سانحہ ماڈل ٹاؤن، طاہر القادری کی وکلاء سے مشا ورت،کیس پر بریفنگ لی

سانحہ ماڈل ٹاؤن، طاہر القادری کی وکلاء سے مشا ورت،کیس پر بریفنگ لی

لاہور(خبر نگار خصوصی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے ویڈیو لنک پر عوامی تحریک کے وکلاء پینل سے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے حوالے سے طویل مشاورت کی اور کیس سے متعلق بریفنگ لی۔سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ قوم نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کارکنوں کا قتل عام براہ راست دیکھا۔ انصاف کے اداروں کو مزید کیا ثبوت درکار ہیں؟حکومت اور اس کے ادارے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو بچا رہے ہیں۔2 سال گزر جانے کے بعد بھی سانحہ کے نامزد ملزمان سے کسی ادارے نے سوال و جواب کیا اور نہ انصاف کے حوالے سے کوئی پیشرفت ہو سکی۔شہداء کے ورثاء کو انصاف دلوانے کیلئے جدوجہد کا ہر راستہ اختیار کرینگے۔ کارکنوں کو صبر اورقانون ہاتھ میں نہ لینے کی سختی سے ہدایت دے رکھی ہے حکمران ہمارے صبر کو مزید مت آزمائیں۔ مسلسل بے انصافی پر کارکنوں میں اشتعال اور غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ہم اپنے بے گناہ کارکنوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔قصاص تحریک کا پہلا راؤنڈ وارم اپ راؤنڈ تھا۔دوسرے راؤنڈ کی تیاری مکمل ہے جس کا اعلان مناسب وقت پر ہو گا۔سربراہ عوامی تحریک نے وکلاء کو ہدایت کی کہ جسٹس علی باقر نجفی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو استغاثہ کیس کا حصہ بنانے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے۔اجلاس میں ڈاکٹر حسن محی الدین، رائے بشیر ایڈووکیٹ، میاں فیض ایڈووکیٹ ،اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ، سید الطاف حسین شاہ ،نعیم الدین چودھری ،محمد ناصر ایڈووکیٹ ،نوراللہ صدیقی، جواد حامد ،رائے عثمان و دیگر سینئرز کی شرکت عوامی تحریک کے وکلاء نے مذکورہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو استغاثہ کیس کا حصہ بنانے کیلئے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف عوامی تحریک کے وکلاء اب ہائیکورٹ سے رجوع کرینگے۔گزشتہ روز استغاثہ کیس کے حوالے سے کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ مزید کارروائی 14 اکتوبر کو ہو گی۔گزشتہ روز عوامی تحریک کی طرف سے نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ ،اشتیاق حسین ممکا ایڈووکیٹ اور مستغیث جواد حامد اعدالت میں پیش ہوئے۔وکلاء نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کو بتایا کہ ہم باقر نجفی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو استغاثہ کیس کا حصہ بنانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کررہے ہیں جس کیلئے کچھ وقت درکار ہے جس پر عدالت نے 14 اکتوبر کی تاریخ دے دی۔

مزید : صفحہ آخر