حق آشنا،حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

حق آشنا،حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

اے ڈی شاہد

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے دادا حضرت شیخ شعیب ؒ کا سلسلہ نسب چار واسطوں سے کابل کے حکمران فرخ شاہ کابلی سے ملتا ہے افغانستان کے شہر ہرات کے کچھ فاصلے پر قصبہ چشت میں رہتے تھے اسی نسبت سے چشتی کہلاتے تھے حضرت شیخ شعیب ؒ خانوادہ شاہی سے تعلق رکھتے تھے ۔ؒ 1151ء میں بہرام شاہ غزنوی کے قافلے کے ساتھ لاہو ر تشریف لائے ۔ کابل سے لاہو ر جاتے ہوئے جب شیخ شعیبؒ کا قافلہ قصور پہنچا تو قصور کے قاضی نے خود آکر آپ کا استقبال کیا جو کچھ سنا تھا اس سے بھی کہیں زیادہ کا مشاہدہ کیا تو قصور کے قاضی نے شیخ شعیبؒ کو ملتان بھیج دیا اور قرمطی حکمرانوں کو امداد کی سفارش کی شیخ جی ؒ کو مضافات میں قصبہ کھتوال کا قاضی مقررہ کر دیا گیا اور آپ کے خاندان نے کھتوال میں مستقل سکونت اختیار کر لی قاضی شعیبؒ کی وفات کے بعدآپ کے بڑے صاحبزادے جمال الدین سلیمانؒ کھتوال کے قاضی مقررہ ہوئے حضرت جمال الدین سلیمانؒ کی شادی مولانا وجیہہ الدین خجنری ؒ کی صاحبزادی قرسم خاتون سے ہوئی بی بی قرسم خاتون کے بطن سے ایک صاحبزادی اور تین صاحبزادے تولد ہوئے بڑے لڑکے کا نام اعزاز الدین محمود ؒ منجلے کا نام فریدالدین مسعودؒ اور سب سے چھوٹے بیٹے کا نام نجیب الدین متوکل ؒ تھے حضرت مخدوم علی احمد صابر ؒ کی والدہ ماجدہ یعنی حضرت بابا فرید الدینؒ کی ہمشیرہ اور تینوں بیٹوں کی علم و فضیلت اور بزرگی سے ماں کی تربیت کی جو عکاسی ہوتی ہے اُس سے آپ کی والدہ ماجدہ کی علم ودستی ، انسانیت نوازی اور کملیت کا پتہ چلتاہے حضرت بابا فریدالدین مسعود ؒ خانوادہ شاہی سے تعلق رکھنے والے صاحبِ ثروت ، متمول عالم و فاضل گھرانے میں قصبہ کھتوال میں 1173ء میں پیدا ہوئے آپ کا خاندان علمی فضیلت و بزرگی کی وجہ سے حکمرانوں ، علمی حلقوں اور عوام الناس میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا پانچواں سال 1178ء میں آپ کی تعلیم کی ابتدامقامی مکتب میں ہوئی کھتوال میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو اعلیٰ تعلیم کیلئے ملتان بھیج دیا چھوٹی عمر میں والدکا سایہ سر سے اُٹھ گیا تو آپ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ پڑی آپ نے ایک اقامتی درسگاہ مسجد مولانا منہاج الدین ترمذی ؒ میں قیام فرمایا یہاں پر ذریعہ تعلیم عربی اور ٖفارسی تھا کتب تفاسیر، احادیث ، منطق اور فلسفہ انہی زبانوں میں پڑھے 1197ء کا واقعہ ہے جب آپ کی عمر 18برس کی تھی آپ مسجد مولانا منہاج ترمذیؒ میں اصول قانون کی کتاب ’’نافع‘‘ پڑھ رہے تھے کہ حضرت قطب عالم بختیار کاکیؒ بغداد سے واپسی اجمیر جاتے ہوئے ملتان تشریف لائے اور آپ نے مسجد مولانا منہاج الدین ترمذی میں توقف فرمایا جب آپ کی نظر مطالعہ میں محو نوجوان پر پڑی جس کی پیشانی سے بلند اقبالی عیاں ہو رہا تھا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ نوجوان کیا پڑھ رہے ہو تو آپ نے جواباً عرض کی کہ نافع حضرت ؒ نے پوچھا کیا تم کو اس سے نفع ہو گا تو آپ نے عرض کی کہ مجھے تو انشاء اللہ آپ کی نظر مبارک سے نفع ہو گا اسی دوران حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ ، حضرت قطب عالم ؒ کی زیارت کے لئے مسجد تشریف لائے اس وقت حضرت بابا صاحب نے حضرت قطب عالم بختیار کاکی ؒ کے ساتھ دہلی جانے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے فرمایا:اسی ترک و جذبے کے ساتھ کچھ عرصہ علم ظاہرمیں مشغول رہو پھر دہلی آکر میرے پاس رہنا انشاء اللہ اپنی مراد کو پہنچو گے تو اسی طرح حضرت بابا فرید الدین ؒ 18سال کی عمر میں حضرت قطب عالمؒ کی حلقہ ارادت میں داخل ہوئے اور مزید پانچ سا ل ملتان میں قیام کے دوران علوم ظاہری کی تکمیل کی سیاحت صوفیائے کرام کی وسعت علمی او ر وسیع النظری کی تربیت کیلئے لازمی قراردی گئی سیاحت مختلف اقوامِ عالم کے تہذیب و تمدن ، رسوم و عادات ، دساتیر وآئین کے مشاہدے کا نام ہے جس پر حضرت بابا صاحبؒ نے عمل پیرا ہو کر اسلامی دنیا کے مشہور مراکز سے اکتساب فیض فرمایا بغداد میں آپ حضرت شہاب الدین سہروردی ؒ کی خدمات میں حاضر ہوئے کچھ عرصہ قیام فرمایا اس کے بعد آپؒ دِمشق ، شام ، نیشاپور ، سیستان، بخارا اور قندھار سے ہوتے ہوئے 1210ء میں سلطان التمش کے دور میں ملتان پہنچے سیاحت سے واپسی پر والدہ کی قدم بوسی کے بعد شیخ کے قدموں میں حاضری کے لئے ملتان سے دہلی روانہ ہوئے حضرت قطب عالمؒ نے آپؒ کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور آپؒ کو مسجد دہلی دروازہ مندہ کے قریب برج کے نیچے حجرہ میں قیام کا حکم فرمایا 1216ء میں سلطان الہند خواجہ معین الدین اجمیریؒ دہلی تشریف لائے زیارت و قدم بوسی کے لئے ساری دہلی اُمڈ آئی سلطان التمش بھی حاضرِ خدمت ہوا حضرت قطب عالم ؒ نے اپنے مریدین کوحضرت خواجہ اجمیریؒ کی خدمت میں توجہ اور برکت کیلئے پیش کیا پھر خواجہ صاحبؒ نے قبلہ رو کھڑے ہوکر اپنے اور حضرت قطب عالم ؒ کے درمیان حضرت بابا صاحبؒ کو کھڑا کیا اور دعا فرمائی کہ اے خدا وند ! فریدؒ کو تو قبول فرما، اس کے بعد انعام و فیض روحانی سے نوازا اس رسم اور عطیہ کو خلافت سے موسوم کیا جاتا ہے آپ کو ہندؤٗ مصنفین نے اپنے وقت کا سب سے بڑا تپسوی قرار دیا ہے 10سال دہلی میں قیام کے بعدآپ 1225ء میں ہانسی میں تشریف لے گئے 1235ء حضرت قطب عالم بختیار کاکیؒ کے وصال کے بعد جانشینی کے لئے آپ کو حضرت قاضی حمیدالدین ناگوریؒ کے ذریعے تبرکات دیئے گئے کیونکہ آپ اس وقت ہانسی میں قیام پذیر تھے اس کے بعد حضرت بابا فرید مسعودؒ نے گوشہ نشینی او رخلوت کے لئے اجودھن جیسے دور دراز جنگل سے گھیرے ہوئے علاقے کو پسند کیا اجودھن (پاکپتن) میں پہلی عوامی درسگاہ قائم کی اور لاکھوں لوگوں کو مسلمان کیا آپؒ نے تین شادیاں کیں چھ بیٹے اور تین بیٹیاں سب سے بڑا بیٹا نظام الدین ؒ (فوجی) منجلا بیٹا بدر الدینؒ جوکہ درسگاہ کا منتظم اور چھوٹا یعقوب کسان تھا سب سے چھوٹی بیٹی شریفاں تھیں آپ کے علم وکرامات کے چرچے پوری دُنیا میں ہونے لگے ابنِ بطوطہ نے مصر کے سکندریہ شہرجسے سکندراعظم کی نسبت سے سکندر یہ کہتے ہیں وہاں یہ سنا کہ ہندوستان میں حضرت بابا فریدؒ بہت بڑے عالم جن کا بحرِ علمی بہت مشہور تھا ان کی حاضری کیلئے ہندوستان آیا تو بابا صاحب کے پوتے علاؤالدین موج دریا سے مل کر چلے گئے حضرت بابا صاحب ؒ کی گفتگو میں شائستگی اور مٹھاس کی وجہ سے شیخ اجل سنجریؒ نے آپؒ کو گنج شکر