حلب، شامی فوج کا حملہ پسپا، 10فوجی ہلاک، متعدد گاڑیاں، ٹینک تباہ

حلب، شامی فوج کا حملہ پسپا، 10فوجی ہلاک، متعدد گاڑیاں، ٹینک تباہ

حلب(این این آئی) شامی اپوزیشن گروپوں نے بشار الاسد کی افواج کے ایک شدید حملے کو پسپا کر نے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شامی فوج نے حلب کے جنوب میں واقع الشیخ سعید کے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی تاہم اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا اوراس دوران 10سرکاری فوجی ہلاک ور ان کے زیرانتظام متعدد عسکری گاڑیوں کو تباہ کردیاگیا،ادھرانسانی حقوق کی شامی رصدگاہ نے بتایا ہے کہ حلب میں سڑکوں پر لڑائی جاری ہے،شام کی سرکاری فوج شہر کے مشرقی حصوں پر کنٹرول کے لیے تین محوروں سے حملے کر رہی ہے، سرکاری فوج نے شہر کے وسط میں بتدریج پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے اب وہ شمال میں بستان الباشا کے علاقے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے،حلب کا مشرقی حصہ روسی فوج اور شامی حکومت کے طیاروں کے شدید حملوں کی زد میں ہے،دوسری جانب شام میں ’’فرات کی ڈھال‘‘ عسکری آپریشن میں شامل گروپوں نے حلب کے شمالی نواح میں داعش تنظیم کے خلاف پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس دوران جنگجو گروپوں کو ترکی کی توپوں اور بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی معاونت بھی حاصل ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق شامی اپوزیشن فورسز کی یہ پیش قدمی "فرات کی ڈھال" معرکے کے تیسرے مرحلے کے آغاز کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔ اس مرحلے کا مقصد حلب کے شمال مشرقی نواح میں داعش تنظیم کے سب سے بڑے گڑھ الباب شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس دوران مذکورہ علاقوں کے مکین زیادہ محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔دوسری جانب شامی اپوزیشن گروپوں نے بشار الاسد کی افواج کے ایک شدید حملے کو پسپا کر دیا جس کے دوران شامی فوج نے حلب کے جنوب میں واقع الشیخ سعید کے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی تھی۔شامی کارکنان کے مطابق انقلابی جنگجوؤں نے شامی حکومت کی افواج کو جسے ایرانی اور عراقی ملیشیاؤں کی سپورٹ حاصل ہے بھاری نقصان پہنچایا۔ اپوزیشن گروپ سرکاری فوج اور ملیشیاؤں کے 10 ارکان کو ہلاک کرنے اور ان کے زیرانتظام متعدد عسکری گاڑیوں کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق حلب میں سڑکوں پر لڑائی جاری ہے،شام کی سرکاری فوج شہر کے مشرقی حصوں پر کنٹرول کے لیے تین محوروں سے حملے کر رہی ہے۔

رصدگاہ نے بتایا کہ سرکاری فوج نے شہر کے وسط میں بتدریج پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے۔ اب وہ شمال میں بستان الباشا کے علاقے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔حلب کا مشرقی حصہ روسی فوج اور شامی حکومت کے طیاروں کے شدید حملوں کی زد میں ہے۔

مزید : عالمی منظر