مسئلہ کشمیر کا اجاگر کرنے کیلئے 2رکنی پارلیمانی وفد کی امریکی حکام سے ملاقاتیں

مسئلہ کشمیر کا اجاگر کرنے کیلئے 2رکنی پارلیمانی وفد کی امریکی حکام سے ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) پاکستانی پارلیمنٹ کے دو رکنی وفد نے امریکی حکام اور رائے عامہ کے لیڈروں کو مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس مقصد کیلئے خصوصی مندوب مقرر کئے تھے ان میں سے سینیٹر مشاہد حسین سید اور ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان گزشتہ ہفتے واشنگٹن آئے تھے اور انہوں نے ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بدھ کی رات یہاں پاکستانی سفارت خانے میں ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ ترتیب دیا گیا جس میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے مقامی چیدہ چیدہ افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ وہ امریکی وزارت خارجہ کے حکام اور تھنک ٹینک کے ارکان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں میں انہیں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے آگاہ کرچکے ہیں اور انہیں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کے بارے میں تفصیلات بتائیں جو اب تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ ڈاکٹر شذرہ منصب علی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے مرکزی مسئلہ کشمیر کا ہے جس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے باعث اس کی بین الاقوامی حیثیت بن چکی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ صرف علاقے کے حصول کا نہیں ہے بلکہ ان مظلوم کشمیریوں کے حقوق کا بھی ہے جو اس وقت بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔

مزید : صفحہ اول