یکطرفہ ٹریفک کب تک چل سکتی ہے؟

یکطرفہ ٹریفک کب تک چل سکتی ہے؟
 یکطرفہ ٹریفک کب تک چل سکتی ہے؟

  

                                            ایک سوال جو مجھے اکثر ذہنی الجھاﺅ میں مبتلا کر دیتا ہے، اس کا تعلق اس نکتے سے ہے کہ جمہوری حکومتوں کو پاکستان میں اس قدر چیلنج کیوں در پیش ہوتے ہیں؟ کیا یہ چیلنج ان کی کم استعداد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یا ان پر مسلط کر دیئے جاتے ہیں؟ یہ کوئی سازش ہے کہ ہر جمہوری حکومت اپنے ماتھے پر جلد یا بدیر ناکامی کا تمغہ سجا لیتی ہے؟.... گزشتہ پانچ سال کی حکومت تو خیر اب ایک قصہ پارینہ ہے، موجودہ حکومت جس تیزی کے ساتھ غیر مقبول ہو رہی ہے اور بد قسمتی سے اسے اس بات کا احساس بھی نہیں، تو کیا یہ نادیدہ قوتوں کا بچھایا ہوا کوئی جال ہے، جس کا وہ شکار ہوتی چلی جا رہی ہے؟.... ایک بھر پور عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت آج سپریم کورٹ میں اسی طرح ”پیشیاں“ بھگت رہی ہے، جیسے پیپلز پارٹی کی حکومت بھگت رہی تھی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اپنے جاری کردہ احکامات واپس لے کر یہ تاثر بھی دے رہی ہے کہ اس کے فیصلوں میں توازن یا حقائق کا ادراک شامل نہیں۔ ہر حکومت کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا پڑتا ہے، تب ہی وہ آگے بڑھ سکتی ہے، لیکن اگر ترجیحات ہی متعین نہ کی جائیں تو معاملات ہاتھ سے نکلتے چلے جاتے ہیں۔

میاں محمد نواز شریف وزیراعظم بنے تو عوام کو ان سے بے تحاشہ توقعات تھیں۔ یہ توقعات جب پوری نہ ہوئیں تو ان کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچا۔ انتخابی وعدہ خلافی کا طعنہ صرف پیپلز پارٹی کا نصیب بنتا تھا،مگر اس بار اس کا ہدف موجودہ حکمران ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان اقتصادی فیصلوں نے پہنچایا ہے۔ سپریم کورٹ میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے کر حکومتی اقتصادی ماہرین نے اس حقیقت کو طشت از بام کر دیا ہے کہ وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں، جن کے پیچھے کوئی مضبوط حکمت عملی کار فرما نہیں ہے.... دنیا بھر میں حکومتوں کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کا پیمانہ اقتصادی حالات بنتے ہیں، صرف جمہوریت کے لولی پاپ سے عوام کو زیادہ دیر تک مطمئن نہیں رکھا جا سکتا۔ اقتصادی حالات بہتر ہوں، تو آمریت بھی عوام کی نظر میں محبوب قرار پاتی ہے اور خراب ہوں تو صدر اوباما جیسے منتخب نمائندے کے لئے بھی مسائل کھڑے کر دیتی ہے۔

 کچھ عرصہ پہلے وینز ویلا کے آمر صدر کا انتقال ہوا، جنہوں نے امریکہ جیسی سپر پاور کی مخالفت کے باوجود اپنے 14سالہ اقتدار کو برقرار رکھا، وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے وینزویلا کو معاشی لحاظ سے کبھی مشکل یا بدحالی کا شکار نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے خود اقتدار پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ جمایا تھا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے دوباتوں پر خصوصی توجہ دی.... اول: عوام کی فلاح و بہبود اور دوم روز مرہ ضرورتوں کی عوام کو فراہمی.... تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بے مثال ترقی سے جہاں عوام کو سہولتیں میسر آئیں ،وہیں روز گار میں بھی اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 14 سالہ اقتدار کے بعد کینسر کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تو وینزویلا کے عوام دھاڑیں مار مار کے روئے۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ حکمرانوں کے لئے دھاڑیں مار کر نہیں روتے، بلکہ دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ آمروں کے آنے پر عوام نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ جہاں تک مَیں سمجھ سکا ہوں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے حکمران اقتدار میں آکر عوام سے لاتعلق ہو جاتے ہیں، بلکہ وہ اس بات کو یکسر بھول جاتے ہیں کہ انہیں پلٹ کر عوام کی طرف ہی جانا ہے۔ کوئی معاشرہ اس وقت تک فلاحی نہیں کہلا سکتا، جب تک وہ اپنے افراد کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے۔ بھٹو نے اگرچہ نعرہ اسی بات کا دیا تھا اور روٹی، کپڑے، مکان کی نوید سنائی تھی، جس کی وجہ سے عوام نے انہیں اپنا قائد مان لیا تھا، مگر وہ اس دعوے کی تکمیل نہ کر سکے۔ وہ بھی اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے دور ہوئے۔ اسٹیبلشمنٹ، وڈیرا شاہی اور معاشرے کے طاقتور طبقوں نے انہیں اپنا یرغمال بنا لیا۔ عوام راہ دیکھتے رہے ، جبکہ منزل کسی اور کو مل گئی۔

