کہانی ایک بکرے کی

کہانی ایک بکرے کی
کہانی ایک بکرے کی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) عیدالاضحی کے موقع پر سنت ابراہیمی کی پیروی میں دنیا بھر میں مسلمان جانوروں کی قربانی دیتے ہیں اور اس موقع پر کئی بکرے بھی قربان ہوتے ہیں ، ایسے ہی ایک بکرے کی آپ بیتی بیان کی گئی ہے جو بچپن میں نہایت پیار سے پلا لیکن عید کے موقع پر مالک نے چند روپوں کی خاطر قربانی کیلئے بیچ دیا ۔ بکرے کے بقول وہ ایک صاف ستھرے گھر میں رہتا تھا، مالک بہت خوش اخلاق انسان تھا، بہت پیار کرتا تھا۔ ہر وقت خیال رکھتا تھا، ابھی میں چھوٹا سا ہی تھا جب میرے مالک نے میری دیکھ بھال شروع کی، وقت پر کھانا دیتا اور کبھی بلاوجہ نہیں ڈانٹتا تھا۔ صبح سویرے خود ہی سیر کو نکل جاتا تھا اور کچھ ہی دور رہنے والے اپنے دوستوں سے مل لیتا تھااور پھر مقررہ وقت پر واپس آکر کھانا کھاتا۔ دن بھر اپنے مالک کے گھر اور کبھی گھر سے باہر گھومتا رہتا تھا۔ ہرے بھرے پتے اور نرم گھاس کھا کر میں کافی صحت مند ہوگیا تھا۔ میں سوچتا تھا یہ سب انسان کتنے پیارے ہوتے ہیں جو ہم جانوروں سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ میرا مالک بہت غریب آدمی تھا۔ وہ اپنی آمدنی میں بمشکل گزارا کرپاتا تھا۔ کچھ دنوں سے میں مسلسل یہ دیکھ رہا تھا کہ میرا مالک بہت پریشان رہنے لگا ہے۔ اس کی نظر جب بھی مجھ پر پڑتی تو وہ اداس اور غمگین ہوجاتا۔ اگلی صبح میں معمول کے مطابق جب کچھ ہی دور اپنے دوستوں سے ملنے گیا تو وہاں بہت کم تعداد میں میرے دوست کھڑے تھے۔ میں نے ایک قدرے بڑی عمر کے دوست سے جاکر پوچھا کہ سب کہاں چلے گئے تو اس نے مجھے ایک الگ ہی کہانی سنادی۔

اس نے کہا: ”عیدالاضحی آنے والی ہے، اس میں مسلمان اللہ کے حکم سے جانور ذبح کرکے قربانی کی سنت پوری کرتے ہیں، ہم بکروں اور بکریوں سمیت اونٹ، بیل، بھیڑ وغیرہ کی بھی قربانی کی جاتی ہے۔ ہم سب بھی اسی انتظارمیں ہیں کہ نہ جانے کب کوئی آئے اور ہمیں اپنے ساتھ لے جائے۔“ میں یہ سب سن کر حیران تو بہت ہوا لیکن آہستہ آہستہ مجھے سب باتیں سمجھ میں آگئیں۔ مجھے اپنے مالک کے غمگین ہونے کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی کہ میرا مالک بھی مجھے یونہی ایک دن فروخت کرکے اپنے اوپر چڑھا ہوا بہت سا قرضہ اتار تو دے گا لیکن میری جدائی کا سوچ کر وہ اداس اور غمگین ہوجاتا ہے۔ دن یونہی گزرتے رہے لیکن مالک کے پاس مجھے خریدنے کے لئے کوئی نہ آیا۔ آخر ایک دن اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ خود مجھے لے جاکر شہر میں فروخت کرے گا۔

چنانچہ ایک صبح کو میرے مالک نے میرے گلے میں رسی ڈالی اور مجھے گھر کے دروازے تک لے آیا، اچانک مجھے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میرے مالک کے دونوں بچے بھی مجھے پرنم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، جیسے الوداع کہہ رہے ہوں۔ میں نے اپنے منہ سے مخصوص آواز نکال کر انہیں آخری بار دیکھا اور ہم رخصت ہوگئے۔

