گلی، محلوں میں قربانی، ایک سماجی مسئلہ

گلی، محلوں میں قربانی، ایک سماجی مسئلہ
گلی، محلوں میں قربانی، ایک سماجی مسئلہ

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)عیدالاضحی جیسی بے مثال،پنی نوعیت اور تاریخ کے لحاظ سے پہلی انسانی قربانی تھی کیونکہ یہ صرف اللہ تعالی کے لئے تھی۔ اللہ تعالی کو حضرت ابراہیم کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ رہتی دنیا تک اسے ایک پسندیدہ ترین عبادت قرار دے دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے آج دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان قربانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیںتاہم گلیوں، بازاروں اور محلوں میں ہونے والی انفرادی قربانیوں کی وجہ سے جگہ جگہ جانوروں کا فضلہ اور الائشیں بکھر جاتی ہیںاور راستوں کی بندش، حادثات کے خدشے کی وہ سے کسی صورت بھی مذہبی ، اخلاقی یا سماجی طورپر درست نہیں ۔

 ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال عید قربان کے موقع پر پاکستانیوں نے تقریباً 75 لاکھ جانوروں کی قربانی دی تھی، تاہم امسال ملک میں 78 لاکھ 50 ہزار جانوروں کی قربانی کی جائے گی جس سے لائیو سٹاک کے شعبہ میں 300 ارب روپے سے زائد کی اقتصادی سرگرمیاں پیدا ہوں گی۔

 ہمارے ہاں عیدالاضحی جیسا مذہبی تہوار انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور ہر شہری کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی چادر کے مطابق قربانی کے فریضہ کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ بحیثیت مسلمان یہ جذبہ بلاشبہ ہمارے لئے نہایت خوش آئند اور قابل تحسین ہے، لیکن قربانی جیسے اہم ترین مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں ہم سالہا سال سے ایک سماجی مسئلہ سے دوچار ہیں۔

تیزی سے بڑھتی آبادی اور سکڑتے رہائشی علاقوں کی وجہ سے گلی، محلوں میں ہونے والی انفرادی قربانیوں کی وجہ سے نہ صرف ہم طبی مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں، بلکہ پرندوں کے جہازوں سے ٹکرانے کے باعث جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ گلیوں، سڑکوں، بازاروں اور محلوں میں ہونے والی انفرادی قربانیوں کی وجہ سے جگہ جگہ جانوروں کا فضلہ اور الائشیں بکھر جاتی ہیں، جس کو بروقت اٹھانے کے لئے بڑے شہروں میں تو گزشتہ چند سال سے کچھ بہتری نظر آتی ہے، لیکن مجموعی طور پر ملک بھر میں یہ صورت حال آئیڈیل نہیں۔ گلیوں اور سڑکوں پر پڑا قربانی کے جانوروں کی الائشیں اور بہتا خون نہ صرف راہ گیروں کے لئے شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے بلکہ اس غلاظت سے پیدا ہونے والا تعفن مختلف بیماریوں کا بھی سبب ہے۔

پھر جانوروں کی الائشوں پر پرندوں کے غول در غول امڈ آتے ہیں، جو بعدازاں جہازوں سے ٹکرانے کا باعث بنتے ہیں، یہ ٹکراو¿ نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ پائلٹ اگر ہوشمندی کا مظاہرہ نہ کرے تو ہمیں قیمتی جانوں کے ضیاع کا نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے گندگی کے ڈھیروں کے حوالے سے مہمات چلائی جاتی رہتی ہیں، پھر بھی کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور پیش آ جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں تازہ ترین واقعہ اسلام آباد بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی پیش آیا جہاں جہاز نے ابھی اڑان ہی بھری تھی کہ پرندہ ٹکرا گیا جس پر پائلٹ نے بڑی کامیابی سے جہاز واپس ایئرپورٹ پر اتار لیا، جس سے 47 مسافروں کی قیمتیں جانیں تو بچ گئیں لیکن جہاز کو کافی نقصان پہنچا۔ ماضی میں پرندوں کے ٹکرانے کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے باعث کئی جہازوں کو گراو¿نڈ بھی کیا جا چکا ہے۔

عید الاضحی کے موقع پر نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی جانوروں کی قربانی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ان ممالک اور پاکستان میں فرق یہ ہے کہ وہاں اپنے شہریوں کی صحت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق قربانی کے لئے باقاعدہ مقامات مختص کئے جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں حکومتوں کی عدم توجہی اور سہولیات کے فقدان کے باعث گھروں، گلیوں، سڑکوں، بازاروں اور محلوں میں ہی مذبحہ خانے بنا لئے جاتے ہیں۔

