ترک تاجرتنظیم کی پاکستانی تاجروں کو عالمی بزنس فورم میں شرکت کی دعوت

ترک تاجرتنظیم کی پاکستانی تاجروں کو عالمی بزنس فورم میں شرکت کی دعوت

کراچی (آن لائن)ترکی کے تاجروں کی آگنائزیشن موسیاد(MUSIAD) کے برابطہ کار ابراہیم یلما زر (IBRAHIM YILMAZER) نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی) کو استنبول میں ہونے والی 16ویں موسیاد ایکسپو، تیسری ہائی ٹیک پورٹ اور 20ویں بین الاقوامی بزنس فورم کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے جو 9 نومبر سے12نومبر2016 تک منعقد ہوگی۔کے سی سی آئی میں ہونے والے اجلاس کے دوران کراچی چیمبر کے صدر شمیم احمد فرپو کو باقاعدہ دعوت نامہ پیش کیا گیا۔اس موقع پر سینئر نائب صدر آصف نثار،نائب صدر محمد یونس سومرو اور منیجنگ کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔ابراہیم یلما زر نے تقریب کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ موسیاد کی تقریب میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے شرکاء کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے اور پاکستان کی تاجر وصنعتکار برادری کی طرف سے مثبت جواب حوصلہ افزاء ہے جبکہ وزیرصنعت و تجارت نے بھی ترکی میں منعقدہ تقاریب میں شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے۔استنبول میں موسیاد کی تقریبا ت سے پاکستان اور ترکی کی تاجربرادری کو ایک دوسرے کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے مواقع مسیر آئیں گے۔

نیز دونوں برادرانہ ممالک بھی ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔ حالانکہ تھوڑی بہت تاخیر ہو گئی ہے لیکن موسیاد کی تقریبات میں کراچی کی تاجروصنعتکار برادری کی شرکت بہت سود مند ثابت ہو گی کیونکہ ان ایونٹس میں بزنس ٹو بزنس میٹنگز اور ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتوں کا خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ موسیاد ترکی میں تاجروں کی سب سے بڑی ایسوسی ایشن ہے جس کے ممبران کی تعداد11ہزار اور جبکہ 46 ہزار سے ذائد کمپنیاں ایسوسی ایشن سے منسلک ہیں ۔موسیاد کی 86برانچز ہیں اور نمائندہ آفسز سمیت 65ممالک میں 168رابطہ پوائنٹس ہیں۔ قبل ازیں کے سی سی آئی کے صد رشمیم احمد فرپو نے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر استنبول میں ہونے والی 16ویں موسیاد ایکسپو اور 20ویں بین الاقوامی بزنس فورم کانفرنس میں شرکت کے امکانات کاجائزہ لے گا۔انہوں نے دوطرفہ تجارت پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستانہ ماحول اور دیرینہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات بہت گہرے ہیں اور دونوں ممالک سیاسی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔کراچی چیمبر پاک ترکی دوطرفہ تجارت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور کئی مواقعوں پر اس امر کا اظہار کیا گیاکہ پاکستان اور ترکی ایک قوم دو ریاستیں ہیں جو دونوں ممالک کے مابین بہترین دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2015-16کے دوران پاکستان کی ترکی کے لیے برآمدات214.60ملین ڈالر جبکہ درآمدات 249.18ملین ڈالر رہیں لیکن دستیاب گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مشترکہ کوششوں سے تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ ہمیں اگلے چند سالوں میں تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ اختتامی مراحل میں ہے جس کو دسمبر2016 تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ہم امید کرتے ہیں آزاد تجارتی معاہدہ جلد طے پائے جس سے موجودہ تجارتی حجم کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کی متعدد اشیاء کے تبادلے سے دوطرفہ تجارت میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ترکی دنیا کے مختلف حصوں سے موتی، قیمتی پتھر، دوا سازی، کپاس،ہاتھ سے بنائے گئے دھاگے اور اناج درآمد کرتا ہے۔ پاکستان ترکی کو برآمدی ہدف بنا کریہ تمام اشیاء ارسال کرسکتا ہے۔دونوں ممالک مشترکہ ترقی اور ٹیکنالوجی کے اشتراک کے عمل میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی دفاع کے شعبے میں اسٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی آلات ایک دوسرے کو فراہم کرکے دوطرفہ تعاون کو بڑھا سکتا ہے۔شمیم فرپو نے موسیاد کو کراچی چیمبر کے زیر اہتمام7تا9اپریل2017 کو کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی 14ویں ’’ مائی کراچی‘‘ نمائش میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ انڈونیشیا، ویتنام، سوئٹزرلینڈ، بھارت، سری لنکا، ماریشس،ترکی ملائیشیا، جاپان، چین ، رومانیہ، سعودی عرب ، جرمنی و دیگر ممالک وقتاً فوقتاً نمائش میں شرکت کرتے رہے ہیں لہٰذا ہم کراچی چیمبر کی نمائش میں موسیاد کی شرکت کے بھی خواہش مند ہیں جو ہر سال پابندی کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے۔ نمائش میں شرکت سے تاجربرادری کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کا موقع ملے گا۔

مزید : کامرس