بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت من موہن کے حوالے

بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت من موہن کے حوالے

                                                                                                                        سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے پاکستان نے بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کے ثبوت بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے حوالے کر دیئے، دہشت گردی سے متعلق پاکستان کو بھارت سے تحفظات ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدگی سے آگے بڑھنا چاہئے۔ سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا، بلوچستان سے متعلق وزیر اعظم نوازشریف کی من موہن سنگھ سے بات چیت ہوئی۔دہشت گردی جنوبی ایشیا کے خطے کا بڑا مسئلہ ہے۔ نائن الیون کے بعد، افغانستان پر امریکی حملے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں بڑھی ہیں۔ امریکہ نے تو نائن الیون کے ایک ماہ بعد افغانستان پر فضائی حملے کر کے طالبان کی حکومت کو ختم کر دیاا ور وہاں حامد کرزئی کو لابٹھایا ۔افغانستان پر حملے کے بعد عراق میں صدام حسین کی حکومت ختم کی، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کر رکھے ہیں۔ یہ ہتھیار تو نہ ملے، لیکن عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ عراق پر حملے کے لئے عالمی ادارے میں جھوٹ بولا گیا۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے بھی اس جھوٹ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ وہ اپنے آپ کو صدر بش کا ”پوڈل“ کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے ،لیکن بالآخر انہیں برطانوی عوام کے غم و غصے کا شکار ہونا پڑا اور وہ اپنی تیسری حکومت کی مدت پوری کئے بغیر مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے۔ اُن کی اپنی پارٹی کے اندر بغاوت ہو گئی تھی جو ان کی اقتدار سے علیحدگی کا باعث بنی۔امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملے کر کے اپنے ملک کو محفوظ کر لیا۔ نائن الیون کے بعد وہاں دہشت گردی کا کوئی بڑا اور منظم واقعہ نہیں ہوا۔ امریکہ کے اتحادی یورپی ملکوں میں بھی چند واقعات کے بعد یہ سلسلہ رُک گیا، لیکن دہشت گردی کا مرکز پاکستان اور جنوبی ایشیاءکا خطہ بن گیا۔ ڈرون حملوں کا ردعمل بھی پاکستان میں ہی ہوا اور ہمسایہ ملک نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کروا دیا۔ حکومتِ پاکستان کے وزراءماضی میں بھی یہ کہتے رہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔ ابھی حال ہی میں نیویارک میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف نے بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے جواب میں من موہن سنگھ نے کہا کہ اُن کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں۔ غالباً اس کے جواب میں ہی پاکستان نے بھارت کو ثبوت پیش کر دئیے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کوئی آج سے شروع نہیں ہوئی یہ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس میں بھارت کے ملوث ہونے کی بات وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں بھی من موہن سنگھ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ اب یہ ضروری ہے کہ بھارت کو اگر ثبوت فراہم کئے گئے ہیں تو کسی پلیٹ فارم پر یہ معاملہ حل کر لیاجائے۔ بھارت کے لئے یہ بہت ہی شرمناک ہوگا کہ وہ پاکستان پر تو بار بار دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ ابھی کل ہی بھارتی صدر پرناب مکھر جی نے کہا ہے کہ بھارت میں دہشت گرد آسمان سے نہیں اُترتے، پاکستان سے آتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہو جائے وہ فوراً پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کا میڈیا بھی آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ اب اگر پاکستان نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت بھارت کے حوالے کر دئیے ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔پاکستان اور بھارت ہمسائے ہیں اور بھارتی رہنما اکثر کہتے رہتے ہیں، دوست تبدیل کئے جاسکتے ہیں، ہمسائے نہیں، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ دو ہمسایہ ملک جو ایٹمی قوتیں بھی ہیں۔ خطے میں امن کی خواہش رکھنے کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دونوں ملک علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے رُکن بھی ہیں۔ دنیا میں علاقائی تعاون کی ایسی تنظیمیں اپنے مقاصد حاصل کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔ ان کے رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھ گئی، امن قائم ہوگیا، خوشحالی آگئی، لیکن بدقسمتی سے سارک کی تنظیم اپنا تاسیسی کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام ہوگئی، اس تنظیم پر پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی ہمیشہ سایہ فگن رہتی ہے۔ ان دو ملکوں کے علاوہ باقی ارکان نسبتاً چھوٹے ہیں جن میں زیادہ تر بھارت ہی کے زیر اثر ہیں۔ اس لئے جب تک ان دو ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہوں گے۔ سارک بھی اپنا کردار ادا نہیں کر سکے گی۔ سارک کے پلیٹ فارم پر پاکستان اور بھارت نے کئی بار عہد کیا کہ خطے میں دہشت گردی کی جائے گی، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ رُک نہیں پا رہی تو کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے اور دونوں ملکوں کی قیادت کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں خرابی کہاں ہے اور وہ کیسے دور ہو سکتی ہے۔ محض خواہشات یا خالی خولی بیانات سے نہ تو دہشت گردی رک سکتی ہے نہ دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آسکتے ہیں۔نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کا زیادہ نشانہ بنا ہے۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میں خودکش حملے بڑھے ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے قابل فخر فوجی سپوتوں کے ساتھ ساتھ اپنے 40 ہزار سے زائد سویلین باشندے بھی قربان کئے ہیں اور معیشت کا نقصان بھی اٹھایا ہے۔ دہشت گردی نے پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو خصوصی طور پر زخم زخم کر رکھا ہے۔ پاکستان نے ان حالات کے باوجود کبھی صبر اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، نہ بلا وجہ اشتعال انگیزی کی ہے اور نہ بغیر ثبوتوں کے الزام تراشی کی ہے۔ اب اگر پاکستان نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت بھارت کے حوالے کر دئیے ہیں۔ تو بھارتی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اس سارے معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے اور اگر اس کا قصور نکل آتے تو اس پر شرمسار ہو کر آئندہ سے اس حرکت سے توبہ کرلے، اگر بھارت اسی طرح پاکستان کے امور میں مداخلت کرتا رہا اور دہشت گردی کی وارداتوں میں اپنا حصہ ڈالتا رہا تو دونوں ملکوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں ہو سکیں گے اور اس کا منفی اثر دونوں ملکوں کے ڈیڑھ ارب عوام کے مستقبل پر پڑے گا۔ بھارت اگر پاکستان کے ساتھ عدم مداخلت کے اصول پر کاربند ہو جائے تو اس میں اس کا بھی فائدہ ہے۔ دونوں ملکوں کے پُر امن بقائے باہمی کے تعلقات ہی خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے ضامن ہو سکتے ہیں۔

مزید : اداریہ