پاکستان ریلوے.... افکارِ پریشاں (2)

پاکستان ریلوے.... افکارِ پریشاں (2)

                                                                         بعض اوقات ایک ایسا بجٹ منظور ہو جاتا ہے اور اس کی مثال اِس طرح دی جا سکتی ہے کہ سر ڈھانپیں تو پاﺅں ننگے ہوتے ہیں اور پاﺅں ڈھانپیں تو سر ننکا ہوتا ہے، اس کو سمجھانے کے لئے عرض ہے کہ غیر ملکی امداد کا بجٹ میں جز مطلوبہ ضرورت سے زیادہ دے دیا جاتا ہے اور لوکل جز اسی نسبت سے کم کر دیا جاتا ہے، جس کے اثرات بجٹ کو ناقابل ِ عمل بنا دیتے ہیں، یعنی لوکل کرنسی کم ہونے کی وجہ سے کسٹم ڈیوٹی ناکافی ہوتی ہے یا پھر سٹاف کی تنخواہوں اور لوکل میٹریل کی فراہمی کے لئے بجٹ ضرورت سے انتہائی کم۔صوبوں کے نمائندے بجٹ سازی میں شامل ہوتے ہیں ۔ اُن کی طرف سے ریلوے کے سلسلے میں شاید ہی کبھی کوئی صائب تجویز آئی ہو۔ ہاں بلوچستان سے ایک با شرع نمائندہ ہر بار یہی تقاضا کرتے کہ فورٹ سنڈیمن (ژوب) سے سبّی تک1984ءسے بند ریلوے لائن کے ملازمین کے لئے تنخواہوں کا بندوبست کیا جائے اور بس۔    قارئین! بجٹ کو پاس کرانے کا طریقہ بھی عجب ہے۔ بجٹ دستاویزات ہزاروں صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں، اور ان کا وزن بلامبالغہ 6-7 کلو گرام سے متجاوز ہوتا ہے۔ محدود وقت میں ان کو سمجھنا تو دور کی بات، پڑھنے کے لئے بھی چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ یہ وہ لمحات ہیں جب حزبِ اقتدار کی جان پر بنی ہوتی ہے کہ بجٹ پاس ہو اور وہ جیسے تیسے اس سے سرخرو ہو۔ قومی سطح پر یہ حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف کا سب سے بڑا ”مُک مکا“ ہوتا ہے۔ وزیر خزانہ ڈیمانڈ نمبر اور اُن کی مختص وزارت کے فنڈ کو پڑھتا جاتا ہے اور لمحوں میں اربوں کھربوں کا بجٹ پاس ہوجاتا ہے۔قارئین! آپ متعجب ہوں گے کہ اس طرح کے ناقابل ِ عمل بجٹ کی صورت خال سے کس طرح نکلا جائے۔ صاحبو، وزارت (میرے یہ سارے تجربات اور مشاہدات صرف وزارتِ ریلوے سے متعلق ہیں، دوسری وزارتوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ مجھے علم نہیں۔) ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہے اور بجٹ میں رہتے ہوئے کئی منصوبوں پر کام روک دیتی ہے۔ اور ایک Reappropriation Proposal بناکر پلاننگ ڈویژں کے حضور پیش کرتی ہے اور پھر یاددہانیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، حتیٰ کہ منظوری حاصل ہوتی ہے۔ اُس وقت تک منصوبوں پر کام رُکا رہتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ منظوری بجٹ کے اختتام پر وصول ہوتی ہے اور ساری مشق(Exercise) بے کار ہوجاتی ہے، اور فنڈز ضائع(lapse) ہوجاتے ہیں اور آڈیٹر جنرل کی طرف سے فہمائش جاری ہوتی ہے اور اگر میڈیا میں یہ خبر آجائے تو اسے گھپلا اور بدعنوانی سمجھا جاتا ہے۔پروجیکٹ کس طرح منظوری کے مراحل سے گزرتے ہیں، یہ بھی ایک دلچسپ عمل ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس طویل عمل (Process) سے پروجیکٹ کی طبعی سرشت میں کوئی بہتری آتی ہے۔ میرے 30 سالہ دورِ ملازمت میں صرف ایک پروجیکٹ خانیوال سے سمہ سٹہ تک برق کاری (Electrification)، نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ECNEC) کی سطح سے واپس کیا گیا۔ ورنہ جو منصوبہ بھی وزارتِ ریلوے کی طرف سے بھیجا گیا، کبھی لیت و لعل کے ساتھ اور کبھی اس کے بغیر منظور کرلئے گئے۔ صرف ریلوے اور متعلقہ وزارتوں کے Man-hours ضائع ہوئے۔ پلاننگ ڈویژن کے پوچھے گئے متعدد سوالات میں صرف 2 یا 3 سوال قابل ذکر ہوتے ہیں، اور باقی، بقول کسے، فائل کا پیٹ بھرنے کے لئے۔ ایک بار ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات اتنے ضخیم تھے کہ سوالات کنندہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ یہ کیا؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوالات کے جواب۔ دراصل اتنے سوالات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکامِ بالا کو بتایا جائے کہ بہت محنت کی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی طرف سے عام طور پر کوئی خاص سوال نہیں پوچھا جاتا تھا۔ ایک 16/17 سکیل کا جونےئر افسر اُن کی نمائندگی کرتا۔ یا تو وہ اسے اپنے فرائض کا حصہ نہیں سمجھتے تھے یا یہ معاملات ان کی سمجھ سے باہر تھے۔ پلاننگ ڈویژن کا ایک شعبہ، جسے Project Appraisal Section کہتے ہیں، ایک زمانے میں غیر فعال تھا، لیکن ایک صاحب نے اس پوزیشن کو خوب Enjoy کیا۔ وہ ریلوے افسران سے ایسا رویہ اختیار کرتے تھے جیسا ایک استاد اپنے نالائق شاگرد سے۔ ایسا کیوں تھا؟ اس کا جواب آئندہ کسی باب میں دیا جائے گا۔ ریلوے کے 90 فیصد منصوبے قانونی طور پر MaintenanceیاDeferred maintenance کے متعلق ہوتے ہیں جیساکہ اوپر انجنوں کے لئے ناکافی Maintenance budget کی مثال دی گئی ہے، لیکن جاریہ (current) بجٹ میں ناکافی فنڈز کی بدولت ٹریک، پل، انجن، کوچز اور مال ڈبوں وغیرہ کی حالات روز بروز دگرگوں ہوجاتی ہے، جس سے آخر کار وہ کھڑے (ground) ہوجاتے ہیں۔ جب حالات خراب ہوجاتے ہیں اور اُن کی replacement ممکن نہیں ہوتی تو اُن کی مرمت کے لئے ترقیاتی بجٹ سے ایک پروجیکٹ بنایا جاتا ہے جو قانونی طور پر غلط ہے۔ پاکستان ریلوے مختلف النوع شعبوں سے مرکب ہے۔ مثلاً سول، مکینکل، الیکٹریکل، سگنل، ٹیلی کمیونی کیشن۔ ریلوے کی استعداد (efficiency) کو دو اشاریوں (indicators) : ton kilometers اور passenger KMs سے ناپا جاتا ہے۔ یہ ریلوے کا product ہے اور انجنوں، مسافر ڈبوں، مال کے ڈبوں، ٹریک، سگنل، ورکشاپس، سٹیشن بلڈنگ، پل وغیرہ جیسےinfrastructureسے حاصل ہوتا ہے۔ کس equipment نے کتنا حصہ ڈالا ہے؟ یہ جاننا ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس کی پیمائش ایک مشکل امر ہے۔ پلاننگ ڈویژن کے پراجیکٹ appraisal section کے ساتھ ایک قسم کا خاموش معاہدہ طے پاگیا تھا، جس میں فوائد (benefits) کی تقسیم کچھ یوں تھی:لوکوموٹوز (انجن)    50 فیصد (کل فوائد کا)مسافر ، مال ڈبے    30 فیصدٹریک    15 فیصداب سگنل، ٹیلی کمیونی کیشن، ورکشاپ، پل، سٹیشن بلڈنگ اور رہائشی عمارتوں کے لئے صرف 5 فیصد بچتا ہے، لہٰذا پلاننگ کمیشن کے معیار کے مطابق ریلوے پروجیکٹس کو کم از کم 12 فیصد منافع IRR (Internal Rate of Return) کا حامل ہونا چاہئے۔ اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو کیا ان پروجیکٹس پر جن کے بغیر ریلوے کا چلنا ناممکن ہے، سرمایہ کاری نہ کی جائے؟ اس کا حل corporate plan کے ذریعے ممکن ہے۔ راقم نے اس کا blue print بناکر دیا، جس کو اُس وقت کے ممبر پلاننگ نے سراہا، لیکن چےئرمین، جوکہ خالصتاً ایک سول انجےنئر تھا، اُس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ ورلڈ بنک نے ایک قرضہ (loan) دیتے وقت جن شرائط کو لازم قرار دیا اُس میں کارپوریٹ پلان کا بنایا جانا بھی تھا۔ اگرچہ یہ کارپوریٹ پلاننگ کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا تھا، اس کے باوجود معلومات (data) کے اعتبار سے ایک اچھا Document تھا۔ ضرورت ہے کہ اس پلان کو دوبارہ بنایا جائے جو پانچ سال پر محیط ہو اور ہر سال اس کو Review کیا جائے۔ ٹن کلومیٹر اور پسنجر کلومیٹرز کا ہدف مقرر کیا جائے اور ان کو revenue earning units میں تبدیل (convert) کیاجائے، اور ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کتنی مشینری اور equipment کی ضرورت ہے، اُس کی لاگت نکالی جائے۔ اور اس کی بنیاد پر IRR نکالا جائے۔ یہ طریقہ حقیقت سے زیادہ قریب ہے۔ کیا ریلوے ایک viable ادارے کے طور پر اُبھر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے۔(i)درآمد برآمد کے عدم توازن (trade imbalance) کی بناءپر کراچی سے شمال تک تو ٹریفک ملتا ہے، جبکہ down direction میں export surplus بہت کم ہے۔ اس کی وجہ شمال میں صنعتوں اور زراعت کا فقدان ہے۔ اس یک طرفہ ٹریفک کی بناءپر نہ صرف ریلوے بلکہ ساری ٹرانسپورٹ خسارے کا شکار ہے، اور عوام کو یہ خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ورلڈ بنک کے ماہرین ریلوے پر تنقید کرتے ہوئے یہ تو کہتے ہیں کہ 1700 کلومیٹر پر محیط روٹ پر ریلوے کو viable ادارے کے طور پر ابھرنا چاہئے، لیکن مندرجہ بالا حقیقت اُن کی نظر سے اوجھل ہوتی ہے۔(ii) روہڑی سے کوہِ تفتان، صوبہ بلوچستان کا پورا نیٹ ورک کراچی، کشمور، کندیاں، پشاور، متبادل ریل لنک سے لے کر لالہ موسیٰ سے پشاور ایسے نیٹ ورک ہیں جہاں معاشی سرگرمیاں انتہائی قلیل ہیں۔ آئرشن ریلوے کے ماہرین کی ایک فرم کے مطابق پاکستان ریلوے کا 30 فیصد نیٹ ورک 70 فیصد ریونیو پیدا کرتا ہے۔ اور 70فیصد نیٹ ورک 30 فیصد ریونیو کماتا ہے۔ یہ صورتِ حال کسی بھی ادارے کے لئے تشویش کا باعث ہے اور خصوصاً پاکستان ریلوے کے لئے انتہائی پریشان کن۔(iii) مختلف سیکٹرز (ریل، روڈ اور اےئر) میں سرمایہ کاری اُن کے مزاج کی موافقت کے باعث ترجیحات کا تعین پلاننگ اور فنانس ڈویژنز کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے ایک ہائی لیول ٹرانسپورٹ کونسل مستقل بنیادوں پر قائم کی جائے، جس کو ٹرانسپورٹ اکانو مٹس، فنانشل ایڈوائزر اور کاسٹ اکاونٹنٹس اور ماہرین ِ شماریات کی مشاورت حاصل ہو، جو مختلف Modes of transport میں ان کی مناسبت کے مطابق ٹریفک مختص (allocate) کرے۔ ماضی میں ٹریفک Allocation میں کراچی پورٹ پر این ایل سی کی اجارہ داری رہی، جس سے ریلوے کو بہت مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔ کراچی،لاہور جیسے منافع بخش روٹ پر این ایل اسی ٹریفک لے کر جاتی اور باقی ماندہ نیٹ ورک کے لئے ریلوے کو احسان مند کردیا جاتا۔(iv)موٹرویز کی تعمیر کس بنیاد پر کی گئی؟ کیا مطلوبہ مقاصد ریلوے میں تھوڑی سرمایہ کاری کرکے حاصل نہیں کئے جاسکتے تھے؟ کیا ریلوے سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا گیا؟ ملک میں نام نہاد جمہوریت ہونے کے باوجود موٹرویز کی مخالفت کرنے کے جرم میں متعلقہ افسران کو کیوں ہراساں کیا گیا؟ اب پھر کراچی سے لاہور تک موٹر وے بنانے کے اعلان ہورہے ہیں۔ کیا ریلوے کی استعداد (Capacity) ختم ہوگئی ہے؟ اور کیا موٹرویز کے لئے پیسہ کہیں سے مفت مل رہا ہے؟ اگر اس کے فنڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر سے استعمال ہوں گے تو ریلوے کو کس طرح بحال کیا جائے گا۔ )جاری ہے)    ٭تےسری قسط(v)اگر حکومت مسافر بسوں کو صفر کسٹم ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دے اور ریلوے کو اپنی درآمدات پر 45 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی دینی پڑے تو ریلوے روڈ کے ساتھ کس طرح مقابلہ (Compete) کرسکتا ہے۔ یہ ایک کھلا ظلم اور زیادتی ہے، اور ریلوے کو تباہ کرنے کی سازش۔(vi)اپنی استعداد میں کمی کے باعث (inefficiency) ٹرانسپورٹ سیکٹر پاکستانی معیشت کو سالانہ 220ارب روپے نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے (ورلڈ بنک رپورٹ 2004ئ) جو قومی آمدنی کا 6 فیصد ہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔ٹرانسپورٹ کی اس انتہائی لاگت کے باعث پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، ماریشس جیسے ممالک کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کی بڑی وجہ انرجی اور فیول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہے۔(vii)ٹرانسپورٹ کی طلب ایک ماخوذ (derived) طلب ہے۔ ملکی معیشت میں انحطاط کے باعث ریلوے براہِ راست متا¿ثر ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں گندم، کاٹن اور کینو کی سپیشل ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔ اس میں کچھ تو ریلوے کی مارکیٹنگ کے شعبے میں لاعلمی، رشوت لے کر مال ڈبوں کی الاٹمنٹ، رائس اور کاٹن کی کارپوریشنوں کا رشوت لے کر ٹرک مالکان کو بزنس دینا ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے ریلوے ٹریفک روڈ کی طرف منتقل ہوتا گیا۔(viii) پاکستان ریلوے عرصہ¿ دراز تک اجارہ دار کی حیثیت سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرگرمِ عمل رہا۔ گورنمنٹ سیکٹر میں ہونے کے باعث کارپردازانِ ریلوے نے سمجھا کہ لوگ ہمیشہ مال ڈبوں کے حصول اور مسافر ٹکٹوں / ریزرویشن کے حصول کے لئے ان کی منتیں کرتے رہیں گے۔ افسوس! ان کی خام خیالی زیادہ عرصہ تک ان کو دھوکے میں نہ رکھ سکی اور اس خلا کو روڈ اور روڈ ٹرانسپورٹ نے آہستہ آہستہ پُر کرنا شروع کردیا۔ حتٰی کہ لگام ریلوے والوں کے ہاتھ سے نکل گئی اور روڈ، ریلوے کی نااہلی اور حکومتی بے حسی کی بناءپر ترقی کرنے لگی (یہ راقم کا خیال نہیں، ورلڈ بنک کی 2004ءکی رپورٹ میں اس کو دیکھا جاسکتا ہے)۔ حیرت کی بات ہے کہ ورلڈ بنک جیسا ادارہ اس طرح کا بیان دے رہا ہے، جوکہ ریلوے پراجیکٹس اور سالانہ ترقیاتی بجٹ میں وزارتِ خزانہ میں بیٹھ کر پاکستان کے مالی اُمور میں دخل اندازی کرتا رہا ہے۔(ix) روڈ سیکٹر کے برعکس ریلوے کو درج ذیل اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔(ا)ریلوے ٹریک کی تعمیر اور اُس کی مرمت اور دیکھ بھال ریلوے کی ذمہ داری ہے، جبکہ روڈز حکومت کی۔(ب)اےئر اور روڈ ٹرانسپورٹ کو ڈیوٹیز (کسٹم وغیرہ) کی مد میں استثناءحاصل رہا ہے۔(ج)تاریخی طور پر ریلوے کو ا پنے ملازمین اور لواحقین کے لئے سکولوں اور ہسپتالوں جیسی سہولیات فراہم کرنا پڑتی ہےں، کیونکہ دور دراز علاقوں میں جہاں صرف ریلوے ملازم آباد تھے، کوئی ایسی سہولت میسر نہیں تھی۔ اس پر کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔(د)پاکستان ریلوے گورنمنٹ کا ایک محکمہ ہے، اس لئے حکومت پاکستان کے سارے قوانین مثلاً تنخواہوں میں اضافہ اور پنشن کی ادائیگی وغیرہ پاکستان ریلوے کو کرنی پڑتی ہے۔(ر)پاکستان ریلوے کو پولیس کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس پر ایک اسٹڈی کی ضرورت ہے کہ آیا اس محکمہ کے ریلوے کو فوائد زیادہ ہیں یا نقصانات۔ مسافروں کو بغیر ٹکٹ سفر کرانے کا الزام ریلوے پولیس پر لگایا جاتا ہے۔حالات میں تبدیلی کے باعث اداروں کی تشکیل نو (reorganization) کوئی تعجب کی بات نہیں، لیکن جس سرعت کے ساتھ اس ادارے میں تجربات کئے گئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آزادی کے بعد کم و بیش 20 دفعہ اس کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اپریل 2012ءمیں ایک نیا ریلوے بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں ایک ممبر کی شمولیت کا سُن کر تو سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔ نئی حکومت اب پھر یہ عمل دہرانے جارہی ہے۔ ریلوے چیئرمین / سیکریٹری اور جنرل منیجر کو بعض دفعہ صرف چھ ماہ کے بعد تبدیل کردیا گیا۔ اگر چےئرمین / سیکریٹری بیوروکریسی سے درآمد کیا جاتا ہے، جسے ریلوے جیسے پیچیدہ نظام کو سمجھنے میں دو یا تین سال لگتے ہیں۔ جب وہ کچھ سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تو اُسے تبدیل کردیا جاتا ہے، جوکہ ادارے کے ساتھ ایک صریح زیادتی ہے۔ اِسے دیکھا جانا چاہئے۔چلتے چلتے ایک مغالطے کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ ریلوے والوں کو عام طور پر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ ریلوے نے آزادی کے بعد ایک انچ ٹریک بھی اضافہ نہیں کیا، بلکہ کمی کی ہے۔ یہ کم علمی ہے۔ عوام الناس عام طور پر ریلوے ٹریک کو ڈبل کرنے کو ہی ریلوے کی تمام بیماریوں کا حل تجویز کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ریلوے ٹریک کو بڑھانا اور پھر اس کو سسٹم میں شامل کرکے maintenance کرنا ایک معتد بہ اخراجات کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین ان اضافی اخراجات سے بچنے کے لئے سسٹم کی استعداد (capacity) بڑھانے کے لئے مندرجہ ذیل متبادل ذرائع عمل میں لانے کی سفارش کرتے ہیں، جن پر نسبتاً کم لاگت آتی ہے۔ مثلاً:(ا)ٹرین کے سائز کو بڑھا دیا جائے۔ اس کے ساتھ looping capacity کو بڑھانا لازم ہے۔(ب)مسافر ڈبوں، مال ڈبوں میں air brakes اور central couples لگادیے جائیں۔(ج)Gradientsکو بہتر بنایا جائے۔(د)مال ڈبوں کے سائز اور capacity کو بڑھا دیا جائے۔(ر)ٹرینوں کی رفتار کو بڑھا دیا جائے۔(س)بلاک سیکشن کم کردیے جائیں۔(ص)Operating procedures میں ڈسپلن لایا جائے۔(ط)سگنل اور ٹیلی کمیونی کیشن کو بہتر بنایا جائے۔(ع)ٹریک کو electrify کیا جائے، وغیرہ۔اگر یہ سارے حربے کامیاب نہ ہوں تو پھر ٹریک ڈبل کرنے کا جواز بنتا ہے۔ ایسی صورت میں جب ٹریفک کم ہورہاہے، جس کی ایک ہزار ایک وجوہات ہیں، ٹریک کو لودھراں سے رائیونڈ تک investment کرنا ایک غلط اقدام تھا۔ اب جبکہ یہ غلط قدم اُٹھایاہی جاچکا ہے، اُس کو رائے ونڈ تک جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ راقم نے ایک موقع پر اس منصوبے کی صرف اُس وقت حمایت کی تھی جب ریلوے ٹریک کی بحالی کے لئے درآمد شدہ ریلیں دو سال تک استعمال نہ کی جاسکیں اور زنگ آلود ہو رہی تھیں۔ ریلوے میں ڈبل ٹریک کا منصوبہ، جو سب سے زیادہ viable ہوسکتا تھا، وہ لاہور سے فیصل آباد کا منصوبہ تھا۔ راقم کی شدید خواہش اور lobby کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا۔موٹر وے کی تعمیر سے اب اس کا مستقبل تاریک ہے۔ضروری ہے کہ ریلوے کی مالی حالت کا ذکر ہو جائے۔ وزارتِ خزانہ 1990-91ءتک ریلوے کے خسارے کو برداشت کرلیا کرتا تھا۔ اور یکم جولائی سے ریلوے بجٹ کلین سلیٹ سے شروع ہوتا تھا۔ ورلڈ بنک کا عمل دخل پاکستان حکومت میں بڑھتا گیا اور اس نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا، جس کی وجہ سے آج ریلوے کا اوور ڈرافٹ 40 ارب روپے سے متجاوز ہے۔ ریلوے اس صورتِ حال کو کسی طرح پہنچا؟ چند وجوہات درج ذیل ہیں:(ا)وزارتِ خزانہ ریلوے کی آمدن کے اہداف جبراً (arbitrarily) بہت اونچے فکس کرتی ہے، جوکہ ناقابلِ حصول ہوتے ہیں، اور اس کی بڑی وجہ ریلوے میں ناکافی سرمایہ کاری (ترقیاتی بجٹ میں مطلوبہ رقوم کا نہ ملنا)اور اس کے نتیجے میں ریلوے انفراسٹرکچر کا مطلوبہ استعداد کا حامل نہ ہونا۔(ب)پاکستان ریلوے گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ ہونے کی وجہ سے حکومت کے تمام اقدامات کا پابند ہے۔ یعنی تنخواہوں، پنشن، فیول اور انرجی میں اضافہ اسی طرح ریلوے پر لاگو ہوتا ہے جس طرح حکومت کے دوسرے اداروں پر۔