یہ بلا ضرورت اور ضرورت سے زیادہ آتشیں اسلحہ کا استعمال کرتی ہے۔ اس کے برعکس لندن پولیس کی مثال دی جاتی ہے، جس کے پاس آتشیں اسلحہ نہیں ہوتا۔ برطانیہ میں ناردرن آئر لینڈ کی پولیس ہی صرف مسلح ہے۔

امریکہ میں ایک عرصے سے اندھا دھند فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعات ہو رہے ہیں۔ جب ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو آتشیں اسلحہ پر پابندی کے حامی ہتھیاروں پر پابندی کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ آتشیں اسلحے پر پابندی کے مخالفین کی لابی بہت طاقت ور ہے۔ ان کی ایک تنظیم این آر اے (نیشنل رائفلز ایسوسی ایشن) ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور ری پبلیکنز میں این آر اے کا اثر بہت گہرا ہے۔ آتشیں اسلحہ پر پابندی کے مخالف اسے آئینی حق قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی ان وارداتوں کا اسلحے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق معاشرے میں پھیلے ہوئے تشدد پر مبنی لٹریچر، فلموں اور بچوں کی ویڈیو گیمز سے ہے۔ ہو سکتا ہے یہ دلیل مکمل سچ نہ ہو، لیکن بالکل غلط بھی نہیں ہے۔

 بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ کی ناآسودہ زندگی اور نا آسودہ خواہشات کا ہاتھ ہے۔ یہ بھی ایک پہلو ہو سکتا ہے۔ نیوی یارڈ میں فائرنگ کرنے والے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ذہنی طور پر صحت مند نہیں تھا۔

امریکہ میں ذہنی نا آسودگی، اعصابی تناو¿، ذہنی خلجان اور نفسیاتی پیچیدگیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ امریکہ میں اٹھارہ سال سے اوپر کی عمر کے خواتین و حضرات میں سے پچیس فی صد نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہیں اور یہ نفسیاتی اُلجھنیں معمولی درجے کی نہیں ہیں، بلکہ بیماری کی حد تک پہنچی ہوئی ہی۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے اور نوجوان بھی ایسی بیماریوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں خودکشی کا رجحان بھی پایا جاتا ہے، لیکن جب سے امریکی فوجیں عراق اور افغانستان میں گئی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اتنے فوجی دشمن نے نہیں مارے جتنے فوجیوں نے خودکشی کی ہے۔ محاذ سے واپسی کے بعد بھی اکثر فوجی یا تو پُرتشدد واقعات میں ملوث پائے گئے یا پھر اُنہوں نے خودکشی کر لی۔ خودکشی بنیادی طور پر ایک ذہنی خلفشار کا نتیجہ ہے جو لوگ خودکشی کرتے ہیں وہ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اُن کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، حالانکہ دیکھا گیا ہے کہ ان سے زیادہ مشکل حالات کا شکار لوگ مشکل حالات سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور زندہ رہ کر کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔ دنیا بھر میں خودکشی کا رجحان سب سے زیادہ گرین لینڈ اس کے بعد جنوبی کوریا اور لتھوانیا میں ہے۔ بھارت47 ویں نمبر پر ہے پاکستان کا نمبر98 واں ہے۔ امریکہ میں 2010ءمیں اڑتیس ہزار تین سو چونسٹھ لوگوں نے خودکشی کی۔ کار حادثات میں بتیس ہزار چھ سو ستاسی لوگ موت سے ہمکنار ہوئے جبکہ آتشیں اسلحہ سے مارے جانے والوں کی تعداد سولہ ہزار آٹھ سو اُنہتر تھی۔

ڈاکٹر مرکیولا ایلوپیتھک ڈاکٹر ہیں، لیکن وہ دوا ساز کمپنیوں کی ہیرا پھیریوں، منافع اندوزی اور دواو¿ں کے مُضر اثرات کو ظاہر نہ کرنے کے خلاف مہم چلانے میں بہت مشہور ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ پُرتشدد واقعات کے پیچھے صرف نفسیاتی دباو¿، ڈپریشن وغیرہ ہی نہیں ہیں، بلکہ ان کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی دوائیں بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اکثر ڈاکٹر ڈپریشن کی معمولی سی شکایت پر یہ دوائیں استعمال کرانا شروع کر دیتے ہیں جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور ان میں سے بعض دوائیں توڈپریشن کی کیفیت کو بڑھا دیتی ہیں۔ ڈاکٹر مرکیولا کی ویب سائٹ کے مطابق ایک تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں، اعصابی دباو¿ وغیرہ کے لئے استعمال کی جانے والی اکتیس دوائیں ایسی ہیں جو تشدد کے رجحان میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان میں ڈپریش کے لئے استعمال ہونے والی دس دواو¿ں میں سے پانچ ایسی دوائیں ہیں جو تشددViolence کے جذبات کو پیدا کرتی اور بڑھاتی ہیں۔ ڈاکٹر مرکیولا کے مطابق ڈپریشن کے لئے بے حد مقبول دواو¿ںPAXIL اور PROZAC کو اڑھائی سو لوگوں پر آزمایا گیا تو ان میں تشدد کے رجحان کے واضح آثار پائے گئے۔

