13لاکھ روپے کماکر بھی بچوں کی فیس نہ دینے والی خواتین کی حیران کن داستان

13لاکھ روپے کماکر بھی بچوں کی فیس نہ دینے والی خواتین کی حیران کن داستان
13لاکھ روپے کماکر بھی بچوں کی فیس نہ دینے والی خواتین کی حیران کن داستان

  

لندن(نیوزڈیسک)مالی تہذیبی تعلیمی حوالے سے مخصوص طبقے کا اپر مڈل کلاس لوگوں جیسی زندگی گزارنے اور اپنانے کی خواہش پر آکسفورڈ کے پروفیسر نے بہت ہی فکر انگیز تجزیہ بیان کیا ہے۔ جس کو اگر ایک سطر میں بیان کرنا ہو وتو یہ کہا جائے گا کہ اچھی کمائی کرنے کیلئے محنت کشوں کی اکثریت شاہانہ زندگی گزارنے کیلئے دن رات ایک کردیتے ہیں اور خود کو امیر لوگوں میں شمار کرنے کیلئے ان کے انداز دنگی کو اپناتے ہیں چاہے اس کے لئے انہیں اپنی پہچان اور شناخت بھی کھونی پڑجائے۔ لیکن جلد ہی ہوش ٹھکانے بھی آجاتے ہیں جیسے امیروں کی تقلید کرتے ہوئے اپنے بچے کو اعلیٰ درجے کے سکولوں میں داخل کروادیتے ہیں کہیں پھر ان کی فیسوں کی ادائیگی کے وقت کتنی بے چارگی محسوس کرتے ہیں اس کا اندازہ صرف یہی لوگ کرسکتے ہیں ۔خیموں نے غربت سے امارت کا سفر محض اس لئے طے کرنے کی کوشش کی کہ معاشرے میں ان کی عزت ہو اور امیر کہلائیں۔ اس طرح امیروں کی طرح چھٹیاں گزارنے کی دھن میں وہ ساری جمع پونجی ختم کرکے خالی ہاتھ خود کو ہی کوستے نظر آتے ہیں، اسی مشکل کے شکار انگلینڈ کے ایک جوڑے کی کہانی کو بطور مثال آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

46 سالہ ڈیزائنر سارہ اور ان کے وکیل شوہر بھی اسی طرح کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے وسائل کو دیکھے بغیر امیروں کی زندگی کے ٹھاٹ بھاٹ اپنانے کا جرم کیا۔ سارہ کہتی ہیں کہ ہماری آمدنی کا بڑا حصہ قرضے کی مد میں خرچ ہوجاتا ہے اور ایسا گزشتہ چند ماہ میں ہی ہورہا ہے پھر ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ جب سے ہمارا بڑا بیٹا سکول چھوڑ کر اے لیول کا امتحان پاس کرنے کے لئے کالج میں داخل ہوا تو ہمیں اس کے لئے قرضہ لینا پڑا اور پھر قرضہ کی ادائیگی میں ہماری آمدنی کا بڑا حصہ خرچ ہونے لگا۔ آخر مجھے خود ڈیزائننگ کے میدان میں آنا پڑا اور ہزار ڈالر ماہانہ اضافہ کما کر اپنے گھر کی گاڑی کو کھینچنے لگی۔ خود سارہ نے ایک آرٹس کالج میں چار سال تعلیم حاصل کی اور پھر ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں گریجوایشن مکمل کی لیکن تب اسے یا اسکے والدین کو قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئی۔ ’بطور ماں جب میں نے دیکھا میرے بچے کا مستقبل اچھے کالج کی فیس کی مد میں 30 ہزار ڈالر جمع کرانے کے لئے بہت سے اخراجات کو سرے سے ہی ختم کرنا پڑا۔ گویا ہم نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بیٹے کو اعلیٰ کالج میں تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا‘۔جب وہ ڈگری لے کر آیا تو معلوم ہوا کہ اس کی ڈگری اور ہمارے ہمسائے کے ان دو بچوں کی ڈگری میں کوئی فرق نہ تھا جنہوں نے لوکل کالج سے تعلیم پائی اور وہ شام کو سامنے گراﺅنڈ میں کرکٹ بھی کھیلتے تھے۔ ان کے والدین نے اپنی زندگی کو اجیرن بنائے بغیر اپنے بچوں کو گریجوایٹ بنایا جبکہ ہم نے زندگی کے چار سال دکھ میں گزارے ۔ ایسا صرف اس لئے ہوا کہ ہمارے سامنے ایک ہی بات تھی کہ ہمارا بچہ اعلیٰ درجہ کے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہو۔ ہوسکتا ہے ہمارے اس فیصلے کے دوررس نتائج بھی ہوںلیکن فی الوقت تو افسوس ہی ہورہا ہے اور یہ سوچ رہی ہوں کہ مجھے اپنی چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانے چاہیے تھے۔

یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے بلکہ اکثریت دوسروں کا سرخ منہ دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار کر سرخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے تکلیف تو ہوتی ہے لیکن منہ سرخ نہیں ہوتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس