فنِ ترجمہ کے فروغ میں جامعات کا کردار

فنِ ترجمہ کے فروغ میں جامعات کا کردار

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم وائس چانسلر

یونیورسٹی آف گجرات

نسل انسانی کو باہمی افہام و تفہیم کی جتنی آج ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ اس افہام و تفہیم کے کئی ذرائع ہیں اور میرے خیال میں ترجمہ کا فن ان ذرائع میں سے ایک ہے۔ ترجمہ کیا ہے ؟ترجمہ اصلاً ایک کی بات دوسرے تک پہنچانے کا نام ہے۔ ترجمہ کو انسانی تہذیب کے اوائل سے ہی ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ انسان نے جب اس کرۂ ارض پر جنم لیا تو اسے اپنی بات سمجھانے اور دوسروں کی بات سمجھنے کی ضرورت پڑی۔ اسی ضرورت نے زبان جیسے اہم ادارے کو جنم دیا۔ ترجمہ بنیاد ی طور پر زبان کیextensionکا نام ہے یعنی ایک بات جو ایک زبان میں کسی اور رسم الخط اور الفاظ کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔ اس کے معانی و مفہوم کو کسی دوسرے رسم الخط اور الفاظ کے ذریعے دوسری زبان میں ڈھال دیا جائے۔ انسانی تہذیب کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ترجمہ کی خوبی اور وسعت میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ اب ہمارے دور تک پہنچتے پہنچتے ترجمہ باقاعدہ ایک فن اور علم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک اور خطوں میں ترجمہ کے فن اور علوم کی ترقی کے لیے ادارے قائم ہو چکے ہیں ۔ یہ ادارے معیاری تراجم اور مترجمین کی علمی تربیت کرتے ہوئے نسل انسانی کی بے پناہ خدمت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

ذرا سوچئے اگر ترجمہ کا فن اور علم وجود میں نہ آتا تو اس وقت دنیا کی کیا حالت ہوتی۔ فنِ ترجمہ کی ایجاد انسان کی بہترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں علمی ترقی کا سب سے بڑا سبب فن ترجمہ ہی ہے۔ فن ترجمہ میں لفظ سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان سدا سے ہی لفظ کا رسیا رہا ہے کیونکہ لفظ ہی وہ اکائی ہے جو آگے بڑھ کر فقرہ کی تشکیل کرتی ہے اور پھر یہ فقرہ ہماری ترجمانی کا حق ادا کرتا ہے اور ہماری ژولیدہ بیانی کو افہام و تفہیم کی معراج عطا کرتا ہے۔ لفظ کو سمجھنے کے سلسلہ میں ہی لغات نے جنم لیا اور آج دنیا میں تقریباً ہر زبان کی لغات موجود ہیں۔ لغات ترجمہ کے علوم و فنون کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افہام و تفہیم کے عمل کو پختگی عطا کرتی ہیں۔ مگر ہماری بد قسمتی کہ ایک زمانہ تک لغت نویسی اور فن ترجمہ کو ناقدری کی نگاہ سے ہی دیکھا گیا۔ ترجمہ کے فن پر جب نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے موجودہ دور کے مشہورادیب مشتاق احمد یوسفی کے چند کلمات یاد آنے لگتے ہیں۔ لکھتے ہیں ’’کچھ راہیں، کچھ منزلیں اور ہفت خواں ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں تنِ تنہا، بے کارواں اور بے ہمرہاں طے کیا جاتا ہے۔ کوئی دوسرا شریک سفر ہو جائے تو نہ صرف منزل کھوٹی ہو جاتی ہے ، بلکہ دونوں پتھر کے ہو جاتے ہیں!راہی خود رواں دواں، خود کارواں اور خود سالارِ کارواں ہوتا ہے۔ اُسے منزل کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا اور اپنے قدموں کی چَپ و راست چاپ کے سوا اور کوئی آواز، کسی کوہِ ندا کی صدا قطعاً سنائی نہیں دیتی۔‘‘ میرے خیال میں ایسی ہی کیفیت کسی صاحب ذوق اور سچے مترجم کی ہوتی ہے جب وہ ایک زبان کے مفہوم و معانی کو کسی دوسری زبان میں منتقل کر رہا ہوتا ہے۔ راست گوئی اور بیانیہ میں قاری کے لیے دلچسپی کا سامان پیدا کرنا ایک منجھے ہوئے مترجم کا فرض اوّلین ہے۔

ترجمہ کے فن میں شوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شوق نہ ہو گا تو ترجمہ کی منزل تک پہنچنا خاصا کٹھن بن جائے گا۔ خلوصِ نیت اور کام سے لگن ایک اچھے ترجمہ کو حاصل کرنے کی بنیادی صفات ہیں۔ ترجمہ ایک ایسی کاریگری ہے جس میں کاریگر کو نگوں کی ترتیب کچھ اس طرح لگانا ہوتی ہے کہ تمام نگ مشاہدہ کرنے والی آنکھ کو بھلے معلوم ہوں اور وہ کاریگر کی ہنر و مہارت کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔ بات ہو رہی تھی انسانی تہذیب میں مترجم کے مقام کی تو مترجم وہی ہے جو ترجمہ میں تخلیق کی شان پید اکرتے ہوئے قاری کے لیے دلچسپی کا سامان پید ا کر دے۔ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے’’ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر ؍ مردِ ناداں پر ہے کلامِ نرم و نازک بے اثر‘‘ اس شعر کو جب ہم پڑھتے تھے تو اسکے نیچے لکھا ہوتا تھا بھرتری ہری۔ بہت بعد میں آکر پتہ چلا کہ بھر تری ہری سنسکرت زبان کا ایک مشہور شاعر تھا اور اسکے افکار آب زر سے لکھنے کے لائق تھے۔ اقبال نے اپنی بے پناہ تخلیقی قوت سے کام لیتے ہوئے بھرتری ہری کی فکر کو اس خوبی سے اُردو میں ڈھالا کہ آج یہ شعر اردو کے مشہور ترین شعروں میں سے ایک بن چکا ہے۔

فن ترجمہ اگر وجود میں نہ آتا تو آج دنیا سے علوم و فنون کی کئی ایسی کتابیں ناپید ہو چکی ہوتیں جو متعلقہ علوم کے شعبہ جات میں امامت کے مقام پر فائز ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علم کسی کی میراث نہیں۔ اس کلیہ کا اطلاق اگر اقوام عالم پر کیا جائے تو اس امر کی اہمیت اس طرح واضح ہوتی ہے کہ دنیا کی تقریباً تمام اقوام چاہے وہ پسماندہ ہوں چاہے ترقی یافتہ، چاہے قدیم ہوں چاہے جدید، انہوں نے اپنے ماحول کے زیر اثر علم کو تشکیل دینے کی کوشش کی۔ جدید علوم آج بھی قدیم علوم سے استخراج و استفادہ کرتے ہوئے علم وفن کو مزید وسعت کا حامل بنا رہے ہیں اور یہ سب کچھ ترجمہ کے ذریعے ہی ممکن ہوا۔ کیونکہ ترجمہ کاری کے ذریعے اصلاً ایک کلچر کو دوسرے کلچر کے ساتھ متعارف کروایا جاتا ہے۔ زبان صرف اور صرف الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ہزارہا تہذیبی استعارے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ ترجمہ کا فن دراصل زندگی بھر کا معاملہ ہے۔

فن ترجمہ کے اس وسیع تہذیبی پس منظر کے تناظر میں1953ء میںThe International Federation of Translatorsکا وجود عمل میں آیا۔ اس فیڈریشن کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے مترجمین کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہوئے ان کے کام میں مزید بہتری لانا اور کارکردگی اور استطاعت میں اضافہ تھا۔ مختلف ممالک میں ترجمہ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیےFITکی جانب سے1991ء میں ہر سال 30ستمبر کو عالمی یوم ترجمہ International Translation Dayمنانے کا خیال پیش کیا گیا جسے دنیا بھر میں سرکاری طور پر منظور کر لیا گیا اور یوں اب دنیا بھر کے مترجمین اور ترجمہ کے فن سے وابستہ اداروں میں ہم آہنگی اور مطابقت کے فروغ کے لیے ہر سال 30ستمبر کو عالمی یوم ترجمہ منایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور پھیلاؤ نے ترجمہ کی وسعتوں میں انتہائی اضافہ کر دیا ہے۔ ترجمہ کے فن کو فروغ دینے کے لیے جہاں ادارے قائم کئے گئے ہیں وہاں پر ٹیکنالوجی بھی اس عمل کو آسانیاں فراہم کرنے کی خاطر میدان میں کود پڑی ہے۔ اس کا ایک پہلو مشینی ترجمہ کا عمل ہے۔ اگرچہ مشینی ترجمہ کو ابھی تک اس طرح کی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ ابھی یہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔مگر دنیا بھر سے ماہرین مشینی ترجمہ کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں اورہمیں امید ہے کہ اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہو گی۔ انسانی ترقی کا حُسن کوشش اور جدوجہد ہی تو ہے۔

ترجمہ صرف بین الزبانی سرگرمی نہیں رہا بلکہ اس کی تعلیمی و تدریسی اہمیت میں بھی از حد اضافہ ہو چکا ہے۔ موجود ہ دور میں تراجم علم کے حصول کا منبع بن چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جامعات کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ جامعات علم کے تدریجی ارتقاء اور نئے علوم و فنون کی نمو کے ادارے ہیں۔ یہاں پر تشریف فرما مختلف علوم کے ماہرین سماجی و معاشرتی خدمت کا اہم فریضہ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پر کئی زبانیں بولی جاتی ہیں ،علمی و تدریسی تراجم کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یورپی زبانیں علمی سرگرمیوں کا خزانہ ہیں۔ اب اگر ہم اپنے ہاں صنعت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو پھر اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ ہم انفرادی مترجمین کی بجائے ترجماتی ادارے تشکیل دیتے ہوئے مختلف علوم و فنون کو اپنی زبانوں میں منتقل کرنے کا کام جلد سے جلد شروع کر دیں تاکہ ہماری قومی و علاقائی زبانوں میں علوم کی تدریس کے لیے علمی بنیادیں فراہم ہو سکیں۔ پاکستان میں ایسی کسی بھی سرگرمی کو نیا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ پاکستان میں کئی ادارے پہلے ہی تراجم کے ذریعے علم و فن کو فروغ دینے پر کمر بستہ ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات بذات خود ایسے اداروں کا قیام عمل میں لائیں جو پاکستان میں تراجم کے سلسلہ کو مزید وسعت عطا کر سکیں۔

ایسی ہی ایک کوشش جامعہ گجرات میں مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ کی بنیاد رکھ کر سر انجام دی گئی ہے۔ جامعہ گجرات نہ صرف علوم ترجمہ کو اعلیٰ سطح پر تدریسی طریق کار کا استعمال کرتے ہوئے ترجمہ سے وابستہ سرگرمیوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کر رہی ہے بلکہ حال ہی میں اس نے حکومت پنجاب کے ساتھ ایک معاہدہ کرتے ہوئے تمام قوانین کو قومی زبان اُردو میں ڈھالنے کا فریضہ اپنے ذمہ لیا ہے اور اس منصوبہ پر انتہائی تیزی کے ساتھ کامیابی سے کام ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارا مقصد مختلف شعبہ جات میں علمی کارناموں کو تراجم کے ذریعے فروغ دینا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2