عدالتی ٹرائل سے پہلے مقدمہ کی چالان فائل کاخفیہ رہنا ضروری ہے ‘ قانونی ماہرین

عدالتی ٹرائل سے پہلے مقدمہ کی چالان فائل کاخفیہ رہنا ضروری ہے ‘ قانونی ...

ملتان (خبر نگار خصوصی ) پولیس رولز 2002 کی کھلی خلاف ورزی ‘ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ملتان نے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے قندیل بلوچ قتل کیس کا عدالتی ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے اس کی خامیاں پریس کے سامنے بیان کرنا (بقیہ نمبر60صفحہ7پر )

شروع کردیں ‘ وکلاء اور پولیس حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ملتان جام صلاح الدین نے مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سستی شہرت کی خاطر انتہائی اہم نوعیت کے قندیل بلوچ قتل کیس سے متعلق پولیس رولز کے مطابق صیغہ راز میں رکھی جانیوالی دستاویز ‘ کیس چالان کی خوبیاں و خامیاں منظر عام پر لانا شروع کر دی ہیں ‘ جس کے نتیجہ میں قانونی ماہرین اور پولس کے متعلقہ حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں سابق جج شریعت کورٹ و سینئر قانون دان حبیب اﷲ شاکر ایڈووکیٹ نے اپنی قانونی رائے دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی ٹرائل شروع ہونے سے پہلے کسی بھی مقدمہ کی چالان فائل پولیس اور پراسیکیویشن کے درمیان ایک خفیہ دستاویز ہے جس کو صیغہ راز میں رکھنا ضروری ہے جبکہ پولیس رولز 2002 میں بھی اس امر کا ذکر کیاگیا ہے ۔ لہٰذا ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو اپنی قانونی ذمہ داریوں کے تحت ایسے معاملات کو پبلک کے سامنے لانے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

قانونی ماہرین

مزید : ملتان صفحہ آخر