امریکہ میں اکثر لوگوں کو توجہ کے عدم ارتکاز(ADHD) کی شکایت رہتی ہے۔2011ءمیں اس شکایت کے لئے دوائیں کھانے والوں میں تیس ہزار لوگوں کو ہسپتالوں میں ہنگامی طبی امداد حاصل کرنا پڑی تھی۔ اے ڈی ایچ ڈی کی دواو¿ں کو پچیس ہزار لوگوں پر آزمایا گیا تو ان میں سے اکتیس نے سخت تشدد اور حملہ کرنے کا ثبوت دیا جبکہ ایک نے قتل بھی کر ڈالا۔

چھوٹی عمر میں بچے عموماً تعلیم میں دل چسپی کم ہی لیتے ہیں۔ بعض بچوں کا دل دوران تعلیم بھی کسی اور چیز میں اَٹکا رہتا ہے۔ اس عمر میں بچے بعض ٹی وی ڈراموں یا ویڈیو گیمز کو خود پر اس طرح طاری کر لیتے ہیں کہ وہ ہر وقت انہی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ ایسے بچے جب کلاس میں اساتذہ کی بات کو دلچسپی سے نہیں سنتے اور دل جمعی سے اُس پر توجہ نہیں دیتے تو اساتذہ جھٹ سے اُن کے والدین کو بُلا کر بچے کو عدم ارتکاز توجہ کا مریض قرار دے دیتے ہیں۔ بچے کو نفسیاتی معالج کے پاس بھیجا جاتا ہے اور معالج بچے کو دوائیں شروع کرا دیتا ہے۔ سکول میں اسے الگ کلاس میں بٹھا دیا جاتاہے۔ اس کے ہم جولی بچے الگ کلاس میں بٹھانے کے سبب اسے دماغی مریض یا پاگل سمجھنے لگتے ہیں اور بعض اوقات اسے اس حوالے سے چھیڑتے ہیں۔ بچے کی کیفیت اور بگڑ جاتی ہے اور معالج دوائیں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ ایسے بچے یا تو مستقل ذہنی مریض بن جاتے ہیں یا ہم جولیوں کے تنگ کرنے (Bully) سے تنگ آکر خودکشی کر لیتے ہیں۔ امریکی سکولوں میں بچوں کا بچوں کو تنگ کرنا (Bully) بہت خطرناک معاملہ ہے اس پر گزشتہ سال ایک ڈاکو منٹری فلم بھی آئی تھی، لیکن ابھی تک اس کے تدارک کے لئے کوئی مو¿ثر کوشش نہیں ہو سکی۔ ایسے ہی بچے بعض اوقات انتقام لینے پر بھی تُل جاتے ہیں۔

عدم ارتکاز توجہ کی تشخیص اس قدر آسانی سے کر دی جاتی ہے کہ استاد کی رائے ہی اس سلسلے میں کافی سمجھی جاتی ہے، عموماً نفسیاتی معالج اس سے مختلف رائے نہیں دیتا۔ اُسے اپنی فیس اور دواو¿ں کی فروخت سے دوا ساز اداروں کی طرف سے ملنے والے کمیشن سے غرض ہوتی ہے۔ بچہ عدم توجہی کا مظاہرہ بھی کرتا ہے، لیکن اس کی وجوہات دوسری ہوتی ہیں اور دوائیں اس کی کیفیت میں کوئی سدھار پیدا نہیں کرتیں۔ میرے ایک دوست کے بچے کے بارے میں اس کی استانی نے یہ انکشاف کر کے انہیں پریشان کر دیا، لیکن بچے کی ماں اس بات پر ڈٹ گئی کہ بچے کی عدم توجہی اُس کے بچپن کا حصہ ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں اور وہ بمشکل اپنے بچے کو مریض بنانے سے بچا سکیں۔ اکثر والدین اتنا شعور بھی نہیں رکھتے، ان کے لئے اساتذہ کی بات اور نفسیاتی معالج کی تشخیص حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔

امریکی معاشرے میں پُرتشدد واقعات فائرنگ اور قتل محض اسلحے کی موجودگی سے ہی نہیں ہیں اس کی بہت سی دوسری وجوہات بھی ہیں اور ان وجوہات میں ذہنی بیماریوں کو بہت دخل حاصل ہے۔ خواہ یہ بیماریاں از خود اس کی ذمہ دار ہوں یا علاج کے نام پر استعمال ہونے والی دوائیں اس کی ذمہ دار ہوں۔   ٭

مزید : کالم