سماجی تنظیموں کی راہ میں روڑے اٹکانا قابل مذمت ہے،سول سوسائٹی فورم

سماجی تنظیموں کی راہ میں روڑے اٹکانا قابل مذمت ہے،سول سوسائٹی فورم

لاہور(لیڈی رپورٹر)کسی بھی سماج کی ترقی کیلئے سول سوسائٹی اور عوامی تنظیموں کے کردار کی اہمیت کو دنیا بھر میں مانا جاتاہے ۔پاکستان کی سماجی تنظیمیں پچھلی کئی دہائیوں سے ٓانسانی ترقی اور غریب عوام کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت،امن و رواداری کے فروغ کے لئے پاکستانی سول سوسائٹی اور عوامی تنظیموں کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اور ان تنظیموں کو دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ پاکستانی سول سوسائٹی کی گرانقدر خدمات کو ماننے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ریاست نے ایسی عوامی تنظیموں پر مختلف قسم کی پابندیا ں عائد کرنا شروع کی ہیں اور ریاست کے مطابق ان پابندیوں کے اجراء کا سبب دہشت گردی کی روک تھام ہے۔قابلِ فکر بات یہ ہے کہ حکومتی ایجنسیوں کی طرف سے اُنہی تنظیموں کے خلاف محاذ آرائی شروع کی گئی ہے جو انسانی ترقی اوربنیادی حقوق کے حصول کے لیے پیش پیش ہیں ۔پنجاب حکومت کا جاری کردہ ایک مراسلہ حکومت کی طرف سے عوامی تنظیموں اور کارکنان کو ہراساں کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں تاکید کی گئی ہے کہ’’ کوئی بھی تنظیم ہوم ڈیپارمنٹ کی تحریری اجازت کے بغیرکسی قسم کی سرگرمی، سیمینار، کانفرنس اور تحقیق کا انعقاد نہیں کر سکتی‘‘۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سول سوسائٹی فورم (پی سی ایس ایف )کے تحت لاہور پریس کلب میں سیمینار میں مقررین نے کیا۔پاکستان سول سوسائٹی فورم ، پاکستان میں کام کرنے والی 50سے زائد سماجی تنظیموں کا اتحاد ہے۔ سیمینار میں چاروں صوبوں کے نمائندہ افراد، سیاسی کارکنان ،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل آئی اے رحمان ، پاکستان سول سوسائٹی فورم کے کنوینر محمد تحسین ، سماجی کارکن نیلم حسین،عورت فاؤنڈیشن کے روحِ رواں نعیم مرزا، ضیاء الرحمن ، فاروق خان ، ظہور جوئیہ ، پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری عامر سہیل ،وکلاء، انجمن ترقی پسند مصنفین کے نمائندوں،سماجی کارکن تنویر جہاں،لیبر لیڈر فاروق طارق اور دیگرنے خطاب کیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد تحسین (کنوینر ۔پی سی ایس ایف)نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کے اہل کار چاروں صوبوں خصوصاً جنوبی پنجاب، پختونخواہ، فاٹا اور سندھ میں کام کرنے والی عوامی تنظیموں کے کاموں میں نہ صرف روڑے اٹکا رہے ہیں بلکہ اُن کے عملہ بالخصوص خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے ڈرایا دھمکایا بھی جارہاہے۔شرکاء سے بات کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں سے رجسٹرڈ یہ تنظیمیں اپنے تمام پروگراموں اور مالیاتی اُمور کے بارے میں حکومت کو آگاہ کرتی رہتی ہیں اورطے شدہ قواعد و ضوابط کی پاسداری بھی کرتی ہیں۔مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا کہ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اسے آئینی و قانونی حقوق کی پامالی سمجھتے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1