خلائی مخلوق کو کون حقیقت مانتا ہے؟کتاب میں دلچسپ انکشافات

خلائی مخلوق کو کون حقیقت مانتا ہے؟کتاب میں دلچسپ انکشافات
خلائی مخلوق کو کون حقیقت مانتا ہے؟کتاب میں دلچسپ انکشافات

  

لندن(نیوزڈیسک)ایک ماہر فلکیات نے دعویٰ کی اہے کہ کسی بھی شخص کے زمینی زندگی پر ایمان مختلف ہوسکتا ہے خواہ اس شخص کا عقیدہ کسی بھی مذہب سے ہو۔ اسی طرح ایک نئی کتاب میں یہ تجزیہ دیا گیا ہے کہ 55 فیصد ملحد اور فلکرین زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر زندگی کے آثار سے متفق ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مسلمان بھی اسی نظریے کی تائید کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ان تمام تصاویر اور تحریر کو کھنگالا جائے جو 25 مختلف مذاہب کے دانشوروں نے کی یا لکھی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ”ایلینز“ کی موجودگی کو مانتے ہیں۔ فلکیات کے پروفیسر ڈیوڈ کہتے ہیں کہ مکیں نے آدھی درجن کتابیں پڑھی ہیں جس میں زمین کے علاوہ بھی زندگی کی بات بحث کی گئی ہے۔ مجھے بہت سے ابہام نظر آئے جسے میں نے اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس ضمن میں میں کھوج لگاتا گیا اور میری رائے ہے کہ 55 فیصد مفکرین ایلینز(خلائی مخلوق) کے موجودگی تسلیم کرتے ہیں۔ 44 فیصد مسلمان اور 37 فیصد یہودیوں کا کہنا ہے کہ زمین کے علاوہ زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اس کائنات میں صرف زندگی زمین پر ہی ممکن ہے۔ 36 فیصد ہندو اور 32 فیصد عیسائی ایلینز کی موجودگی کی گواہی پر یقین رکھتے ہیں۔ پروفیسر ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ایشیا میں ایلینز کے وجود کو تسلیم کرنے میں لوگ کافی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ مزید وہ مسلمانوں کی مذہبی کتاب سے ایک احتبساس کا حوالہ دیتے ہیں جو اس نظریے کی حمایت کرتا ہے جس کے مطابق دیگر سیاروں پر روحانیت کا وجود تو ہے لیکن ان کی عملی شکل صرف زمین پر ہے۔ عیسائیت کے حوالے سے پروفیسر ڈیوڈ کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ رومن کیتھولک عیسائی ایلینز کے وجود کو مانتے ہیں۔ عیسائی مبلغین دوسرے سیاروں پر زندگی کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔ البتہ وہ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ایلینز کا تعلق حضرت آدم اور حوا سے نہیں ہے اس لئے یہ گناہ سے مبرا ہوتے ہیں۔ اب اس بحث کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں کہ 2000 ءمیں ماہرین فلکیات نے 50 سیاروں کی بات کی جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں جو ستاروں کے مداروں میں سفر کرتے ہیں اور ایسے سیاروں کی تعداد ایک ہزار ہوگئی ہے اگر ان سیاروں کی دریافت کرنے کی رفتار یہی رہی تو 2045ءتک یہ تعداد ملین سے تجاوز کرجائے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس