پلیجو مکتبہ فکر کو دھچکا

پلیجو مکتبہ فکر کو دھچکا
 پلیجو مکتبہ فکر کو دھچکا

  

سیاست بھی کیا عجیب چیز ہے۔ بیٹی ماں کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔ باپ بیٹا ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انتخابات میں بھائی بھائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان میں مزاحمتی سیاست کے ایک بڑے کردار رسول بخش پلیجو اور ان کے بیٹے کے درمیاں ہو گیا ہے۔ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک نے اس وقت بڑا نام کمایا جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مارشل لا ء کی مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر تحریک بحالئ جمہوریت جو ایم آر ڈی کے نام سے مشہور تھی ، کی بنیاد ڈالی اور جیل بھرو تحریک کا آغاز کر دیا۔ یہ 1983 کی بات ہے۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء اپنے جوبن پر تھا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کے الزام میں عدالت سے سزا ملنے کے بعد پھانسی کی سزا پر عمل در آمد ہو چکا تھا۔ جنرل ضیاء کسی طور پر بھی انتخابات کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ سیاسی جماعتیں خصوصا پیپلز پارٹی بحالی جمہوریت کے لئے کوشاں تھی کیوں کہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل ضیاء 1977میں اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ جب جیل بھرو تحریک کا آغاز ہوا تو ابتدا میں تو صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سمیت سب ہی اپنا اپنا حصہ ڈال رہے تھے لیکن پیپلز پارٹی تحریک کو جاری رکھنا چاہتی تھی تاکہ جتنا زیادہ ممکن ہو دباؤ ڈالا جا سکے تاکہ وہ انتخابات کے انعقاد کا اعلان کریں۔ جنرل ضیاء کسی طور پر انتخابات کے حق میں نہیں تھے۔ تحریکوں میں عام طور پر ایک وقت ایسا آتا ہے جب تازہ دم دستوں اور افراد کی قلت ہو جاتی ہے۔ ایسے وقت میں عوامی تحریک میدان میں اتری تھی۔

عوامی تحریک رسول بخش پلیجو نے قائم کی تھی۔ وہ اپنی سیاست کی ابتداء سے ہی احتجاج اور مزاحمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کو انتخابی سیاست سے دور رکھا ہوا تھا۔ وہ ایسے کارکن تیار کرتے تھے جنہیں معاشرتی تبدیلی اور نظام حکومت کی تبدیلی کے سوا کوئی سرو کار نہیں تھا۔ کارکنوں کی فکری نشستوں میں انہیں سوشلزم، کمیونزم ، انقلاب، لانگ مارچ، پڑھایا جاتا تھا۔ جس بڑے پیمانے پر عوامی تحریک نے کارکن فکری طور پر تیار کئے تھے ویسا پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کے سوا کسی اور نے نہیں کیا۔ بہت بعد میں ایم کیو ایم نے بھی کارکن تیار کرنے کا یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ رسول بخش ایک ہی وقت میں فکری محاذ، تنظیمی محاذ،سیاسی اور سماجی محاذ پر اپنی قوتیں صرف کرتے تھے۔ جب ضلع بدین کے ایک معمولی کاشت کار فاضل راہو ان کے ساتھ ہوئے تو فاضل نے تنظیمی محاذ پر ان کا ہاتھ بٹانا شروع کیا اور عوامی تحریک کو کارکنوں کی ایک ایسی کھیپ ملی جو کسی سوال کے بغیر وہ سب کچھ کرنے پر تیار تھے جس کے بارے میں انہیں کہا جاتا تھا۔ ایم آر ڈی میں عوامی تحریک اگر جیل بھرو تحریک میں پیش پیش نہ ہوتی تو تحریک دم توڑ جاتی۔ پیپلز پارٹی کی جا نب سے تو اس کے وہ رہنماء بھی گرفتاریاں دے چکے تھے جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ غلام مصطفے جتوئی، میر اعجاز علی خان تالپور ، نجم الدین سریوال، اور دیگر درجنوں رہنما کب سوچتے تھے کہ وہ بھی کسی دن جیل جائیں گے۔ رسول بخش پلیجو بھی جیل چلے گئے۔ فاضل راہو گرفتار ہوئے۔ اور عوامی تحریک کے کارکن قیادت کی غیر موجودگی میں بھی جیل بھرتے رہے۔ پلیجو یہ سب کچھ جمہوریت کی بحالی کے لئے کر رہے تھے ورنہ پیپلز پارٹی اور بھٹو سے تو ان کا روز اول سے سیاسی اختلاف تھا۔ ان کا جی ایم سید سے جب نظریاتی بنیادوں پر سیاسی اختلاف پیدا ہوا تو انہوں نے بزم صوفیاء کی بنیاد رکھی تھی جو بعد میں عوامی تحریک میں ضم ہو گئی تھی۔ کسی کے تصور میں نہیں تھا کہ عوامی تحریک اتنے سخت جان کارکنوں کی کھیپ چھپائے بیٹھی تھی۔