کا خطاب دیا جو کہ بہت مشہور ہوا آپ ؒ مکمل درویش صفت انسان تھے1235ء وکو جب سلطان التمش فوت ہوا تو اُن کا بڑا بیٹا ناصرالدین محمود رضیہ سلطانہ کا بھائی تخت نشین ہو ا تو اس نے بابا صاحب ؒ کو شیخ الاسلام و چیف جسٹس آف ہندستان کے عہدے کی پیشکش کی جسے آپ ؒ نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ’’بادشاہوں کے درباروں کے اندر درویشوں کے دل مردہ ہو جاتے ہیں ‘‘ قیام اجودھن کے وقت آپؒ کا ضعیفی کا زمانہ تھا توکل و قناعت پسندی آپ کی شخصیت کے سحرانگیز وصف تھے آپ ؒ نے اجودھن میں عسرت سے زندگی گزاری اگر اس وقت آپؒ دربار سے رجوع فرماتے، دربار والے اپنے درباروں سے باہر آ کر آپؒ کا استقبال کرتے مگر آپؒ اپنا ناطہ جمہور سے نہیں توڑا ان میں رہ کران کی راہنمائی فرمائی شیخ اشیوخ عالم کی عمر1266ء میں 93سال کچھ ماہ ہو گئی تھی محرم کے آغاز ہی سے آپ ؒ پر غشی طاری ہو جاتی تھی ۔ محرم کی 5تاریخ کو غشی کے بعد ہوش میںآئے تو پوچھا کیا میں نے عشاء کی نماز ادا کر لی ہے کہا گیا کہ حضور دو مرتبہ ادا کر چکے ہیں کہا ایک مرتبہ پھر پڑھ لوں خدا جانے کیا ہونے والا ہے تازہ وضو فرمایا عشاء کی نماز بمعہ وتر ادا کی اس کے بعد سجدہ کیا سجدہ ہی میں بلند آواز میں کہا’’ یَاحیّیُ یَا قَیّوم‘‘اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی اِناللّہِ وَاِنّاَعَلیہِ رَاجِِِعُون حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی تدفین حجرہ مبارک میں ہو اس کا مشورہ آپ ؒ کے بڑے فرزند شیخ نظام الدینؒ نے دیا جو اس وقت فوج میں ملازم تھے۔ دربار کے جنوب کی جانب بہشتی دروازہ ہے جو ہر سال 5 محرم کی شام کھول دیا جاتا ہے اور ساری رات کھلا رہتا ہے اس طرح 10محرم تک روزانہ لاکھوں زائرین بہشتی دروازہ سے گزرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں قیام پاکستان سے قبل بہشتی دروانے کا ایک قفل دیوان صاحب اور ددسرا قفل ہندوؤں کی ہانڈہ قوم کا سردار کھولا کرتا تھا اور ہندو ، مسلمان اور سکھ اس دروازے سے گزرتے تھے جو آجکل محکمہ اوقاف کے قبضہ میں ہے۔حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ عربی اور فارسی زبان کے شاعر کے علاوہ پنجابی زبان کے پہلے شاعر ہونے کااعزاز بھی انہیں ہی حاصل ہے پنجابی زبان اس وقت مقامی لوگوں کی زبان تھی اس لئے پنجابی شاعری میں عام لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا اُن کے اشلوک سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک نے آپؒ کے ایک سو تیس اشلوک گیارہویں گدی نشین شیخ ابراہیم فرید ثانی ؒ کی اجازت سے پاکپتن کے نواحی گاؤں ٹبہ نانک سر کے ایک مندر میں بیٹھ کر گرنتھ صاحب میں لکھے اشلوک ایسی شاعری جو فلسفہ سے لبریز ہو اسے اشلوک کہتے ہیں۔ بابا گرونانک دیو جی گرنتھ صاحب کی تصنیف کیلئے دو مرتبہ پاکپتن تشریف لائے شیخ ابراہیم ؒ جو کہ فریدؒ کے روحانی خلفا میں سے تھے کے ساتھ روحانی تبادلہ خیالات کیے اس بات چیت کے دوران شیخ ابراہیمؒ حضرت بابا فرید ؒ کے اشعار بلند آواز میں پڑھا کرتے تھے سِکھ مذہب کے ماننے والے گرنتھ صاحب میں بابا فرید ؒ جی کے اشلوک کی وجہ سے بھی اس ولی اللہ کے بہت معتقدہیں۔ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر ؒ کے چند اشلوک:

