ایوان کی اندر خرابیوں کی ذمہ داری اپوزیشن نہیں حکومت ہے: سراج الحق

ایوان کی اندر خرابیوں کی ذمہ داری اپوزیشن نہیں حکومت ہے: سراج الحق

لاہور(اے این این)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کا اجلاس بلالیتی ہے مگراس کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں ہوتا۔بھارت جھوٹے پروپیگنڈے سے دنیا کی ہمدردیاں سمیٹ رہا ہے اور ہم سچ بول کر بھی دنیا کو اپنا ہمنوا نہیں بناسکے۔ایوان کے اندر خرابیوں کی ذمہ دار اپوزیشن نہیں حکومت ہے جو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال رہی ہے۔ غرور اور تکبر کی بنا پر حکومت چلانے کا اب دور نہیں رہا۔کراچی میں پکڑے جانے والے اسلحہ کا ذخیرہ پورے شہر کو تباہ کرنے کیلئے کافی تھا حکومت بتائے کہ یہ اسلحہ کون لایا ،کہاں سے آیا اور کیا حکومت اور اس کی ایجنسیاں سوئی ہوئی تھیں۔کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے اس انجن کو بند کرنا یا اس پر قبضہ کرنا پورے پاکستان پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے ۔اب بھی سیاست اور جرائم کی دنیا کو الگ نہ کیا گیا تو کسی وقت بہت بڑی تباہی کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت ساری دنیا میں جھوٹ بول کر عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ہمارے حکمران سچائی پر مبنی قومی موقف کوبھی موثر انداز میں پیش نہیں کرسکے ۔سارک کانفرنس کا ملتوی ہونا حکومت کی بڑی ناکامی ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ امریکی صدر اوبامہ کی تقریر میں کشمیر کا ذکر نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خارجہ محاذ پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے ۔بھارت اول فول بول کر اور اوڑی جیسے ڈراموں سے دنیا کو متاثر کررہا ہے جبکہ ہماری وزارت خارجہ کے پاس سوائے ناکامیوں کی داستان کے کچھ بھی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنقید برداشت کرنے کی ہمت پیدا کرے اور ہٹ دھرمی کی بجائے جن سوالات کا جواب نہ دے سکے اس پر معذرت کرنے یا خاموشی اختیار کرنے کا سلیقہ سیکھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کراچی میں پکڑا جانے والا اسلحہ کا ذخیرہ بہت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے یاشہر پر قبضہ کرنے کی غرض ہے لایا گیا۔عوام سوال کرتے ہیں کہ جب اتنا اسلحہ شہر میں جمع کیا جارہا تھا تو حکومت کہاں تھی ۔کیا حکمران اور قومی سلامتی کے ادارے سو رہے تھے ۔اسلحہ کا اتنا بڑا ذخیرہ پکڑے جانے سے عوام کی نیند اڑگئی ہے اور یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کراچی میں زیر زمین بہت سے دہشت گردتنظیمیں موجود ہیں جو شیعہ سنی فسادات کرواتی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے قومی سلامتی سے کھیلتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ یہ اسلحہ کون لایا اور اس کے عزائم کیا تھے۔

مزید : صفحہ آخر