فریاد

فریاد
 فریاد

  

بزرگ ہمیشہ سے ہی میرے لئے قابل احترام رہے ہیں، مَیں ان کی بات غور سے سنتا ہوں اور قدرے زیادہ وقت دینے کی کوشش کرتا ہوں ،کبھی انہیں ناراض نہیں کرتا ۔ نوجوانوں کی خیر ہے ،بزرگ کا کیا بھروسہ کہ کب زندگی سے روٹھ کر خالق حقیقی کے پاس چلے جائیں اور ساتھ ہی دل میں ناراضگی بھی لے جائیں۔ نوجوانوں کی خیر ہے، ان کے پاس خاصا وقت ہوتا ہے، ناراض بھی ہوں تو منا لیں گے، مگر بزرگ بعض اوقات منانے کا وقت بھی نہیں دیتے ،اس لئے ان کے بارے میں محتاط رہتا ہوں۔ مَیں اپنے ہفت روزہ شیڈول کے مطابق وریسہ اسلام ٹرسٹ ہسپتال یونٹ گجن سنگھ والا ضلع قصور میں مریضوں کے چیک اپ میں مصروف تھا کہ ایک بزرگ مریض ،جس کی عمر 75برس تھی، دوا لینے کے بعد بڑے نرم لہجے میں بولا کہ ڈاکٹر صاحب میرا بیٹاپرائمری ہیلتھ یونٹ میں چپڑاسی ہے، وہاں اسے 6ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، آپ محکمہ صحت میں کسی سے سفارش کر دیں ۔ مَیں نے خلوص نیت سے عرض کی کہ مَیں محکمہ صحت میں کسی کو نہیں جانتا۔ کیا آپ نے کسی اور سے بات کی؟اس نے کہا کہ علاقے کے سیاسی ورکر سے بات کی تھی ،مگر وہ بات ہی سننے کے لئے تیار نہیں، آپ کالم نگاربھی ہیں، آپ کی بات محکمہ صحت والے ضرور سنیں گے۔

بزرگ یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ اس مضبوط میڈیا کے دور میں کالم نگار فون کرے اور کوئی اس کی بات نہ سنے۔انہیں یہ احساس ہی نہیں تھا کہ میڈیا بے شک مضبوط ہے، لیکن حکمران مضبوط تر،بلکہ مضبوط ترین ہیں۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بھوک، افلاس اور بے روزگاری کے سبب خود کشیاں بڑھ رہی ہیں،لیکن ان بھو کوں کے ووٹوں سے حکمران بننے والوں میں بڑے بڑے محلّات بنانے کا مقابلہ جاری ہے، روزانہ سینکڑوں لوگ ہسپتالوں میں ادویات نہ ہونے کے سبب د م توڑ دیتے ہیں اور ہیلتھ منسٹری سمیت تما م وزراء اپنی جگہ قائم ہیں۔میں اس بزرگ کی بات سن کر پریشان تھااور سوچ رہا تھا کہ یہاں پر ہر کوئی بے حال ،پریشان اور محروم ہے، سوائے مراعات یافتہ طبقے کے۔ان حالات میں میری بے چارگی کسے کسے سہارا دے گی؟ فوراً خیال آیا اور میں نے عرض کیا کہ بیٹے سے کہیں کہ صوبائی محتسب کے دفتر میں درخواست دے، انشااللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔وہ بزرگ سمجھے کہ مَیں انہیں ٹال رہا ہوں ،ورنہ مَیں فون کروں اور محکمہ فوراً حاضر نہ، ہویہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آخر وہ رنجیدہ خاطر ہو کر ٹانگیں سمیٹتے ہوئے کھڑے ہوئے اور یہ کہہ کر چل دیئے کہ ہم غریب کس کے دروازے پر اپنی فریاد لے کر جائیں ؟مجھے بہت دُکھ ہوا، کیونکہ مَیں کسی بزرگ کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔

اسی ادھیڑ پن میں مبتلا تھا کہ آواز آئی سر آپ سے کوئی بلال نامی نوجوان ملنا چاہتا ہے ۔اسے اندر آنے کو کہا، ایک انتہائی سادہ کپڑوں میں ملبوس نوجوان میرے سامنے کھڑا تھا، وہ اس قدر مظلوم تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے وہ بات نہیں کر رہا، بلکہ آنسو پی پی کر اپنا دکھڑا سنا رہا ہے۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ قریبی گاؤں سے تعلق رکھتا ہے، ڈبل یا ٹرپل ایم اے ہے ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کر چکا ہے اور آج کل لاہور کے مشہور ہوٹل میں برتن مانجھ کر روٹی کما رہا ہے۔کہنے لگا ڈاکٹر صاحب یہ کیسا مُلک ہے کہ جعلی ڈگریوں والے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں، معمولی تعلیم یافتہ حکمران بن جاتے ہیں اور ٹرپل، یعنی تین ایم اے کرنے والے بھوک کی آگ بجھانے لے لئے ہوٹلوں میں برتن دھونے کے لئے مجبور ہوتے ہیں ۔مَیں تو صرف سکول ٹیچر بننا چاہتا ہوں، لیکن پنجاب حکومت نے سائنس مضامین کے علاوہ ٹیچروں کی بھرتی بند کر رکھی ہے ،دوسری طرف یہ حال ہے کہ ہزاروں سکول، ٹیچروں سے محروم ہیں، وہاں نہ سائنس کے ٹیچر ہیں اور نہ ہی آرٹس کے۔ ہمارے پڑھے لکھے اور ہم سے کم پڑھے حکمران آخر یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ آرٹس مضامین بھی اتنے ہی اہم ہیں، جتنے سائنس مضامین ۔ اگر مجھے پہلے علم ہوتا تو مَیں ایک ایم اے کسی سائنس مضمون میں بھی کر لیتا ۔اب مَیں کئی برسوں سے آرٹس مضامین میں بھرتی کھلنے کا منتظر ہوں،یہ الگ بات ہے کہ بھرتی کھلے گی تو ووٹ لینے کے لئے اسمبلیوں کے امیدوار ان سفارشی لوگوں کی بھرتی کروانے نکل پڑیں گے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

مَیں نے بلال کو سمجھانے کی کوشش کہ ہماری صدا کوئی نہیں سنتا،لیکن وہ اپنی ذد پر قائم رہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ آواز اُٹھائیں تو سہی ۔مَیں ہار مان گیا اور وعدہ بھی پورا کردیا، لیکن مجھے یقین ہے کہ میری آواز اقتدار کے محلاّت سے ٹکراکر واپس لوٹ آئے گی ۔یوں قلم کا بھرم بھی ٹوٹ جائے گا،کیونکہ لوگ اس حسن ظن میں مبتلا ہیں کہ حکمران میڈیا کی بات سنتے ہی نہیں، بلکہ مانتے بھی ہیں۔یہ لوگوں کی سادگی کی انتہا ہے کہ وہ لفظوں، نعروں اور القاب کے جھانسے میں آجانے ہیں۔ حکمران الفاظ کی جادو گری اور تپش میں لوگوں کو پگھلا کر ووٹ لے لیتے ہیں، یہ بھی ان کی سادگی ہے کہ وہ ہمیں نہایت با اثر اور میڈیا سے اُٹھنے والی ہرآواز کو فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔اپنی پوری چیخ و پکار کے بعد بھی کیا میڈیا کرپشن گھٹانے میں کامیاب ہواہے؟ کیا حکمرانوں کی شان و شوکت اور فضول خرچیاں روکنے میں کامیاب ہوا؟کیا پانامہ لیکس کے کرداروں کو منتقی انجام تک پہنچا پایا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ!!میڈیا کا کام آئینہ دکھانا اور لوگوں کی سیاسی تربیت کرنا ہے ۔اگر لوگ سب کچھ جاننے کے باوجودپھر انہی لوگوں کو اسمبلیوں میں دیکھنے کے خواہشمند ہیں، جو علاقے کے لوگوں کے مسائل ہی حل نہ کروا سکے تو میڈیا اس میں کیا کرے؟میرا تجربہ انفرادی اور اجتماعی مسائل کے بارے میں مایوس کن رہا ہے، ہر روز کتنے ہی لوگ قلم کی طاقت سے حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہیں، مگر یہ کب کسی کی سنتے ہیں۔ان کا رویہ اس دریا کی مانندہوتا ہے، جسے صرف اپنی اور اپنی موج کی طغیانی سے غرض ہے۔کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔

مزید : کالم