دیہی روڈز پروگرام، اربوں کی خوردبُرد کرپشن پر موصول درخواستیں ردی کی نذر

دیہی روڈز پروگرام، اربوں کی خوردبُرد کرپشن پر موصول درخواستیں ردی کی نذر

لاہور (ارشد محمود گھمن//سپیشل رپورٹر)خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام پہلے اور دوسرے فیز 31 ارب کی لاگت سے3593کلو میٹر سڑکیں سی اینڈ ڈبلیو کے افسران اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے کرپشن کی نذر ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ تیسرے فیز کی1600 کلو میٹر سڑکوں کے 18ارب روپے بھی خردبرد کئے جانے کا امکان ہے، مذکورہ محکمہ اورکنٹریکٹرز نے ناقص مٹیریل کا استعمال کرکے قومی خزانہ کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا ہے جس کا بھانڈا گزشتہ ما ہ ہونے والی بارشوں نے کھول دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں ناقص میٹیریل اور سڑکوں کی تعمیر نا مکمل ہونے کے باعث عوامی سماجی حلقوں کی جانب سے محکمے کو متعلقہ ایس ڈی او، ایکسین،اورایس ای ، افسران کے خلاف درجنوں درخوا ستیں بجھوا ئیں گئیں جن کو اعلی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ردی کی ٹوکری کی نذر کر کے اعلی احکام نے حکومت پنجاب کو سب اچھا کی رپورٹس بجھوا دیں۔ یاد رہے کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے پنجاب کے تمام اضلاع شیخو پو رہ، فیصل آ باد، نارووال، گجرات، سیالکوٹ ، جہلم، گوجرانوالہ،قصور،سرگودھا وغیرہ کے لئے دیہات ایریا کو شہروں میں رابطہ کے لئے پہلے اور دوسرے فیز کے لئے3593کلو میٹر سڑکوں کے لئے 31ارب روپے خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے فنڈز جاری کئے بعدازاں تیسرے فیز کے لئے 1600کلو میٹر سڑکوں کے لئے18ارب روپے کے فنڈز بھی جاری کر دئے گئے جس پر50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔سی اینڈ ڈبلیو، کے کرپٹ افسران نے مبینہ طور پر کرپشن کی خاطر اس منصوبہ کو نکام بنا دیا ۔ذرائع کے مطابق اربوں روپوں کی لاگت سے جاری خادم دیہی روڈز پروگرام کے تحت بننے والی سڑکوں کو اس معیار کے مطابق نہیں بنایا گیا جس کے مطابق حکومت پنجاب کا دعوی تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے اس منصوبہ میں بننے والی سڑکوں کی ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ سے لیبارٹر ی ٹیسٹ کروائے جائیں تو اس میں ہونے والی کرپشن ایک داستان کی تاریخ رقم ہو سکتی ہے جس میں اس محکمہ کے کرپٹ افسران کے اثاثوں کی بھی چھان بین کی جائے تا کہ قومی خزانہ کا اربوں کا ٹیکہ لگانے والے کرپٹ عناصر کا خاتمہ ہو سکے گا، اس بابت موقف دریافت کرنے کے لئے چیف انجینئر نارتھ سرفراز بٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپناموقف دینے سے انکار کر دیا۔

مزید : صفحہ آخر