ترجمان وزیر اعظم ہاؤس اور دفتر وزیر اعلی پنجاب نے خبر کی سختی سے تردید کردی

ترجمان وزیر اعظم ہاؤس اور دفتر وزیر اعلی پنجاب نے خبر کی سختی سے تردید کردی

اسلام آباد،لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )ترجمان وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلی پنجاب کے دفتر نے قومی سلامتی کے اجلاس کے دوران سیاسی و عسکری لیڈرشپ میں مبینہ تلخی کے حوالے سے خبر سختی سے مسترد کردی اور کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف میں تلخ جملوں کے تبادلوں سے متعلق ڈان کی خبر کا متن نہ صرف قیاس آرائی ہے بلکہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ خبر ایک ملا جھلا افسانہ اور آدھی سچائی پر مبنی ہے جسے سیاق سباق سے ہٹ کر رپورٹ کیا گیا۔ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے کہا کہ اس ہی خبر میں لکھا گیا کہ جن لوگوں کے بارے میں خبر بیان کی گئی ان سے منسوب بیانات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ،یہ واضح طور پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا مظاہرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ بین الاقوامی طریقہ کار کے تحت برابری کے ساتھ معلومات کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں بین الاقوامی رپورٹنگ کے اصولوں اور معیار کے مطابق عمل کرنا چاہیے جو لوگ برابری کے ساتھ معلومات کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں جس طرح دنیا میں معلومات کا حق فراہم کیا جاتا ہے ان کے لیے ضروری ہے۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کے دفتر نے روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں آج شائع ہونے والی اس خبر کہ’’عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی یا بین الاقوامی تنہائی کا سامنا، سویلینز نے ملٹری کو آگاہ کر دیا‘‘ "Act against militants or face international isolation, civilians tell military" میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے منسوب کئے جانے والے ریمارکس کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خبر دینے والے صحافی نے گزشتہ رات ریمارکس کیلئے وزیراعلیٰ کے دفتر رابطہ کیا تاہم انہیں واضح طور پر بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سے منسوب ریمارکس بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ واضح طور پر تردید کے باوجود وزیراعلیٰ سے منسوب ریمارکس کو خبر میں حقیقت کے برعکس غلط انداز سے شائع کیا گیا۔ وزیراعلیٰ آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ہیڈ لائن بنانے کیلئے سچائی اور راست گوئی کے بنیادی صحافتی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی پر گہرے تاسف کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اپنے بیان میں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ’’ڈی جی آئی ایس آئی سے تخیلاتی گفتگو ‘‘ کے دوران ان سے منسوب ریمارکس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس خبر کے مندرجات کا سچائی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج پاکستان کے آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے وطن عزیز سے ملک دشمن عناصر کے خاتمے کیلئے ہزاروں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ، اس لئے ایسے عناصر کو مدد دینے کے حوالے سے خبر میں دیا گیا تاثر مضحکہ خیز ہے۔ وزیراعلیٰ نے خبر کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ نہ صرف وہ مسلح افواج کے بطور ادارے کے بے پناہ احترام کرتے ہیں بلکہ وہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کے پیشہ ورانہ انداز سے فرائض سرانجام دینے، ان کی فرائض سے لگن اور اپنے مقصد سے مخلص ہونے پر بھی بہت احترام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف جو غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اور آل پارٹیز کانفرنس سمیت وزیراعظم محمد نوازشریف نے جن حالیہ اجلاسوں کی صدارت کی ہے ان میں بھی قیادت نے مسلح افواج پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب بھارتی اشتعال انگیزیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں،اس طرح کی من گھڑت اور حقائق کے منافی خبرانتہائی قابل افسوس ہے۔

تردید

مزید : صفحہ اول