مَیں جب کبھی اس نکتے پر غور کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں جمہوریت بار بار ناکام کیوں ہوئی اور کیوں وردی والے حکمران شب خون مارتے رہے تو میں صرف یہ سوچ کر مطمئن نہیں ہو پاتا کہ اس میں قصور ان جرنیلوں کا ہے، جو ہوس اقتدار میں مبتلا تھے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ جرنیل اقتدار کے خواہاں تھے، اصل معاملہ یہ ہے کہ انہیں اقتدار میں آنے کا راستہ کس نے دکھایا؟ کوئی بھی جمہوریت اس وقت تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، جب تک وہ عوام کو شرکت اقتدار کا احساس نہیں دلاتی۔ ہمارے ہاں جب بھی جمہوریت آئی، عوام میں یہ احساس دو چند ہو گیا کہ ان پر جمہوریت کا نام لے کر جو لوگ حکومت کر رہے ہیں، وہ ان میں سے نہیں ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سال کو ہی دیکھئے، عوام مسلسل اس احساس کے زیر اثر رہے کہ حکمرانوں یا طبقہ اشرافیہ کا ان کے دُکھ درد سے کوئی تعلق نہیں۔ صرف یہی نہیں کہ دہشت گردی یا بدامنی کے واقعات میں عوام خود کو بے یارو مددگار یا تنہا سمجھتے رہے، بلکہ بری معیشت، لوڈ شیڈنگ اور بے روز گاری کے زخم بھی انہیں یہ احساس دلاتے رہے کہ حکمرانوں کو ان کے مسائل و مشکلات کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی وہ ان کی ترجیحات کا حصہ ہیں، افسوس کہ اس وقت بھی یہی صورت حال موجود ہے۔

حدیث نبوی ہے کہ ”میری امت کا فتنہ مال ہے“۔ ظاہر ہے اس فتنے سے کوئی انکار نہیں۔ ہماری تو جمہوریت کا فتنہ بھی مال ہے جمہوریت کو جب پیسے کی لت پڑ جائے تو اس میں خدمت و دیانت کہاں باقی رہ سکتی ہے۔ پاکستانی جمہوریت کو جس طرح صوابدیدی گرانٹوں کے ہیر پھر میں ڈال کر ذلیل و رسوا کیا گیا، اس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ضیاءالحق نے اس سیاسی بدعت کا آغاز کیا تھا کہ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کے نام پر رشوت دی جائے۔ ان کی یہ مجبوری تھی کہ وہ اپنی مجلس شوریٰ کے ارکان کو فنڈز کے نام پر اپنا گرویدہ بنائے رکھیں ۔چاہئے تو یہ تھا کہ جب حقیقی جمہوریت بحال ہوئی تو یہ سیاسی بدعت بھی ختم کر دی جاتی، مگر جہاں سب ایک ہی جیسے ہوں اور سب کا مطمح نظر سیاست سے پیسہ کمانا رہ گیا ہو تو اس کو کون چھوڑتا ہے۔ سو یہ سلسلہ چل نکلا اور ایسا چلا کہ اس نے پورے جمہوری نظام کو رشوت ستانی کا گڑھ بنا دیا۔ جہاںچند ارکان اسمبلی ناراض ہوئے، وزیراعظم نے جیب سے پین نکالا، ان کے نام دو کروڑ فی کس کے حساب سے رقم لکھی اور پیش کر دی۔