یورپ اور عرب ممالک میں عیدالاضحی کے موقع پر کوئی شخص اپنے گھر یا گلی میں جانور ذبح نہیں کر سکتا بلکہ اسے متعلقہ مخصوص جگہ کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں ویٹرنری ڈاکٹرز کی موجودگی میں ماہر قصاب جانور ذبح کرتے ہیں۔ عرب ممالک میں عیدالاضحی سے قبل گھر گھر باقاعدہ شعوری مہمات چلائی جاتی ہیں، قربانی کے لئے جگہیں مختص کرنے کے لئے مقامی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے، قصابوں کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے اور قربانی کے جانور کی باقاعدہ منظوری لی جاتی ہے، جس میں فٹنس کے معیار کی چانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

پاکستان کے چاروں صوبوں میں 398 تحصیلیں ہیں جبکہ سرکاری مذبحہ خانوں کی تعداد صرف 3 سو کے لگ بھگ ہے، جو نہ صرف 18کروڑ عوام کو معیاری گوشت فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں بلکہ یہاں سے بین الاقوامی منڈی میں بھی گوشت فروخت کے لئے بھجوایا جاتا ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ نئے مذبحہ خانوں کی تعمیر پر کوئی دھیان دینے کو تیار ہے نہ پہلے سے موجود ان سنٹرز کی مکمل فعالیت کے بارے میں کسی کو فکر ہے،لہذا نہ صرف مذبحہ خانوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے بلکہ عیدالاضحی جیسے مذہبی تہوار پر جانوروں کی قربانی کے لئے خصوصی طور پر سرکار کو ہر محلے اور ٹاو¿ن میں کوئی گراو¿نڈ مخصوص کرنا چاہیے تاکہ الائشوں سے بیماری پھیلیں نہ جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رونما ہوں۔ مگر یہاں یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ پھر اس گراو¿نڈ کی بروقت صفائی کو بھی ممکن بنایا جائے کیوں کہ اگر صفائی کا بروقت انتظام نہیں کیا جاتا تو پھر بچے اور نوجوان کھیلنے کی جگہ دستیاب نہ ہونے سے کہیں کسی منفی سرگرمی میں مبتلا نہ ہو جائیں، کیوں کہ انہوں نے کھیل کا وقت تو گزارنا ہی ہے۔

میڈیارپورٹ کے مطابق معروف عالم دین مفتی راغب نعیمی نے بتایا کہ حرم شریف اور مساجد کے علاوہ روئے زمین پر ہر جگہ قربانی کی جا سکتی ہے۔ مساجد کے حوالے سے کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ علماءکرام شائد جو اجتماعی قربانیاں کرتے ہیں، وہ مساجد میں ہوتی ہیں، لیکن اجتماعی قربانی مسجد نہیں بلکہ اس کے صحن میں کی جاتی ہے۔دوسرا گلی محلوں میں ہونے والی قربانی کے بارے میںایک بات تو واضح ہے کہ قربانی ہر جگہ ہو سکتی ہے، لیکن عوامی مشکلات کے پیش نظر پبلک مقامات پر قربانی کی صورت میں صفائی اور احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

سابق صدر ہائی کورٹ بار عابد ساقی نے کہاہے کہ گلی محلوں میں قربانی کے معاملے پر قانون خاموش ہے،ہمارا ہاں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جس کے تحت قربانی کے لئے کوئی خاص جگہ مختص ہو اور لوگ اسی جگہ پر جا کر قربانی کریں، حالاں کہ دیگر ممالک میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے لئے جگہیں مختص کی جاتی ہیں۔

پاکستان پیٹس پریکٹیشنر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جمشید طاہر نے بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت قربانی کے جانور سے کوئی بیماری نہیں لگتی، لیکن جانور کے خون سے احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ بیماریاں پیدا کرنے والے تمام جراثیم اور وائرس جانور کے خون میں ہوتے ہیں جو اچھی طرح بہہ اور صاف نہ ہونے کے باعث کوئی مشکل پیدا کر سکتا ہے۔ لہذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ جانور کو ذبح اور کھال اتارنے کے بعد ایک سے دوگھنٹے کے لئے اسے لٹکا کر رکھیں تاکہ خون اچھی طرح بہہ جائے، وقت کم ہونے کی وجہ سے قصاب حضرات اور مالکان اس چیز کا خیال نہیں رکھتے تو پھر متاثرہ خون سے بیماری لگ سکتی ہے۔

قربانی کے لئے ہر ٹاﺅن یا محلہ میں مخصوص جگہ کے تعین پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ہونا تو چاہیے کیوں کہ اس صورت میں اگر کوئی جانور کسی بیماری سے متاثرہ ہے تو یہ بیماری ایک ہی جگہ مقید رہتی ہے، پھیلتی نہیں، جس کا سدباب کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن جگہ جگہ قربانی کرنے کی صورت میں متاثرہ جانور کی وجہ سے وسیع پیمانے پر منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

مزید : لاہور