رسول بخش پلیجو اور فاضل راہو نے ایم آر ڈی تحریک میں اپنے کردار کا سودا نہیں کیا ۔ تحریک جاری رہی۔ بعد میں فاضل راہو قتل ہوگئے۔ فاضل کا قتل رسول بخش اور عوامی تحریک کے لئے ایک خطر ناک دھچکا تھا۔ لیکن پلیجو نے پارٹی کو سنبھال لیا تھا۔ پاکستان میں طویل لانگ مارچ کرنا کسی اور پارٹی کے بس کی بات کبھی نہیں رہی لیکن عوامی تحریک نے ایک بار نہیں ، بار بار ایسا کر کے دھکایا۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر لانگ مارچ کامیابی سے ہمکنار ہو لیکن جب کسی چیز کی بنیاد پڑ جاتی ہے تو ایک نہ ایک روز کامیابی بھی مل ہی جاتی ہے۔ یہ عوامی تحریک ہی ہے جس نے سندھ کے ایک کونے جیکب آباد سے دوسرے کونے کراچی تک لانگ مارچ کر کے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کیا۔ لانگ مارچوں میں خواتین کارکن بھی شامل رہتی تھیں۔ محبت سندھ ریلی ایک سے زائد بار نکالی گئیں۔ کراچی کے حالات کے خلاف سخت احتجاج بھی کئے گئے۔ کراچی میں تو ریلی پر فا ئرنگ بھی کرائی گئی۔ سندھ میں سرکاری سطح پر بدعنوانیوں بشمول سرکاری ملازمتوں کی فروخت کے خلاف تحریک مسلسل چلائی جارہی ہے۔

رسول بخش نے شعوری طور پر پارٹی میں نیا خون متعارف کرایا اور 2008 میں پارٹی میں خفیہ رائے شماری کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے۔ ان کے صاحبزادے ایاز لطیف پلیجو بھی ایک صدارتی امیدوار تھے۔ دوسرے شخص پلیجو مکتبہ فکر سے ہی وابستہ جامی چانڈیو تھے جو صدارت کے خواہش مند تھے۔ ۔ ایاز انتخابات میں کامیاب ہو گئے۔ عوامی تحریک میں قیادت کی تبدیلی پر رسول بخش یقیناًسوچ رہے ہوں گے کہ وہ عوامی تحریک کو جن محفوظ ہاتھوں میں دے رہے ہیں وہ تحریک کو ان کے ہی طے کئے گئے اغراض و مقاصد پر چلائیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ایاز نے جب صدر کی حیثیت سے سیاست شروع کی تو وہ تحریک کو ایک انتخابی سیاسی جماعت کی طرف لے جا رہے تھے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے، جلسے جلوس، سوشل میڈیا کا استعمال، سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں، ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت، غرض ہر وہ طریقہ اختیار کر رہے تھے جو عوامی تحریک کو کسی کامیاب انتخابی پارٹی میں تبدیل کر سکے۔ وہ غالبا اس سیاست کے قائل یا مرعوب ہیں جو ان کے چچا غلام قادر پلیجو کی سیاست ہے۔ بیٹی سسی پلیجو صوبہ سندھ میں وزیر رہی، اب ایوان بالا کی رکن ہیں، خود سابق صوبائی اسمبلی کے رکن رہے، اب ضلع ٹھٹھہ کی ضلع کونسل کے چیئرمین ہیں۔ رسول بخش پلیجو کو ایاز کی سیاست کا یہ رنگ پسند نہیں آیا۔ ایاز کا کہنا ہے کہ ان کے والد معاملات کو پرانے دور میں پرانی ڈگر ہی پر رکھنا چاہتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی اور مواقع سے فائدہ اٹھانے پر آمادہ نہیں ہیں۔

