جناب نواز شریف۔۔۔شکریہ

جناب نواز شریف۔۔۔شکریہ
جناب نواز شریف۔۔۔شکریہ

  

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف تیسری مرتبہ وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ بطور انسان اور طرز حکمرانی ودیگر معاملات پر اختلاف ہو سکتا ہے غلطی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے مگر تنقید برائے تنقید کی روایت اچھی نہیں ہے۔ البتہ تنقید برائے اصلاح ضرور ہونی چاہئے۔اچھے کاموں اور فیصلوں پر تحسین بھی ہونا چاہیے۔ میاں نوازشریف کے طویل اقتدار میں شاید میں کبھی بھی اُن کا حامی نہیں رہا۔ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ تنقید وزیراعظم میاں نوازشریف پر کشمیر کے ایشو کو نہ اٹھانے پر کی جا رہی تھی اور اسی تناظر میں بھارتی وزیراعظم مودی سے کاروباری شراکت کا الزام بھی لگایا جاتا رہا۔ ملکی دفاع پر آنچ آنے لگی تو سب اختلافات بھلا کر میاں محمد نوازشریف نے جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے بھارت کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لئے ملکی دفاع پرسب جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا دیا۔سب جماعتوں کے قائدین کو متحد کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف پیش کر کے پوری قوم کے دل جیت لئے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہے۔ یہ ایوان اس عوامی اتحاد کی یک جہتی کی علامت ہے جس میں دفاع کے حوالے سے تقسیم کی کوئی لکیر نہیں کوئی حزب اختلاف ہے، نہ حزب اقتدار بلکہ پاکستان کے دفاع کے لئے ہم صرف پاکستانی ہیں وطن کا قرض چکانے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔اگر بھارت واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو قول و فعل کے تضاد کو دور کرے۔بارود بونے سے پھول نہیں کھلتے۔ بھارت چھرّے مار کر کشمیریوں کی بینائی چھین سکتا ہے مگر پوری قوم کو اندھا نہیں کر سکتا۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، پائیدار امن کی خواہش رکھتا ہے۔ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بامعنی بامقصد نتیجہ خیز بات چیت چاہتا ہے۔ امن کی خواہش باوقار باعزت قوم کی خواہش ہے۔ میاں نوازشریف نے مزید کہا یہ حقیقت پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے کہ سات لاکھ بھارتی فوج کے مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبہ حریت کو کچلا نہیں جا سکتا۔ ظلم کے ہر وار کے ساتھ بھارتی تسلط سے آزادی کا عزم پختہ ہو رہا ہے۔ سات دہائیوں سے کشمیریوں کو غلام بنائے رکھنے کے تمام حربوں کے باوجود اپنے حقوق کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والے سرفروشوں کا قافلہ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ برہان وانی کی شہادت کشمیریوں کی تحریک کو ایک فیصلہ کن موڑ تک لے آئی ہے۔ معصوم لوگوں کے سینے چھلنی کرنے ان کے چہرے مسخ کرتے اور انہیں اندھا کرنے سے تحریک کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہا۔یہ حقیقت دیوار پر لکھی نظر آ رہی ہے کہ بھارت کشمیریوں کو اس حق سے محروم نہیں رکھ سکتا، جس کا وعدہ اس نے ساری دنیا سے کر رکھا ہے اور جس کی ضمانت پوری عالمی برادری نے دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا میری حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے موثر کوششوں کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران میں مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے۔ میں نے جنرل اسمبلی میں چار مطالبات پیش کئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے رابطہ کرکے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی ہے۔

وزیراعظم میاں نوازشریف نے مزید کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت و بہادری کی تابندہ روایات کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہے۔ پاکستانی دفاع کی خاطر ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔ وزیراعظم نے ملکی دفاع کی خاطر تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کی طرف سے لبیک کہنے پر تمام جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ میاں محمد نوازشریف کے اس طرز عمل اور جرات مندانہ اقدام پر مَیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر اب حل ہونے کے قریب ہے۔ تنقید کرنے والوں کے منہ بند کر دیجئے اور اپنی بہادر فوج کے پشت پر ہاتھ رکھتے اور خارجہ امور پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے پوری دنیا کو کشمیر میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے کا پروگرام تشکیل دیجئے اس معاملے میں بھرپور کردار کے لئے بااختیار وزیرخارجہ بنائیے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن سمیت اپوزیشن جماعتوں کو صرف خوبصورت تقریر اور تحریر سے نکال کر نئے سرے سے صف بندی کیجئے۔ پوری قوم آپ کے ساتھ ہو گی۔ دوعملی کا خاتمہ اور پوری دنیاکو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے آگاہی کا اس سے اچھا موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ آج کے کالم میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے اس حصہ کی ستائش ضرور کروں گا جس میں انہوں نے ملکی دفاع کے نام پر ایک ہونے کا اعلان کیا مگر سیاسی دکانداری اور بلاوجہ کی تنقید کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جا سکتی۔ عمران خان نے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی اس سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں گیا۔ بلاول نے اگر سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کرکے اچھا اقدام کیا تو اجلاس کے فوری بعد صرف خبر بنانے کے لئے جو بیانات دیئے، ان کو بھی اچھا نہیں سمجھا گیا۔دو عملی اگر حکمرانوں میں ہے اس کو بھی دور ہونا چاہیے اگر اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں میں ہے۔ اس کو بھی دور ہونا چاہیے۔ایک اجلاس میں موقف اور دوسرے اجلاس میں موقف تبدیل کر لینے کی پالیسی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لئے فائدے مند نہیں ہے اور وطن عزیز کے لئے اگر وزیراعظم نے درست اور بروقت قدم اٹھایا ہے تو میں تو کہوں گا میاں صاحب آپ کا شکریہ۔ آپ کے مقبوضہ کشمیر پر تازہ موقف پر سلام اس کو جاری ساری رکھیں۔ پوری قوم آپ کی پشت پر ہوگی۔انشاء اللہ۔۔۔

مزید : کالم