اس رویے اور انداز سیاست کی وجہ سے ہمارے جمہوری نظام میں بلیک میلنگ در آئی۔ خاص طور پر جب حکومتیں چند فارورڈ بلاکوں کے ذریعے چل رہی ہوں تو اٹھائی گیروں کے وارے نیارے ہو جاتے تھے۔ ملک میں این ایف سی ایوارڈ کے نام پر فنڈز کی صوبوں میں تقسیم کا تو ایک نظام موجود ہے، لیکن اس کے بعد ان فنڈز کو کس حساب سے خرچ کرنا ہے، اس کے بارے میں نظام مکمل طور پر خاموش ہے۔ صوبوں میں وزرائے اعلیٰ اور مرکز میں وزیراعظم خزانے کے مالک بن بیٹھتے ہیں، جہاں چاہیں لگائیں، جسے چاہیں نوازیں، کوئی روک سکتا ہے۔ نہ کسی کے پاس اختیار ہے کہ پوچھے صاحب یہ کیا آپ کا ذاتی سرمایہ ہے جسے اپنوں میں ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے ہیں۔

پاکستانی عوام بھی عجیب قسمت کے مالک ہیں۔ وہ کبھی اصل تے وڈے آمر کی چھتری تلے زندگی گزارتے ہیں اور کبھی انہیں جمہوری آمروں کا جبر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اگر جمہوری روایات مستحکم نہیں ہو سکیں تو اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے جمہوری حکمرانوں نے اختیارات کی حد تک آمریت کا لبادہ اوڑھے رکھا۔ وہ بھی یہی چاہتے رہے کہ جو کچھ ان کی زبان سے نکلے ، وہ من و عن تسلیم کر لیا جائے۔ وہ جسے چاہیں نوازیں اور قومی خزانے کو جس طرح چاہیں لٹائیں۔ صوابدیدی اختیارات اور صوابدیدی فنڈز کی جو شرمناک سہولتیں جمہوری حکمرانوں نے اپنے لئے رکھ چھوڑی ہیں، ان کی وجہ سے پارلیمنٹ یا عوامی نمائندوں کی حیثیت ایک بے بس و لاچار فرد کی سی رہ جاتی ہے، جو ہمیشہ کسی بالادست کا محتاج رہتا ہے اور دست سوال دراز کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کبھی وزیراعظم قومی اسمبلی یا سینٹ کے اجلاسوں میں جاتے ہیں، ارکان اسمبلی درخواستیں لئے ان کے سامنے گڑگڑا رہے ہوتے ہیں۔ یہ اِسی قسم کا منظر ہے، جیسے کھلی کچہریوں میں غریب اور مظلوم پاکستانی اپنی عرضیاں لئے شنوائی کی دہائی دیتے ہیں اور بااختیار لوگ شاہانہ انداز سے ان پر احکامات جاری کرتے ہیں۔

کمال تو سارے وزیراعظم ہی کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے مرشد سائیں سید یوسف رضا گیلانی نے بھی کچھ کم نہیں کیا، تاہم جو ”شاندار“ تاریخ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے رقم کی، اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ملتی ۔انہوں نے نظام سَکےّ کی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی چند ماہ کی وزارت عظمیٰ میں 47ارب روپے کے فنڈز اپنے حلقہ انتخاب میں منتقل کر دئیے تھے۔ موجودہ حکمران ماضی کے ایسے واقعات تو نہیں دہرا رہے، لیکن جب سپریم کورٹ کے ریمارکس آتے ہیں تو لگتا ہے ذہنی طور پر یہاں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں، جہاں یہ کہا جائے کہ وزیراعظم مغل شہنشاہ نہیں کہ سرکاری زمینیں بانٹتا رہے، وہاں اس بات کا احساس زیادہ کچوکے لگاتا ہے کہ بدلا توکچھ بھی نہیں، پاکستان میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ جمہوریت ناکام ہو یا جمہوری اور منتخب حکومت کسی سانحے سے دو چار ہو، مگر سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے لئے کچھ کام تو سیاست دانوں اور حکمرانوں کو بھی کرنا چاہئے، یکطرفہ ٹریفک کب تک چل سکتی ہے؟     ٭

مزید : کالم