(ج)پاکستان ریلوے مندرجہ بالا اضافوں کو اپنے طور پر کرایہ بڑھاکر تلافی (offset) کرنے پر قادر نہیں۔ جنرل ضیاءالحق دور میں کئی دفعہ ریلوے کی طرف سے بھیجی گئی سفارش کو تسلیم نہ کیا گیا۔ کرایہ کو بڑھانے ، تبدیل کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو ہے۔(د)وزارتِ خزانہ کی طرف سے بجٹ کی اقساط میں تاخیر کی بناءپر سٹیٹ بنک کی طرف سے لئے گئے اوور ڈرافٹ پر سود ادا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے اوور ڈرافٹ کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اس عمل کو آپ جو بھی نام دیں، اس میں ریلوے کا کوئی قصور نہیں۔ وزارتِ ریلوے کی طرف سے 1999ءمیں جب اوور ڈرافٹ 17 ارب تھا، وزارتِ خزانہ کے ذریعے ایک سمری بھیجی گئی، جس میں یہ مو¿قف اختیار کیا گیا کہ 1970-71ءسے لےکر 1999ءتک حکومت پاکستان کے پاس ریلوے کی طرف سے DRF (Depreciation Reserve Fund)، امپروومنٹ فنڈ، سٹاف بینیفٹ فنڈ اور ریزرو فنڈ کے تحت جو رقوم جمع ہیں۔ اُن پر 17.5 فیصد سود کی شرح لاگو کرکے یہ رقوم ریلوے کو واپس کی جائیں۔ اس انتظام کے تحت ریلوے کی جمع شدہ رقم بمع سود تقریباً اتنی ہی بنتی تھی جتنا ریلوے پر اوورڈرافٹ تھا، لیکن وزارتِ خزانہ نے اُس پر کوئی پیش رفت نہیں کی۔ ریلوے کو پرائیویٹ کرنے یا اس کو کارپوریشن بنانے کے سلسلے میں ریلوے میں محکمہ فنانس کے متوازی سیل قائم کیا گیا۔ یہ تین ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تھی، جس میں ایک فنانشل ایکسپرٹ، ایک انجےنئر اور ایک کمپیوٹر ایکسپرٹ تھا۔ اُس زمانے میں اُن کی تنخواہ لاکھوں میں تھی۔ تینوں کے لئے برانڈ نیو گاڑیاں اور کرائے کی بلڈنگ لے کر دی گئی۔ کمپیوٹر کی مدد سے ایسے ماڈل تیار کئے گئے، جو زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ رکھتے تھے۔ راقم کی ریٹائرمنٹ تک یہ سیل کام کرتا رہا، لیکن اُن کی سفارشات جو کچھ بھی ہونگی، اُن سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بھی ریلوے کو تباہی سے نہ بچاسکیں۔ ایسے سیل جو کسی ہوم ورک کے بغیر وجود میں آئیں، کوئی مثبت کردار ادا کئے بغیر اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔ پلاننگ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک ہے، جس کی مثال یہ کائنات ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک نپی تُلی منصوبہ بندی سے وجود میں آئی ہے، لیکن ریلوے میں پلاننگ کے شعبے کوجو وُقعت دی گئی آنے والے مندرجات سے ظاہر ہوجائے گا۔ وزارتِ ریلوے میں ایک پلاننگ ڈائریکٹوریٹ قائم ہے۔ راقم اس یونٹ کا پہلا ریسرچ آفیسر تھا۔ یہ ادارہ صرف 5 افسران پر مشتمل تھا۔ اس ادارے میں recruitment rules پر کبھی عمل درآمد نہ کیا گیا۔ عام طور پر اس شعبے میں persona non grata بھیجے جاتے، یا ان آسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ایسے افسران آتے جو خالی آسامی پر بطور acting لگائے جاتے اور ترقی پاکر (چند ماہ کے بعد) ریلوے ہیڈ کوارٹر سدھارتے یا وہ لوگ اسلام آباد، راولپنڈی رہنا چاہتے، اس پوسٹنگ کی خواہش کرتے۔ راقمِ ڈائریکٹر پلاننگ کے عہدہ پر رےٹائر ہونے تک ہر گریڈ کے لئے ترقی کی جنگ لڑتا رہا،کیونکہ وزارتِ ریلوے میں administration ریلوے والوں کے ہاتھ رہی اور خالی آسامی کی صورت میں ریلوے کا افسر ہی پوسٹ کیا جاتا۔ تین دہائیاں اسی تگ و دو میں گزر گئیں۔ کبھی ریلوے والے جیت جاتے، کبھی راقم۔ اگر کبھی short-sizing ہوتی یا right sizing ہوتی تو نزلہ پلاننگ ڈائریکٹوریٹ پر گرتا۔ جب راقم نے بطور ریسرچ آفیسر وزارتِ ریلوے میں ملازمت کا آغاز کیا تو ریلوے وزارت میں کوئی ایسا افسر نہیں تھا جو مجھے میرے job کی مبتدیات بتاتا۔ ذاتی طور پر project appraisal کی کتابوں کو حاصل کیا اور خود ہی ان کو سمجھا۔ وزارت میں ایک لولی لنگڑی لائبریری بھی نہیں تھی۔ متعلقہ موضوعات پر کتابوں کے لئے admin کو لکھا۔ رقم بھی منظور ہوگئی، لیکن کتابوں کی خرید کی توفیق نہ ہوئی۔ ایک دفعہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے لئے لندن جانے کا اتفاق ہوا۔ اس سے میرے علم میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا، کیونکہ وہ سب کچھ میں پہلے ہی جانتا تھا۔ میں نے اپنے تعلیمی ادارے کے ذریعہ برٹش ریلوے بورڈ میں attachment کے لئے درخواست دی، تاکہ اُن کے پلاننگ کے طریقوں (methods) کو جان سکوں۔ برٹش ریلوے بورڈ نے اس کے لئے فیس کا مطالبہ کردیا، جو راقم کے لئے ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ریلوے پلاننگ کی وقعت اور ترجیح اس امر سے ظاہر ہے کہ ریلوے میں گریڈ 21 کی متعدد پوسٹیں منظور کی گئیں لیکن کسی کو ریلوے بورڈ میں ممبر پلاننگ (گریڈ 21) کی پوسٹ create کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اس کے برعکس جو گریڈ 21 کی پوسٹیں create کی گئیں اُن کا پس منظر کچھ اس طرح تھا ایک جنرل منیجر، جو اُس وقت کے وزیر ریلوے کے ڈارلنگ بنے ہوئے تھے، گریڈ 21 تو نہ پاسکے، اُن کو accommodate کرنے کے لئے ایک جنرل منیجر (development) کی پوسٹ تخلیق کی گئی۔ ریلوے کیرج فیکٹری ایک گریڈ 19 کے افسر کے تحت پوری استعداد پر 150 کوچز سالانہ بنارہی تھی اور سلےپر فیکٹریاں گریڈ 18 کے تحت خوش اسلوبی کے تحت اپنا کام سرانجام دے رہی تھیں۔ جب فنڈز کی کمی کے باعث یہ تقریباً بند ہونے کے قریب ہوگئیں تو گریڈ 21 کا ایک جنرل منیجر اُن کے اوپر مسلّط کردیا گیا۔ اسی طرح گریڈ 21 کا افسر لوکوموٹو فیکٹری کی تعمیر کے بعد بھی اُس کا سربراہ رہا۔ سیکرٹری ریلوے بورڈ ، جس کا کام بورڈ کی میٹنگز کو coordinate کرنا، میٹنگ کے minutes لکھنا اور اس کے علاوہ چےئرمین اور منسٹر کے احکامات بجا لانے والے فرائض ادا کرنا ہیں، کو بھی حال ہی میں اپ گریڈ کرکے گریڈ 21 دے دیا گیا ہے۔حیرت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کس بناءپر ایک ادرے پر اتنی مہربانی فرمارہے ہیں جو قریب المرگ ہے؟ کیا اُن کو معلوم نہیں کہ اس طرح کے ہول سیل upgradation سے ادارے کو کتنا مالی بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے؟ اس ساری تمہید کا مقصد یہ تھا کہ پلاننگ کی کیا اہمیت ہے۔راقم جب لندن سے ٹرانسپورٹ اور ڈویلپمنٹ کا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ لے کر واپس آیا تو حکومتِ برطانیہ کی طرف سے ایک سینئر افسر ٹریننگ پروگرام کی evaluation کے لئے آیااور مجھ سے دوسرے سوالوں کے علاوہ یہ پوچھا کہ آیا (اضافی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے) میری ترقی ہوئی ؟ میں نے نفی میں جواب دیا۔ اُس وقت کے چےئرمین ریلوے نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میری اُس افسر سے ملاقات ڈائریکٹر پلاننگ کی موجودگی میں ہوئی۔ یہ ڈائریکٹر پلاننگ پیشے کے اعتبار سے سول انجےنئر تھے۔ افسر ِ موصوف نے ڈائریکٹر پلاننگ سے پوچھا کہ آیا آپ نے پلاننگ کی ٹریننگ حاصل کی ہوئی ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ سول انجےنئر کو ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کام وہ اگرچہ سول انجےنئر کا کرتا ہے لیکن اس میں وہ پلاننگ ہی کررہا ہوتا ہے۔ اس لئے اُسے ٹریننگ کی کوئی ضروت نہیں ہوتی۔ سوائے چند سال کے، ریلوے پلاننگ کا سربراہ ایک ممبر ریلوے بورڈ ممبر سول انجےنئرنگ ہی ہوتا ہے۔ یہ صاحب 6 سال تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ادارے میں ملازمت اختیار کی تو مجھے فون کیا اور پوچھا کہ financial cost اور economic cost میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس سوال سے آپ کو اُن کے پلاننگ کے علم کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔ریلوے پلاننگ کی کیا stagesہوتی ہیں، اور یہ نظریاتی طور پر کس طرح انجام پاتا ہے؟ اس کی پہلی سٹیج ایک ایسا سروے کروانا ہوتاہے، جس میں ملکی سطح پر پیداوار (production) اور اس کے بعد فاضل مال برائے ٹرانسپورٹ (export surplus) کا علم حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس exercise کا مقصد ایسے اعداد و شمار حاصل کرنا ہوتا ہے، جس سے یہ معلوم ہو کہ کتنا فاضل مال نقل و حمل کے لئے موجود ہے۔ اس کے بعد مطلوبہ سال / سالوں کے لئے ٹریفک کا اندازہ (forecast) ، جوکہ آبادی میں تبدیلیوں (demographic changes) ، قومی آمدنی، درآمد اور برآمد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس ٹریفک کی تقسیم ٹرانسپورٹ کے مختلف شعبوں میں کی جائے۔ اس کو modal split کہتے ہیں۔ اس امر کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ کون سا شعبہ ٹرانسپورٹ کس قسم کی ٹریفک کے لئے موزوں ہے۔ مثلاً ماہرین کے خیال کے مطابق long lead اور bulk traffic ریلوے کے لئے موزوں ٹریفک ہے۔ مقصود یہ ہے کہ ٹریفک کو کم از کم لاگت (least cost) پر اُٹھایا جائے۔ اس کی مزید تفصیل ٹرانسپورٹ پالیسی کے باب میں آگے آئے گی۔ مختلف شعبوں میں ٹریفک کی تقسیم کے بعد اگلا مرحلہ پراجیکٹس کی تشخیص (identgification of project) ہے، یعنی مطلوبہ ٹریفک کو اُٹھانے کے لئے کتنی مشینری اور ساز و سامان (equipment)، از قسم انجن، مال، پسنجر ڈبے، سگنل، ٹیلی کمیونی کیشن، ٹریک وغیرہ کی ضرورت ہوگی (موجودہ ساز و سامان کا خیال رکھتے ہوئے اور دوران عرصہ منصوبہ بندی اور خستگی (depreciation) کا خیال رکھتے ہوئے)؟ پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے افرادی قوت ، وسائل کی فراہمی، درآمدات کی صورت میں زرِ مبادلہ کا انتظام، فنڈز کو خرچ کرنے کی صلاحیت جیسے اُمور پیش نظر رکھنا ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ریلوے میں پلاننگ کا عمل کچھ اس طرح سے ہوتا ہے۔ ایک چےئرمین صاحب نے چارج سنبھالنے کے پہلے دن ہی فرمایا کہ ریلوے ٹریک کو ڈبل کرنے کا پروجیکٹ بنایا جائے۔ ایک دوسرے چےئرمین ڈبل ٹریک اس لئے چاہتے تھے کہ حکومت کی خواہش کو پورا کرسکیں اور اُنہیں گریڈ 22 مل سکے۔ جب ایک چےئرمین کو یہ تجویز پیش کی گئی کہ وہ تھرڈ کلاس کے ڈبوں میں cushioning کروائیں تو موصوف نے فرمایاکہ اس کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ زیادہ شکایتیں تو ایئرکنڈیشن کلاس کے مسافروں کی طرف سے آتی ہیں۔ موصوف کا مارکیٹنگ اور ریلوے سروس کی کوالٹی بہتر بنانے کا vision یہیں تک محدود تھا، اور یہ علم ہی نہیں تھا کہ ریلوے کے 90 فیصد مسافر تھرڈ / سیکنڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر یہی کلاس ہی آمدنی کا اصل ذریعہ ہیں۔ پاکستان ریلوے میں پلاننگ کا سربراہ چیف پلاننگ اور پروجیکٹس اور بعض اوقات پروگریس آفیسر کہلاتا ہے۔ اس دفتر کا کام صرف رابطہ (coordination) تک محدود ہے۔ گویا ایک پوسٹ آفس کے طور پر کام کررہا ہے۔ راقم نے ریلوے کے خرچ کو بچانے کے لئے اس پوسٹ کے غیر اہم ہونے کی وجہ سے اس کو ختم کروادیا، لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس کو دوبارہ فنکشنل کردیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ اس آفس کو دوبارہ کسی مجاز اتھارٹی سے اجازت لئے بغیر شروع کردیا گیا۔ ریلوے سے جب بھی پنج سالہ منصوبہ کے لئے مواد مانگا گیا تو چیف پلاننگ آفیسر مختلف شعبوں سے حاصل کردہ پروجیکٹس کی ایک لسٹ وزارتِ ریلوے کو بھیج دیا کرتا۔ یہ بتائے بغیر کہ اس سے کتنے ٹن کلومیٹر اور پسنجر کلومیٹر حاصل ہوں گے اور اس کا ریلوے کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟راقم کے دورانِ ملازمت 1984ءمیں سبی،کوئٹہ الیکٹریفیکیشن کا بہت شور ہوا۔ فرم کے لوکل نمائندگان بہت متحرک تھے۔ فرم کا MD ایک 18/19 سال کا لڑکا ایک سرکاری محکمہ میں ڈائریکٹر فنانس کا بیٹا تھا۔ بلوچستان کی اُس وقت کی صوبائی حکومت اور سینیٹرز نے باجماعت اس پراجیکٹ کی سفارش کی۔ اس سے بلوچستان کے عوام کو تو کیا فائدہ پہنچتا، لیکن سفارش کنندگان سے ضرور کوئی نہ کوئی سچا جھوٹا وعدہ کیا گیا تھا، کیونکہ لوکل ایجنٹ نے راقم کو بھی 5 لاکھ کی پیش کش کی تھی، تاکہ میں اُن کی راہ میں نہ آو¿ں اور اس پراجیکٹ کو مالی طور پر قابل عمل (viable) ثابت کروں۔ میں نے فوراً اُس وقت کے چےئرمین کو اس خباثت سے مطلع کردیا اور تجویز پیش کی کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو مجھے متعلقہ data فراہم کرے، اور میں اُس بنیاد پر پراجیکٹ کی viability نکال سکوں جو صرف 4 فیصد کے قریب تھی،جبکہ حکومت پاکستان کے مقرر کردہ معیار کے مطابق یہ 12 فیصد سے کم نہیں ہونا چاہئے تھی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اُس وقت کے منسٹر پلاننگ نے، جو بین الاقوامی شہرت کے مالک تھے، عجب توضیح فرمائی کہ اس پراجیکٹ کی وجہ سے بلوچستان امریکہ کی ایک ریاست (نام یاد نہیں آرہا، شاید کیلی فورنیا) کی طرح ترقی کرجا ئے گا۔ بلوچستان گورنمنٹ اس پراجیکٹ کے لئے دباو¿ ڈال رہی تھی۔ حقیقت پر مبنی ایک سمری غلام اسحاق خاں مرحوم کو بھیجی گئی، جس میں ساری صورتِ حال بیان کردی گئی۔ اس طرح یہ پراجیکٹ اپنی موت آپ مرگیا۔ایک سیاسی منسٹر نے اپنی پہلی ملاقات میں راقم سے پوچھا کہ ٹرینوں کی سپیڈ کس طرح بڑھائی جائے؟ راقم نے بتایا کہ ٹرین کے لوڈ اور سپیڈ کا آپس میں براہِ راست تعلق ہے۔ لوڈ کم کردیں تو سپیڈ بڑھ جائے گی، بشرطیکہ ٹریک، کوچز اور سگنل سسٹم اس کی اجازت دیں۔ اُنہیں بتایا کہ اس طرح کی ایک کوشش تیزگام ٹرین کے سلسلے میں کی گئی تھی، جس سے تیز گام کی آمدن میں کمی ہوگئی۔ اس لئے اس کوشش کو ترک کردیا گیا۔ پوچھا کہ یورپ میں گاڑیوں کی رفتار تیز کیوں ہے؟ بتایا کہ وہاں دو یا اس سے زیادہ انجن لگائے جاتے ہیں اور ڈبوں کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ پاکستان ریلوے کے پاس انجنوں کی تعداد کم ہے، جبکہ ہماری بعض ٹرینیں 22 ڈبوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ منسٹر صاحب نے انکشاف فرمایا کہ ریلوے کے ایک افسر نے اُنہیں بتایا کہ ٹرینوں کی رفتار بڑھانا ممکن ہے۔ چند دنوں کے بعد راقم کے ایک رفیق کار نے، جو وزارت سے رےلوے میں ٹرانسفر ہوئے (بعد میں جنرل منیجر بنے)، الوداعی ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ مَیں نے وزیر صاحب سے ملاقات کا ذکر کیا۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون افسر ہوسکتا ہے۔ کہنے لگئے، یہ میں ہی تھا، کہ منسٹر کی بات تو ماننی چاہئے۔ اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ خرابیاں کیونکر جنم لیتی ہیں۔بات چل نکلی ہے تو ایک اور چشم کشا واقعہ بیان کردوں۔ ان وزیر صاحب کے چارج سنبھالتے ہی ان کو چین یاترا کے لئے تیار کرلیا گیا۔ لوکل ایجنٹ نے سارے انتظامات مکمل کرلئے۔ وفد میں وزیر کے پی۔اے اور ان کے علاقے کے سیاسی کارکن بھی شامل تھے۔ واپسی پر ہیڈ کوارٹر میں میٹنگ ہوئی۔ ایک جنرل منیجر لیول کے افسر بھی ان کے ساتھ گئے تھے۔ فرمایا کہ چین کی فرموں کے ساتھ مل کر ایک shopping list تیار کی گئی ہے۔ اُس کے مطابق پراجیکٹ تیار کرکے حکومت سے اُس کی منظوری حاصل کی جائے۔ مجھے یہ بات سُن کر جیسے آگ لگ گئی۔ گویا کہ ہم چین کے ایجنٹ ہیں۔ میں نے میٹنگ میں plannign process، جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، ان مراحل کا ذکر کیا کہ یہ سارے مراحل طے کرنے کے بعد مشین اور equipment کی درآمد کی سٹیج آتی ہے۔ اس پر مذکورہ جنرل منیجر، جو زیر صاحب کو چین کی یاترا کروانے کے لئے لے گئے تھے، کا رنگ زرد پڑگیا۔ وزیر صاحب جو چےئرمین صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے، پوچھا کہ ان صاحب (راقم) کی ملازمت میں کتنے دن باقی ہیں (یہ بات میٹنگ کے بعد مجھے چےئرمین صاحب نے بتائی) مذکورہ جنرل منیجر، جو اتفاق سے بعد میں چےئرمین بن گئے، نے میری اس ”گستاخی“ کو معاف نہیں کیا اور اپنے چےئرمین بننے کے دس دن کے اندر اندر مجھے چلتا کیا۔جس طرح کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، لوگ ریلوے ٹریک ڈبل کرنے کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ وزیر کے کان میں لوگ یہ تجویز پھونک دیتے ہیں۔ ریلوے کے پرنسپل افسروں کی میٹنگ میں اس پر بحث ہوئی۔ انجےنئرنگ سیکشن نے اربوں روپے کا تخمینہ لگایا، لیکن اس کے فوائد جو ریلوے کو حاصل ہوتے اس کا کوئی ذکر نہ تھا۔ راقم نے کہا کہ ریلوے کے آپریٹنگ آفیسر یہاں بیٹھے ہیں، اُن سے پوچھ لیا جائے کہ آیا وہ اس پراجیکٹ کی افادیت کو محسوس کرتے ہیں؟ کسی نے ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیا۔ راقم نے تجویز پیش کی کہfeasibility study کروالی جائے، جو نتائج سامنے آئیں اُن کے مطابق عمل کیا جائے۔ چلتے چلتے ریلوے کے پرسونل (personnel) ڈیپارٹمنٹ کا ذکر بے محل نہ ہوگا۔ یہ ادارہ پبلک سیکٹر میں بڑے اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ 1975-80ء کے دوران اس ادارے میں اوسطاً 138,000 ملازم تھے، جو کم ہوکر اب 84,000 کے قریب رہ گئے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ اس شعبہ کی سربراہی کے لئے کسی management یا administration کی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چیف پرسونل آفیسر کی اکثریت انجےنئرنگ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افسروں سے تعلق رکھیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جنرل کیڈر کی پوسٹوں پر اپنے کیڈر کے لوگوں کو تعینات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنے کیڈر کو promote کرتے ہیں۔ یہی حال وزارتِ ریلوے میں سیکرٹری ریلوے بورڈ کے تحت administration اور establishment کے محکموں میں ہوتا۔ ہے۔ اگرچہ اس امر میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا، میں نے ایک سیکریٹری ریلوے بورڈ، جو مکینیکل کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے، سے پوچھا کہ آپ نے ڈائریکٹر MIS کے لئے مکینیکل کے فلاں آفیسر کو کیوں promote کروایا، جبکہ سول انجےنئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والا فلاں آفیسر زیادہ سینئر اور زیادہ تجربہ کار موجود تھا؟ کہنے لگے کہ اپنے بچوں کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ یہ حضرت دین دار اور ایمان دار مشہور تھے۔اس شعبہ کا ایک الگ کیڈر نہ ہونے کے باعث اس شعبے کا سربراہ، یعنی چیف پرسونل آفیسر پرانے کلرکوں پر بھروسہ رکھتا ہے۔ فیڈرل گورنمنٹ کا ایک ڈویژن O&M (Organization & Method) کہلاتا تھا۔ آج کل یہ Management & Sservices ڈویژن کہلاتا ہے۔ ایک زمانے میں ریلوے اُمور پر ایک سٹڈی کی تھی۔ جس سے اُنہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ ایک کلرکوں کے زیر اثر (clerk ridden) ادارہ ہے، جبکہ ورلڈ بنک نے افسروں کے تعلق سے اسے inward looking بیوروکریسی کا خطاب دیا۔ آج کے دور میں human resource ایک specialised field ہے، جو اپنے ادارے کی استعداد اور پیداواری قوتوں کو بڑھاکر اُسے کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔ ورنہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر یا پروموشن کے کیسوں کو کوئی بھی ہیڈ کلرک پایہ انجام تک پہنچاسکتا ہے۔بے محل نہ ہوگا اگر ریلوے کو پرائیویٹ کرنے یا جزوی طور پر اس کے آپریشن کو پرائیویٹائز کرنے کا ذکر کیا جائے۔ عرصہ ¿ دراز سے اس پر ٹامک ٹوئیاں ماری جارہی ہیں۔ لاہور،فیصل آباد سیکشن کو پرائیویٹائز کرنے کا تجربہ کوئی دور کی بات نہیں۔ کنٹریکٹر نے جس طرح ریلوے حکام کو ناکوں چنے چبوائے، سب کو معلوم ہے۔ ورلڈ بنک نے ریلوے کی نجکاری پر ایک نہایت عمدہ کتابچہ شائع کیا ہے، جس میں نجکاری سے گزرنے والے ریلوے اداروں کے تجربات بیان کئے گئے ہیں۔ اس میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ریلوے نجکاری میں ناکامی کا سب سے اہم سبب ایک نامکمل اور غلط قسم کا معاہدہ ہوتا ہے، جس کے باعث ریلوے مزید خرابی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ریلوے کی جزوی نجکاری track access پالیسی کہلاتی ہے۔ اس میں ریلوے، ٹریک، سگنل اور ٹیلی کمیونی کیشن، سٹیشنوں وغیرہ کو ایک مطلوبہ معیار تک maintainکرنے کا پابند ہوتا ہے، اور ان کو استعمال کرنے کے عوض چارجز وصول کرتا ہے۔ اس کے عوض پرائیویٹ کمپنیاں اپنی کوچز، ویگنز اور لوکوموٹوز لاتی ہیں۔ چارجز کی شرح کا تعین (workout) کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے، اور ticklishبھی۔ پیچیدہ عمل اس لئے کہ ریلوے کے پاس کوئی costing expert نہیں اور ticklish اس لئے کہ پسنجر اور مال کے درمیان مشترکہ لاگت (joint costs) کو علیحدہ علیحدہ معلوم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس کے علاوہ track access چارجز اگر زیادہ ہوں تو ممکن ہے کمپنیوں کے لئے قابل قبول نہ ہوں اور اگر کم ہوں تو ریلوے کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوجائے۔ بزنس ٹرین کا حالیہ منصوبہ ان خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ معاہدہ کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی یہ مشکلات کا شکار ہوچکا تھا۔ریلوے نجکاری جب حکومتِ وقت کی ترجیحات میں شامل تھی، سویڈن کے خارجی امور کے سربراہ سیکریٹری ریلوے سے ملنے آئے۔ سیکرٹری صاحب نے ریلوے نجکاری کی پیشکش کردی۔ سویڈش بیوروکریٹ نے کہا کہ ہم نے اپنے یورپی ہمسایوں کے دیکھا دیکھی موٹرویز بناکر ریلوے کو نظر انداز کردیا۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ پرائیویٹ پارٹی اپنے مفاد حاصل کرکے ریلوے کو کھوکھا بناکر چھوڑ دے گی۔ بہتر ہے کہ اس کی پرائیویٹائزیشن کا کام چھوڑ کر اس کی بہتری کی طرف توجہ دی جائے۔پسنجر آپریشن دنیا کے کسی ملک میں بھی منافع بخش کاروبار نہیں۔ ریلویز مال گاڑیوں سے کماکر سسٹم کا نقصان کم کرتے ہیں، یعنی cross-subsidize کرتے ہیں۔ ریلوے نے 2006-07ءمیں 26.5 بلین پسنجر کلومیٹر حاصل کرکے ریلوے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ تو قائم کردیا، لیکن مال (freight) کے شعبے میں اُس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ یہ ایک تجزیہ مانگتا ہے۔اس بے یقینی کی حالت میں آج بھی لوگ ریلوے میں سفر کرنا چاہتے ہیں۔ سستا اور آرام دہ ہونے کی وجہ سے long lead کے لئے اور کوئی متبادل ذریعہ سفر نہیں۔ ریلوے کو چاہئے کہ اپنا ٹریفک long lead کے لئے مخصوص کرے، اور non-stop ٹرینیں چلائے۔ راقم نے اُس وقت کے وزیر، چےئرمین / سیکرٹری، جنرل منیجرز اور ممبر فنانس کو یہ نوٹ بھیجا تھا کہ پسنجر سیکٹر کے نقصان کو کلی طور پر ختم کرنا تو مشکل ہے، تاہم اس کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز دی گئیں:(i)پاکستان ریلوے اپنے پسنجر آپریشن کو صرف 32 میل / ایکسپریس ٹرینوں تک محدود کردے، جو 70 فیصد ٹریفک earn کرتی ہے۔ (ii)دو یا تین ٹرینیں (ٹریفک کے مطابق) کراچی سے لاہور تک ڈائریکٹ چلا دی جائیں۔ باقی ساری ٹرینیں ملتان terminate کرکے انٹر سٹی نان سٹاپ ٹرینیں چلائی جائیں۔ مثلاً(ا ) ملتان سے لاہور(ب) لاہور سے راولپنڈی(ج) راولپنڈی سے پشاور(د) ملتان سے فیصل آباد(ر) لاہور سے فیصل آباد(س) کراچی سے حیدر آباد (iii)پشاور کے مسافروں کے لئے کراچی سے براستہ کشمور،کندیاں نان سٹاپ گاڑیاں چلائی جائیں۔(iv)ٹرینوں کے standardized rakes کئے جائیں۔ مندرجہ بالا آپریشن سے لوکوموٹِوز کی ضرورت کم پڑجائے گی، جس کو مال کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس تجویز کو دیوانے کی بڑ سمجھا گیا، اور اُس وقت کے جنرل منیجر نے زبانی طور پر اسے ناقابل عمل قرار دیا۔شوکت عزیز صاحب کے دور میں ریلوے کو کارپوریشن بنانے کے معاملات میں کافی تیزی آئی ہوئی تھی، لیکن اُس وقت کے چےئرمین بعد میں وزیر ریلوے کی مداخلت کی وجہ سے اس معاملے میں پیش رفت نہ ہو سکی۔ایسی کارپوریشن جو competition کے ماحول میں کام کررہی ہو، پاکستانی کلچر میں یقینا مشکلات کا شکار ہوگی، بعید از قیاس نہیں۔مثلاً بے روک ٹوک بھرتیاں، فنڈز کو استعمال کرنے کی کھلی آزادی، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لئے ناجائز مراعات اےسے معاملات ہیں، جو کسی کارپوریشن کے مالی امور میں مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ریلوے کو کارپوریشن بنائیں یا نہ بنائیں، منافع بخش منصوبے اس کو کامیابی کی طرف گامزن کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف صاحب کے دور میں ایٹمی دھماکہ کرنے پر ڈونر ممالک نے پاکستان کو مالی امداد (قرضہ) دینا بند کردیا،جس کے اثرات ریلوے پر بھی پڑے۔ حکومت پاکستان کے پاس foreign exchange نہ ہونے کے باعث ایسے ممالک سے رجوع کرنا پڑتا ہے، جو foreign exchange بھی دے اور equipment بھی مہیا کرے۔ ایسی صورتِ حال میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مجبور ملک ڈونر ملک کی شرائط کا پابند ہوگا۔ اسی وجہ سے پاکستان ریلوے کو چین کی طرف جانا پڑا۔چین کے ریلوے equipment کے سلسلے میں بہت سی بے سر و پا باتیں پریس میں آتی رہی ہیں۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ یورپی اور امریکن لوکوموٹِوز کی قیمت اُس زمانے میں 2.5 ملین ڈالر تھی۔ جبکہ چین سے اسی ہارس پاور کا لوکوموٹِو 1.4 ملین ڈالر میں ملا۔ کارکردگی کے متعلق صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ چائنا ریلوے، جو دنیا کے بڑے ریلوے نظاموں میںشامل ہے، انہی انجنوں کو استعمال کرتا ہے۔ تو آخر پاکستان میں اس کو کیا ہوگیا؟ وجہ صرف یہ تھی کہ مطلوبہ پرزہ جات چین سے حاصل نہ کئے گئے اور لوکوموٹِوز کو ground کرنا پڑا۔ ریلوے ، جو ایک عرصہ سے سرمایہ کاری کی کمی کا شکار تھی، اتنی بڑی سرمایہ کاری اور وہ بھی کمرشل لون (commercial loan) کی متحمل نہ ہوسکی۔ اس میں چند منصوبے ترجیحات میں شامل نہ کئے جاتے تو مثبت نتائج حاصل ہوتے۔ راقم نے 2000ءمیں اپنی presentation میں اس کا اظہار کردیا تھا۔ اس میں اُس وقت کے وزیر، چےئرمین، دونوں جنرل منیجرز، چند پرنسپل افسر حاضر تھے۔ اس میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کا خسارہ 2001-02ءمیں 4.8 بلین سے بڑھ کر 2012-13ءمیں 12 بلین ہوجائے گا۔ حاضرین نے اسے قبول تو کیا ،لیکن پھر 2012ءکس نے دیکھا ہے۔ آئیں، بائیں شائیں!قارئین! جس طرح ایک ملک کو چلانے کے لئے ایک آئین درکار ہوتا ہے، اسی طرح ٹرانسپورٹ کو چلانے کے لئے ایک پالیسی درکار ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ٹرانسپورٹ پالیسی سے محروم ہے۔ پرویز مشرف دور میں اس پر تھوڑی بہت پیش رفت تو ہوئی، لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔ آخر یہ ہے کیا؟ٹرانسپورٹ پالیسی کا رہنما اصول یہ ہونا چاہئے کہ ٹرانسپورٹ کا مالی بوجھ قومی آمدنی میں کم از کم ہو، اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ محدود وسائل کا استعمال بہترین طریقے (optimum) سے کہا جائے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس کے اہم نکات مختصراً درج ذیل ہیں:(i)معیشت کے مختلف شعبوں کو support مہیا کرنا اور اُنہیں متحرک (stimulate) کرنا۔(ii)توانائی اور ٹرانسپورٹ کے درمیان ایک رابطہ قائم کرنا۔(iii)قومی تعمیر کے عمل میں ممد ثابت ہونا۔(iv)متوازن علاقائی ترقی۔(v)مختلف ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں مقابلے کی فضا کے بجائے ایک دوسرے کی تکمیل (complement) کرنا۔(vi)ماحول کو ممکنہ حد تک آلودگی سے پاک کرنا۔(vii)ایسا نظام وضع کرنا جس سے نظام لاگت کو خود برداشت کرے۔(viii)معاشرے کی سماجی ضروریات کو پورا کرنا۔ٹرانسپورٹ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کی وجہ اس کا مختلف شعبوں پر مشتمل ہونا ہے۔ مثلاً سڑکیں، روڈ ٹرانسپورٹ، ریلوے، اےئر لائن اور سمندری ٹریفک پائپ لائن وغیرہ۔اگر اس کے کچھ یا سارے شعبہ جات پرائیویٹ سیکٹر میں ہوں تو حکومت کا عمل دخل ضروری ہوجاتا ہے۔ تاکہ سرمایہ کاروں اور عوام کے حقوق اور فرائض کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ماحولیات و سیفٹی اور سیکیورٹی کے لئے گورنمنٹ کا عمل دخل ضروری ہوجاتا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں حکومت ہر سال 15/16 فیصد خرچ کرتی ہے۔ مختلف شعبوں میں منصفانہ allocation اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک ادارہ جو خودمختار ہو، ہر سال سائنسی بنیادوں پر مختلف شعبوں میں محدود وسائل کو تقسیم کرے، تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوسکیں۔ ٹرانسپورٹ کی قومی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر اس میں اپنا رول ادا کرے، جس میں پرائیویٹ سیکٹر ایک طرف تو مناسب منافع کمائے اور دوسری طرف صارفین کو بہتر سہولیات میسر ہوں۔ مذکورہ بالا ادارہ سیاسی اثر سے بالا ہونا چاہے اور ڈپٹی چےئرمین پلاننگ کمیشن کے ماتحت ہو۔ اس ادارے میں پیشہ ور ٹرانسپورٹ کے ماہر معیشت (transport, staticians, cost accountants, financial and economic experts) شامل ہوں۔پس چہ باید کرد؟مندرجہ بالا سطور میں ہمارے ریلوے نظام کے محاسن اور عیوب بیان کردیے گئے، جوکہ تین دہائیوں کے مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہیں۔ طوالت کے پیش نظر کئی تفصیلات سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔ مختصراً مندرجہ ذیل سفارشات کی جاتی ہیں:(i)ٹرانسپورٹ کی قومی پالیسی بنائی جائے، تاکہ معیشت میں ٹرانسپورٹ کی کم سے کم لاگت کا عنصر سامنے آئے۔ (ii)ریلوے کو اس کا مقام دلایا جائے۔ اس میں مناسب سرمایہ کاری کی جائے اور ترجیحات کا از سرِ نو تعین کیا جائے۔ بورڈ میں بلاتخصیص ماہرین تعینات کئے جائیں۔(iii)پہلے اور دوسرے پنج سالہ منصوبوں میں ٹرک 150 میل کی حدود میں ہی نقل و حمل کرسکتے تھے، جس سے ریلوے کو بہت سپورٹ ملتی تھی۔ ریلوے کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لئے کسی ایسی پالیسی کی ضرورت ہے۔(iv)پلاننگ کمیشن اور وزارتِ خزانہ کا منصوبوں (projects) کے سلسلے میں کردار کوئی بہتر نتائج نہیں لا سکا۔ اس کے لئے ایک high-powered ٹرانسپورٹ کونسل تشکیل دی جائے۔ یاد رہے کہ ٹرانسپورٹ میں نقصانات کے ازالے سے معیشت میں بہتری ممکن ہے، اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان اپنے products کو لاکر compete کرسکتا ہے۔ اس سے ”تجارتی عدم توازن“ ختم ہوگا۔ ٹریڈ میں بہتری سے روپیہ کی قدر میں بہتری آئے گی۔ یاد رکھیے! ان عوامل میں بہتری لانے کی کنجی ایک مستعد (efficient) ٹرانسپورٹ سسٹم میں مضمر ہے۔(v)ریلوے ٹریک کے متوازی سڑکوں کی تعمیر نے نہ صرف

مزید : اداریہ