محرم الحرام کی حرمت کیا ہے،کیوں ہے؟

محرم الحرام کی حرمت کیا ہے،کیوں ہے؟

رانا شفیق پسروری

الحمد للہ! نیا اسلامی سال سایۂ فگن ہے اِس کا پہلا مہینہ شہراللہ الحرام اپنی تمام تر عظمت و حرمت کے ساتھ آ چکا ہے۔ماہِ محرم عظیم الشان اور مبارک مہینہ ہے۔یہ ہجری سال کا پہلا مہینہ اور حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے:

’’بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک (لوح محفوظ میں) بارہ ہے اور یہ اس دن سے ہے جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ان میں سے چار مہینے حرمت و ادب کے ہیں، یہی مضبوط دین ہے۔ لہٰذا تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘۔ (توبہ36:)

یعنی ابتدائے آفرینش سے ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔

حرمت والے چار مہینے کون سے ہیں؟ اس کے بارے میں ایک حدیث ملاحظہ فرمایئے:

حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا:

’’سال بارہ مہینوں کا ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں، تین پے در پے ہیں اور وہ ذوالقعدۃ، ذوالحجہ اور محرم ہیں اور چوتھا مہینہ رجب مضر ہے جو کہ جمادی الثانیہ اورشعبان کے درمیان آتا ہے‘‘۔(بخاری)

’’تین پے در پے اور چوتھا اکیلا‘‘ اس میں کیا حکمت ہے؟ حافظ ابن کثیر ؒ نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ ذوالقعدہ میں جو کہ حج والے مہینے سے پہلے آتا ہے، وہ لوگ قتال بند کر دیا کرتے تھے اور ذوالحجہ کے مہینے میں وہ حج ادا کیا کرتے تھے، پھر اس کے بعد ایک اور مہینہ بھی حرمت والا قرار دے دیا تاکہ وہ امن و امان سے اپنے وطن کو لوٹ سکیں، پھر سال کے درمیان ایک اور مہینہ حرمت والا قرار دیا تاکہ وہ عمرہ اور زیارتِ بیت اللہ کے لئے امن سے آ جا سکیں۔(تفسیر ابن کثیر)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حرمت والے چار مہینوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے: یعنی ’’ان میں (خصوصی طور پر)تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘۔

ظلم تو سال کے بارہ مہینوں میں ممنوع ہے، لیکن ان چار مہینوں کی عزت و حرمت اور ان کی تقدس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع فرما دیا۔

اس ظلم سے مراد کیا ہے؟

ایک تو یہ مراد ہے کہ ان مہینوں میں جنگ و جدال اور قتال نہ کیا کرو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اس میں لڑائی کرنا بڑا گناہ ہے‘‘۔ (بقرہ)

زمانۂ جاہلیت میں بھی لوگ ان چار مہینوں کی حرمت کا خیال رکھتے تھے اور آپس کی جنگ اور لڑائی کو ان میں روک دیا کرتے تھے، پھر اسلام نے بھی ان کے احترام و تقدس کو برقرار رکھا اور ان میں لڑائی کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔

اور ظلم سے مراد یہ بھی ہے کہ تم ان چار مہینوں میں خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچو، کیونکہ ان میں نافرمانی کرنے کا گناہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

حافظ ابن کثیر ؒ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو سال کے بارہ مہینوں میں حرام قرار دیا ہے، پھر ان میں سے چار مہینوں کو خاص کر دیا ہے، کیونکہ ان میں برائی اور نافرمانی کا گناہ زیادہ ہو جاتا ہے اور نیکی اور عمل صالح کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے۔

اور امام قتادۃ ؒ (فلا تنظلموا فیھن انفسکم) کے بارے میں کہتے ہیں:

’’حرمت والے مہینوں میں ظلم کا گناہ اور بوجھ دوسرے مہینوں کی نسبت کئی گناہ بڑھ جاتا ہے اور ظلم کا گناہ اگرچہ ہر وقت بڑا ہوتا ہے،لیکن اللہ جس مہینے کو چاہے اس میں ظلم کا گناہ اور بڑا کر دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے پیامبر فرشتوں کو چُن لیا، کلام میں سے قرآن مجید کو چُن لیا اور پوری سرزمین میں سے مساجد کو چُن لیا۔اِسی طرح مہینوں میں سے ماہِ رمضان اور حرمت والے چار مہینوں کو چُن لیا۔ دِنوں میں سے یوم جمعہ کو چُن لیا اور راتوں میں سے لیلتہ القدر کو چُن لیا، تو اللہ تعالیٰ جسے چاہے عظمت دے دے، لہٰذا تم بھی اسے عظیم سمجھو جسے اللہ تعالیٰ عظیم سمجھتا ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)

