پاکستانی معیشت: قرضوں کے گرداب میں

پاکستانی معیشت: قرضوں کے گرداب میں
پاکستانی معیشت: قرضوں کے گرداب میں

  

چند روز قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے قوم کو مبارکباد دی کہ زر مبادلہ کے ذخائر 23 بلین ڈالر سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ تجسس ہوا کہ پاکستانی برآمدات تو مسلسل کم ہو رہی ہیں جو کہ درآمدات کا تقریباً نصف رہ گئی ہیں، خلیجی ریاستوں کی خراب ہوتی ہوئی معاشی صورت حال کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیل زر ، جو کہ اب تک زرمبادلہ میں اضافے کا بڑا سبب بنتی تھیں ، کی حالت بھی دگرگوں ہے ،بیرونی سرمایہ کاری بھی گزشتہ سال ایک بلین ڈالر کے لگ بھگ تھی ،اس میں بھی بڑا حصہ سی پیک کے تحت چین کی سرمایہ کارہی کی وجہ سے تھا ، تو زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیسے ہوا ؟۔۔۔کولیشن سپورٹ فنڈکے تحت امریکہ سے بھی ڈالروں کی وصولی بند ہو چکی ہے ۔ حقیقت یوں آشکار ہوئی کہ 23 بلین ڈالر سے زیادہ کے زرمبادلہ میں عام شہریوں کے فارن کرنسی اکاؤنٹس کی رقوم بھی شامل ہیں ،جبکہ بقیہ حصہ قرضوں کے ذریعے وصول ہونے والی رقوم پر مشتمل ہے 2012ء تک ، جو پیپلز پارٹی کی حکومت کا آخری سال تھا ، وفاقی حکومت کے اندرونی قرضے 7674 بلین روپے تھے جو مسلم لیگ (ن) کی 2013ء میں برسر اقتدار آنے والی حکومت تک 9494 بلین روپے ہو چکے تھے اور جن میں اسحاق ڈار کی طرف سے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لئے دیئے گئے 400 بلین روپے شامل ہیں۔

2016ء کے اختتام تک یہ اندرونی قرضے 69 فیصد اضافے کے ساتھ 12970 بلین ہو چکے تھے، اسی طرح سے بیرونی قرضے جو سال 2012ء تک 46.4 بلین ڈالر تھے، وہ 2016ء تک55.1 بلین ڈالر ہو چکے تھے (اکنامک سروے 2015ء ۔2016ء کے مطابق )۔۔۔ جبکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق یہ 61.35 بلین ڈالر ہو چکے تھے، یعنی 2012ء کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ۔ اس اضافے میں 4.6 بلین ڈالر کے موجودہ حکومت کے یورو بانڈز اور سکوک بانڈز کے ذریعے سے حاصل کی گئی رقوم بھی شامل ہیں ۔یاد رہے کہ یہ بانڈ مارکیٹ ریٹ سے تقریباً 2 گنا زیادہ شرح سود پر لئے گئے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے 3 سال سے زیادہ کے عرصے میں پبلک قرضہ 5476 بلین سے زیادہ ہو چکا ہے جو سا ل 2015ء۔۔۔2016ء میں جی ڈی پی کا 68 فیصد بنتا ہے۔ گورنمنٹ آف پاکستان کااپنا بنایا ہوا قانون۔۔۔ قرضو ں کو جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ کی اجازت نہیں دیتا ، اس طرح سے موجودہ حکومت برملا خود اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

کسی بھی ملک کی طاقت کا اندازہ اس کی فوجی طاقت اور معاشی قوت پر منحصر ہوتا ہے۔، مذکورہ دونوں قوتوں میں سے کسی ایک میں بھی کمزوری ملکی سالمیت کے لئے خطرے کا باعث ہوتی ہے۔ الحمدللہ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے، جبکہ دنیا کی مضبوط فوجوں میں سے ایک مضبوط فوج رکھنے کی بنیاد پر قابل اعتماد دفاعی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن معاشی حوالے سے حالات بہت کمزور ہیں۔ دور جدید میں سوویت روس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اتنی بڑی ایٹمی قوت ہونے کے باوجود معاشی بدحالی کی وجہ سے سوویت روس اپنے آپ کو برقرار نہ رکھ سکا۔۔۔ ایک طرف بجٹ خسارہ کم نہیں ہو رہا ، گزشتہ برس بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محاصلات کی وصولی میں 20 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن نان ٹیکس ریونیو میں 17 فیصد کمی واقع ہوئی اور محاصلات کی وصولی میں بھی زیادہ اضافہ کسٹم ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کی شرح ٹیکس میں اضافہ کی وجہ سے تھا۔ پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں بے محابہ اضافہ کیا گیا اور تمام درآمدات پر ایک فیصد شرح سے ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی گئی۔ اس بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے قرض لئے جاتے ہیں، دوسری طرف تجارتی خسارے میں برآمدات کی مسلسل کمی وجہ سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے بھی قرض لئے جاتے ہیں۔

مستقبل قریب میں آئی ایم ایف اور پیرس کلب کے قرضوں کی قسطیں بھی ادا ہونی ہیں جو 5بلین ڈالر سے زیادہ ہیں،اس کے پیش نظر حکومت نے مارکیٹ میں سکوک بانڈز فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گزشتہ سال بھی بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.6 فیصد تھا (جبکہ ہدف 4.3 فیصد کا تھا)موجودہ مالی سال میں بجٹ خسارے کا ہدف 3.8 فیصد رکھا گیا ہے جو پورا ہوتا نظر نہیں آتا ۔ماہرین کے مطابق یہ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ حکومت قرض اتارنے کے لئے مزید قرض لینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ حکومت سیاسی مصلحتوں کی بناء پر بنیادی ٹیکس اصلاحات کرنے سے گریزاں ہے۔برآمد کنندگان کے ری فنڈ روک کر ٹیکس ریونیو میں اضافہ دکھایا جاتا ہے۔ کاروباری اخراجات کم کر کے ، انرجی (بجلی و گیس) کی قیمتیں کم کر کے، سپلائی کو بہتر کر کے اور امن و امان کی صورت حال کو ٹھیک کر کے برآمدات میں اضافہ کرنے کے زبانی دعووں کے علاوہ حکومت کی طرف سے عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اندرون ملک سیونگز کی حوصلہ افزائی ،بیرون ملک سے سرمایہ کاری کے ذریعے سے پیداواری صلاحیت میں اضافے،پاکستانی مصنوعات کی کوا لٹی کوبہتر کر کے اور قیمتوں کے لحاظ سے بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لئے مربوط اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے، ورنہ پاکستانی معیشت قرضوں کے گرداب میں دھنستی چلی جائے گی جو ملکی سالمیت کے لئے خطرے کا باعث ہے۔

مزید :

کالم -