بہر حال رسول بخش پلیجو نے 6ستمبر کو ایاز لطیف کے نام ایک کھلا خط لکھ دیا۔ وہ خط کم تھا ایک چارج شیٹ زیادہ تھی۔ یہ چارج شیٹ والد کی طرف سے بیٹے کے نام نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی جماعت کے با ضابطہ منتخب صدر کے نام تھی۔ اس طویل چارج شیٹ میں رسول بخش پلیجو نے نہایت باریک بینی سے پوری طرح اپنی دانست میں ایاز کی کوتاہیوں، کمزوریوں، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی، ناپسندیدہ حرکتوں کی نشان دہی کی ہے۔ ان کے ناقدین اسے بھڑاس نکالنا قرار دیتے ہیں۔ اس خط کے ایک ماہ بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے قومی عوامی تحریک سے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سمیت علیحدگی کا اعلان کیا اور عوامی تحریک کو بحال کر دیا۔ عوامی تحریک کو ایاز لطیف پلیجو نے قومی عوامی تحریک کانام دے دیا تھا اور اسی نام سے اسے الیکشن کمیشن میں رجسٹر بھی کرایا گیا۔ رسول بخش پلیجو کو ایاز اپنا سیاسی استاد قرار دیتے ہیں۔ ایاز بھی اپنے والد کی طرح وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کے تقریر کرنے کا انداز ، تقریر میں مناسب مقامات پر شعروں کا سمونا، تقریر یا گفتگو میں ہاتھ چلانا، غرض ایسا لگتا ہے کہ سامع رسول بخش پلیجو کو ان کی جوانی میں سن رہا ہو۔ رسول بخش پلیجو کی پریس کانفرنس کے دوسرے روز ایاز نے جوابی پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بھی اپنے سیاسی استاد کے خلاف ایک چارج شیٹ پیش کر دی۔ وہ یہ کہتے تو رہے کہ وہ اپنے والد اور سیاسی استاد کے خلاف کیوں کر بول سکتے ہیں لیکن چارج شیٹ کا جو جواب انہوں نے پیش کیا اس کا لب لباب یوں تھا کہ سینئر پلیجو اپنے دل میں پیپلز پارٹی کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ قومی عوامی تحریک بدعنوانیوں (کرپشن) اور سندھ میں لوٹ مار کے خلاف جدو جہد کرے۔ حامی اور مخالفین پیپلز پارٹی کے صف اول کے بعض رہنماؤں کے نام بھی لیتے ہیں جن کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ قومی عوامی تحریک پیپلز پارٹی مخالف مہم کا حصہ نہ بنے۔ ایاز کا خیال ہے کہ ’’ پلیجو صاحب مجبور ہیں، جسمانی طور پر کمزور ہیں، ذہنی طور پر ان کو گھیرے میں لایا جارہا ہے، ان کے چاروں طرف پیپلزپارٹی کے خریدے ہوئے لوگوں کا گھیرا ہے، صبح سات بجے اٹھنے سے رات تک ان پر سخت دباؤ ہے، کبھی کبھار اس دباؤ کو توڑ دیتے ہیں ، کبھی اس کے دباؤ میں آجاتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ پلیجو صاحب جیسا ایک عظیم شخص خریدا جا سکتا ہے، وہ آخری دم تک نیک نیتی سے جو سمجھتے رہیں گے اس پر کاربند رہیں گے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ وہ عوامی تحریک کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہیں، میں عوامی تحریک کے ساتھیوں کو مبارک باد دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر کمیونسٹ انقلاب لانے میں وہ بالشویک اور سرخ فوج بناکر ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کی طرف پیش قدمی کریں گے تو ہم ان پر پھول نچھاور کریں گے ‘‘ ۔ رسول بخش پلیجو نے اپنے خط اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا ’’ایاز انقلاب دشمن عناصر کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ ایجنسیوں کے گھیرے ہیں ہیں۔ اس لئے ہم قومی عوامی تحریک سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے عوامی تحریک بحال کرتے ہیں۔ قومی عوامی تحریک سے رسول بخش پلیجو کی فکر اور خیالات کے حامیوں کا علیحدہ ہونا سندھ کی سیاست کے لئے نیک شگون نہیں قرار دیا جاسکتا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خاندانی اور کارپوریٹ سیاست کا غلبہ ہو گیا ہے، ایسے لوگ سیاست پر حاوی ہیں جو اپنی قربانی کی بجائے عوام سے بار بار قربانی دلاتے ہیں۔ فکری طور پر ہوش مندی کے ساتھ سیاست کرنے والے لوگوں کا قحط ہے۔ قومی عوامی تحریک ہو یا عوامی تحریک ایک قابل قدر اثاثہ ہے۔

مزید : کالم