سال بھر میں عموماً اور ان چار مہینوں میں خصوصاً ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے،بُرا بول بولنے بالخصوص محترم ہستیوں اور معزز شخصیات کے بارے میں گالی گلوچ اور طعن و تشنیع کی زبان استعمال کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہئے اور گناہوں سے اپنا دامن پاک رکھنا چاہئے کیونکہ گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے دِل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’یوں نہیں، بلکہ ان کے دِلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔ (مطففین)

اور رسول اللہؐ کا ارشادِ گرامی ہے:

’’مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دِل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے اور اس گناہ کو چھوڑ کر معافی مانگ لیتا ہے تو اس کے دِل کو دھو دیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہ پر گناہ کئے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے دِل پر چھا جاتی ہے۔ تو یہی وہ (رَین) ’’زنگ‘‘ ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تذکرہ کیا ہے: (ترمذی)

اور یاد رکھیں! گناہوں کی وجہ سے زندگی پریشان حالی سے گزرتی ہے اور انسان کو حقیقی چین و سکون نصیب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اور جو شخص میری یاد سے روگردانی کرے گا وہ دُنیا میں تنگ حال رہے گا اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ پوچھے گا: اے میرے رب! تُو نے مجھے نابینا بنا کر کیوں اُٹھایا، حالانکہ مَیں تو بینا تھا؟اللہ تعالیٰ جواب دے گا:اِسی طرح ہونا چاہئے تھا، کیونکہ تمہارے پاس ہماری آیات آئی تھیں،لیکن تم نے اُنہیں بھلا دیا۔ اِسی طرح آج تمہیں بھی بھلا دیا جائے گا‘‘۔ (طہٰ)

یعنی دین الٰہی سے اعراض کرنے، آیاتِ قرآنیہ کی تلاوت نہ کرنے اور ان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہر چار جانب سے اُسے تنگی گھیر لیتی ہے اور روزی کی کشادگی کے باوجود اُس کا اطمینان و سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ پھر مرنے کے بعد قبر بھی تنگ ہو جاتی ہے اور برزخ کی طویل زندگی تلخیوں اور بدبختیوں سے گزرتی ہے اور جب قیامت کے روز اُسے اٹھایا جائے گا تو وہ بصارت اور بصیرت دونوں سے اندھا ہو گا۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ

اور گناہوں اور برائیوں ہی کی وجہ سے موجودہ نعمتیں چھین جاتی ہیں اور آنے والی نعمتیں روک لی جاتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ماں باپ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی ایک بھول کی وجہ سے اُنہیں جنت کی نعمتوں سے محروم کر دیا گیا۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں جتنا چاہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ۔ تاہم اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔پھر شیطان نے ان دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور اُنہیں اِس نعمت اور راحت سے نکلوا دیا،جس میں وہ تھے‘‘۔ (بقرہ)

اسی طرح برائیوں کے بُرے انجام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کر چکے ہیں، وہ جن کو ہم نے دُنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں۔پھر ہم نے اُنہیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کر دیا‘‘۔ (انعام)

اِس آیت میں ذرا غور فرمائیں! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تم سے پہلی امتوں کو وہ قوت اور سطوت عطا کی تھی، جو تمہیں عطا نہیں کی اور ہم نے اُنہیں بھرپور نعمتوں سے نوازا،لیکن انہوں نے ناشکری کی تو ہم نے وہ ساری نعمتیں ان سے چھین لیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیا اور اگر تم بھی یہی روش اختیار کرو گے تو کیا تمہیں بلاک کرنا ہمارے لئے مشکل ہے؟ اِس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہئے، اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن جائیں اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کریں۔

اِسی مہینے میں تاریخِ اسلام کا عظیم سانحہ واقعہ کربلا کی صورت پیش آیا، جس میں خانوادۂ رسولؐ اور نواسۂ رسولؐ حضرتِ امام حسینؓ کو شہید کر دیا گیا۔ حضرتِ امام حسینؓ کی عظمت اور شان بہت بلند اور اُن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اُن کے ساتھ ساتھ تمام صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتِ عظام اور دیگر بزرگ شخصیات کا ذکر نہایت ادب و احترام اور عقیدت سے کرنا چاہئے۔

*****

مزید : ایڈیشن 1