اپنی لوئیں ویکھدیاں کتی چل گئی

فریدا لوکاں آپو آپنی میں آپنی پئی

ترجمہ: اے فرید ان آنکھوں کے سامنے اس دنیا کی یہ حالت دیکھتے عرصہ گزر گیا کہ یہاں ہر انسان کو اپنی اغراض سے سروکار ہے نفسا نفسی کا عالم ہے لیکن مجھے اپنے مقصد سے غرض ہے کہ دنیا نفسا نفسی ،انفرادیت، خود غرضی ختم ہو اور تکریمِ انسانیت کا دور آئے۔

فریدا خاک نہ نند یئے ، خاکو جیڈ نہ کوء

جیوندیاں پیراں تلے ، مویاں اوپر ہوء

ترجمہ: اے فرید مادہ یا خاک کو بُرا نہ کہو اس جتنا بڑا تو کو ئی نہیں جو زند گی میں تمہارے پیروں تلے ہوتی ہے اور مرنے کے بعد تمہیں ڈھانپ لیتی ہے۔

فرید ا گلیئے چکڑ، دُور گھر نال پیارے نیۂ

چلاں تاں بھجے کمبلی ، رہاں تاں ٹٹے نیہ

بجھو سمجھو کمبلی،اللہ ورسو مینہ

جاہ ملاں تینوں سجناں ٹٹوناہی نیۂ

ترجمہ: اے فرید گلیوں میں کیچڑ ہے محبوب کا گھر جس سے عہدِ وفا باندھا ہے بہت دور ہے اگر چلتا ہوں تو کیچڑ سے بارش سے کمبلی بھیگتی ہے اور اگر نہیں چلتا تو عہدِ وفا ٹوٹتا ہے تو پھر اے کمبلی بھیگواور بھیگتی چلی جاؤ اور اے اللہ مینہ برساؤ اور برساتے چلے جاؤ میں صرف محبوب سے جا کر ملوں گا اور عہدِ وفانہیں ٹوٹنے دوں گا۔

فریدا میں جانیا دکھ مجھ کو دکھ سبھائے جگ

اُچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ

ترجمہ: اے فرید میں نے سمجھا تھا کہ دکھ صرف مجھے ہی ملا ہے مگر جن میں نے بلندی پر چڑھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ دوسرے لوگوں کی تکلیفیں اور پریشانیاں بھی میر ی پریشانیوں جیسی ہیں ہر گھر دکھوں کی سلگتی ہوئی آگ ہے۔

سبھناں من ماتک ، ٹھاہن مول مچانگوا

جے تو پر یا دی سِک ، نہیاؤنہ ٹھاہیں کہیں دا

ترجمہ: آپؒ فرماتے ہیں ہر ایک کا دل ایک موتی ہے سؤجسے ضرر پہنچانا بالکل اچھا نہیں اگر تجھے خدا کی آرزو ہے تو کسی کے جذبات کو ٹھیس مت پہنچانا۔

فریدا میں بُھلاوا پگ دا مت میلی ہو جاء

گیہلا رو ح نہ جان ای سر بھی مٹی کھاء

ترجمہ: اے فرید بس تو اپنی پگڑی بچاتا تھا کہ کہیں میلی نہ ہو جائے، لیکن میری جان اس حقیقت سے غافل تھی کہ ایک دن اس سر کو بھی مٹی کھا جائے گی جس پر پگڑی قائم ہے۔

فریدا محل نسکھن رہ گئے واسا آیا تل

گوراں سے نمائیاں بہسن روحاں مل

ترجمہ:اے فرید عالی شان پُر رونق محل خالی رہ گئے مکینوں کی موت کی وجہ سے ان کی رہائش زمین کے نیچے گئی یہ بیچاری روحیں قبروں میں بیٹھیں گیں۔

مزید : ایڈیشن 1