بکرا منڈی میں نہ جانے کہاں کہاں سے جانور لائے گئے تھے۔ بکرے خریدنے والوں کا بھی بہت ہجوم تھا، میرے مالک نے میرے سفید جسم پر مہندی لگائی ہوئی تاکہ میں خوبصورت نظر آﺅں۔ ابھی میں منہ اٹھائے بکرا منڈی کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ دو ہٹے کٹے نوجوان میرے مالک کے پاس آئے اور میرے بارے میں پوچھنے لگے۔ اچانک ان میں سے ایک نے میرے منہ میں موجود دانتوں کو دیکھ کر میرا منہ چھوڑ دیا، میں نے سکھ کا سانس لیالیکن ابھی آزمائش باقی تھی۔ آخر کار وہ دونوں چلے گئے اور میں نے شکر ادا کیا کہ ان کو میں پسند نہیں آیا۔

ان دونوں کے جانے کی دیر تھی، اب تو ہر کوئی مجھے دیکھنے آرہا تھا۔ میں ہر کسی کو اپنی آزمائش کروا کروا کر تھک گیا تھا۔ بار بار منہ کھول کھول کر میرے جبڑوں میں درد ہونے لگا تھا۔ نہ جانے یہ سب میرے منہ میں کیا تلاش کررہے تھے۔ خدا خدا کرکے رات کا وقت ہوا اور بکرا منڈی میں کچھ سکون نظر آنے لگا۔ میرا تھکن کے مارے برا حال ہورہا تھا اور نہ جانے کب مجھے نیند آگئی۔

عید میں تھوڑے ہی دن رہ گئے تھے۔ منڈی میں مجھے چوتھا دن شروع ہوچکا تھا۔ شام کا وقت قریب تھا کہ ایک بڑی عمر کا آدمی اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ میرے پاس آیا، مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگا اور میرے مالک سے میری قیمت پوچھی، وہ اپنے لباس اور وضع قطع سے امیر گھرانے کا لگ رہا تھا۔ آخر کار میں اسے پسند آگیا، میرے مالک نے قیمت لے کر میری رسی اس آدمی کو تھمادی اور میرا نیا مالک میری پیٹھ کو سہلانے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ اب مجھے کسی اور کے ہاں جانا ہوگا۔ میرا مالک اب کوئی اور ہوگا۔ وہ آدمی مجھے اپنی کار تک لے آیا اور ہم ایک مختصر سفر کے بعد ایک عالیشان گھر کے گیٹ پر جاکر رکے۔

”بکرا آگیا، بکرا آگیا“ گھر کے سب بچے اونچی اونچی آواز میں چلا کر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ ہر کوئی اشتیاق سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ گھر کے صحن کے ایک کونے میں مجھے باندھ دیا گیا۔

گھر میں موجود بچے بہت حد تک شرارتی واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے ایک لمحے کے لئے بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ آخر کب تک برداشت کرتا، میں نے ایک بچے کو ہلکی سی ٹکر ماری، یہ دیکھ کر مجھ سے سارے بچے دورہٹ گئے۔ میں نے سکون کا سانس لیا، کم بخت جب سے آیا ہوں کسی نے نہ پانی کا پوچھا، نہ کھانے کا۔ میں نے نظر اٹھا کر ان بچوں کو دیکھا تو مجھے دور ایک چھوٹا سا بچہ نظر آیا جو بہت محبت سے میری طرف دیکھ رہا تھا، اس نے گھر میں پڑی گھاس لاکر میرے سامنے ڈالی اور پانی میں لادیا۔ میں نے ممنون نظروں سے اس بچے کو دیکھا اور دل میں خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ہے میرا خیال رکھنے والا۔

 میری قربانی کا دن نزدیک آرہا تھا، مجھے پتا چل گیا تھا کہ اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے چنا گیا ہے۔

عید کے دن کا سورج طلوع ہوا توسب مرد عید کی نماز پڑھ کر آئے اور مجھے گھر کے صحن میں ہی ذبح کرنے کا ارادہ کرنے لگے۔ میرے گلے میں رسی کو نکال دیا گیا۔ مجھے زمین پر لٹا کر اللہ کے حضور اس کی رضا مندی کے لئے ذبح کیا جانے لگا۔ میں نے آخری بار جسے دیکھا وہ نئے گھر میں پانی کھانادینا والالڑکا تھا۔ کمرے کی کھڑکی سے جھانکتا ہوا وہ مجھے اپنی بھیگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ مجھے آخری بار دیکھ رہا ہے اور پھر چھری گلے تک آپہنچی جس کے بعد مجھے اللہ کے راستے قربان کردیاگیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس