اورپھر یاد تازہ ہوگئی

اورپھر یاد تازہ ہوگئی
اورپھر یاد تازہ ہوگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نمل نامہ (محمد زبیراعوان )عیدالاضحی کا آخری اور تیسرادن ہے ، قصائیوں نے چھریاں ایک مرتبہ پھر تیز کرلیں اور نان بائیوں نے اپنی جیبوں کا سائز بڑاکرلیاہے ، کئی علاقوں میں چھ روپے کی روٹی 10روپے میں بڑی ڈھٹائی سے فروخت ہوتی رہی، انتظامیہ’ چھٹیوں‘ پر تھی۔

وزیراعلیٰ پنجاب بھی آمر محسوس ہوتے ہیں جس کام کے پیچھے پڑجائیں ، کرکے ہی چھوڑتے ہیں ، پنجاب میں سستی روٹی سکیم شروع ہوئی تھی جس پر آج بھی انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں اوراُس سکیم میں کروڑوں روپے تندوروں میں جھونکے جانے کے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں ۔دوروپے روٹی سکیم ختم ہوئی تو نان بائیوں کے خلاف معیار اور قیمت پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے انتظامی افسران کی چھاپہ مار کارروائیاں بھی دم توڑ گئیں ۔

عیدالاضحی کے موقع پرلاہور کے پوش علاقوں میں موجود ہوٹل کم تندورمالکان نے بھی ’عیدی مہم‘ شروع کی اور انتظامیہ کی ’چھٹی‘ کی وجہ سے روٹی 10روپے تک فروخت ہوتی رہی جس کے باعث کمرشل علاقوں میں موجود آٹھ سے دس ہزار روپے ماہانہ کمانے والے مزدورطبقے اور سیکیورٹی گارڈ ز کو پیٹ بھر کھانا بھی مشکل سے نصیب ہوا۔

سرکاری طورپر 100گرام روٹی کی قیمت چھ روپے مقررکی گئی ہے لیکن بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑرہاہے کہ ہم نے حضرت شعیب ؑ کی قوم کی غلطیاں نہیں چھوڑیں اور پھر اپنے اوپر آنیوالے عذاب کا ذمہ دار حکمرانوں کو قراردیتے ہیں جبکہ حضرت شعیب اوراُن کے ساتھیوں کے علاوہ قوم کاانجام واضح پیغام ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اعلان کیاہے کہ عید کے بعد بھی اشیاءخورونوش ملاوٹ، کم ناپ تول اورگرانفروشی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ عید کے موقع پر غریب مزدوروں کی خون پسینے کی کمائی کا ذمہ دار کون ہوگا؟؟؟

دلچسپ مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس وقت گرانفروشی کے خلاف کمیٹی نام کا گروہ موجود ہے لیکن انٹرنیٹ پر کہیں بھی کوئی ریکارڈ میسر نہیں جس کی مدد سے متلعقہ حکام کو رپورٹ کی جاسکے لیکن جب ’سلمان‘ روٹی کی قیمت بتاتے ہوئے دروازہ پکڑکر کھڑا تھا تو اس لمحے نے شہبازشریف کی سستی روٹی سکیم یاددلادی لیکن ساتھ ہی سکیم کے

خاتمے کے بعد مکمل بے حسی نے بھی ’پانی پانی‘ کردیا۔

مزید : بلاگ