پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں ’’زبانی‘‘جنگ ،جیالوں کا احتجاج ،سپیکر نے واک آؤٹ کی کوشش ناکام بنا دی

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں ’’زبانی‘‘جنگ ...

اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سینیٹر مشاہد اللہ کی جانب سے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر پیپلز پارٹی کا شدید احتجاج ،پیپلز پارٹی کے ارکان نے مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگانے شروع کردیئے اور مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کی کوشش کی مگر جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اور سپیکر ایاز صادق نے انہیں واک آؤک کرنے سے روک لیا ۔جمعرات کو مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہد اللہ نے پیپلز پارٹی پر شدیدتنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں وزیر اعظم پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا نام نہیں لیا،مگر کلبھوشن یادیو کے ڈوزیئر اقوام متحدہ ا ور دنیا کے ہر فورم پر ثبوتوں کے سات پڑے ہیں نواز شریف کام والا آدمی ہے بڑھکیں مارنے والا نہیں،ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سکھوں کی فہرستیں بھارتی انٹیلی جنس چیف کو دی گئیں ، بینظیر بھٹو شہید کا فہرستیں دئیے جانے پر شکریہ ادا کیا گیا ۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے شور مچانا شروع کر دیا اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار کے نعرے لگائے ۔جس پر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ خود کوجمہوریت پسند پارٹی کہتے ہیں ان کے تماشے دیکھیں، انہیں یہ بتانا ہوگا کہ انہیں چھلانگیں مارنا کس نے سکھایا ، انہوں نے کہا کہ ہم میں بات سننے کا حوصلہ ہے آپ کہتے ہیں کہ 2018ء میں وزیر اعظم پیپلز پارٹی کا ہو گا اور نواز شریف جیل میں ہو گا ،مگر 2018ء میں و زیر اعظم نواز شریف ہی ہو گا اور جیل میں کون ہو گا اسکا فیصلہ خود کر لیں،جو آج یہاں گلے پھاڑ کر کہتے ہیں وہ سند ھ میں جا کراپنا جوش دکھائیں، اگر ایسے کرپشن چلتی رہی تو 2028 میں بھی پیپلز پارٹی نہیں جیت سکے گی۔ پانامہ میں نواز شریف نہیں بینظیر بھٹو کا نام ہے ،پانامہ پیپرز کی 560 آف شور کمپنیوں میں سے 558 پیپلز پارٹی کے لوگوں کی ہیں،جس پر پیپلز پارٹی کر ارکان پارلیمنٹ نے مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگانے شروع کردیئے،اور ایوان میں کھڑے ہو کر احتجاجاًڈیسک بجانا شروع کردئیے،اس موقع پر قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا، جس کی ماں نے کبھی کشمیریوں کے لیے ریشم اور زیورات نہیں پہنے انہیں غداروں میں شامل کرتے ہیں ۔ ہم اسمبلی میں شور شرابا کرکے نئی دہلی کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، اگر حکومت کہتی ہے اپوزیشن منہ کو ٹیپ لگادے تو ٹھیک ہے۔ ایک جماعت تو پہلے ہی پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرچکی ہے۔ اب سپیکر فیصلہ کرلیں وہ جارہے ہیں، ہم یہاں بیٹھ کر گالیاں نہیں سن سکتے۔ ہم چلے جاتے ہیںً آپ باتیں کریں جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ایوان کا بائیکاٹ کرنا چاہا مگر سپیکر ایاز صادق اور جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے انہیں روک لیا۔ سپیکر ایاز صادق نے خورشید شاہ کو مناتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر یہ اجلاس بلایا گیا جس سے لڑنا چاہیے اس سے ہم لڑ نہیں رہے مگر آپس میں لڑ رہے ہیں، بہت سے ارکان نے یہاں کشمیر کے معاملے سے ہٹ کر بات کی،جس پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاکہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر متحد ہوں، ہمیں بارڈر پر اتحا د کا پیغام دینا ہے، ہم پارلیمنٹرینز ہیں لوگوں سے ووٹ لے کر آتے ہیں میں اپنی طاقت کو سمجھتا ہوں ۔ اس موقع پر قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ گزشتہ روز معاملات اچھے چل رہے تھے اور کشمیر کے حوالے سے اچھا پیغام گیا۔ یہ اتحاد پاکستان کیلئے نہیں بلکہ کشمیر کیلئے ضروری ہے۔ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ سینیٹر مشاہد اللہ نے کہاکہ میں نے کسی کو گالی نہیں دی۔ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت چاہتا ہوں۔ میں ایک جمہوری آدمی ہوں بھاگنے والا نہیں۔سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہاکہ مجھے پہلے ہی خدشہ تھا کہ ’’جی جی بریگیڈ‘‘ میرے خلاف توپیں چلائے گی، سکھوں کی فہرستیں بھارتی اداروں کو دی گئیں پہلے تو ایسی کوئی خبر نہیں تھی مگر اگر ایسی کوئی فہرست اگر کسی سویلین کے پاس آ گئی اور اس نے وہ فہرستیں بھارتیوں کو دیدی تو اس کو اٹک جیل میں گولی مار دی جاتی ۔ حکومت الزام نہیں لگاتی پرچہ دے دیتی ہے، گالی گلوچ بریگیڈ کے پاس الزام رہ جاتے ہیں، جب کچھ نہیں ملتا تو ایل پی جی یا سکھوں کی فہرستیں کی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں کہا تھا الزام نہ لگائیں مقدمہ چلائیں، انہیں کوئی ڈرا یا غائب نہیں کرسکتا، وہ نہ پہلے بھاگے تھے اور نہ اب بھاگیں گے، پرویز مشرف کی سب سے زیادہ مخالفت انہوں نے کی، باقی تو10سال کے لیے باہر چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا کام تنقید کرنا ہوتا ہے حکومت کو چاہیے کہ اس تنقید کو برداشت کرے۔ ماضی میں جتنی بھی حکومتیں گریں اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ ان میں تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ اس لئے ’’جی جی بریگیڈ‘‘ برداشت کو بڑھائے۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ کشمیر بین الاقوامی متنازعہ علاقہ ہے، بھارت کا کشمیرکو اٹوٹ انگ کہنا بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے، سارک کانفرنس میں افغانستان ،بنگلہ دیش ،نیپال اور دیگر ممالک کا شرکت سے انکار وزارت خارجہ اور وزیراعظم نواز شریف کی ناکامی ہے،حکومت نیشنل ایکشن پلان میں نان سٹیٹ ایکٹرز پر پابندی لگانے کی شق پر عمل درآمد کروانے میں مکمل ناکام رہی، نان سٹیٹ ایکٹرز کی وجہ سے سارک ممالک نے بھارت کا ساتھ دینا شروع کردیا ہے۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں بھارت ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا نام تک نہیں لیا جو وزیر اعظم کی تقریر کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے تھا ، وزیر اعظم سندھ طاس معاہدے اور کشمیریوں کا موقف بے باک انداز سے عالمی برادری میں پیش کریں ہم بغیر کسی شرط کے آپ کے ساتھ ہیں ، تاثر پھیلتا جا رہا ہے کہ سی پیک پنجاب چائنہ منصوبہ ہے جو ہمیں منظور نہیں، 46 ارب ڈالر کا منصوبہ پاکستان کی یکجہتی سے زیادہ اہم نہیں،حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں تحریری طور پر اعتراف کیا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے، پاکستان اور بھارت کا میڈیا بڑا جنگجو ہے، ہم امن چاہتے ہیں ہمارے میڈیا کو امن کی فضیلت بتانی چاہیے، بھارت پاکستان جنگ نہیں ہو گی، سر حد پر تھوری بہت فائرنگ ہوتی رہے گی مگر جنگ نہیں ہو گی ۔

احتجاج

اسلام آباد(آئی این پی)اے این پی کے سینیٹر الیاس بلور نے کہا ہے کہ آج پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان کے دوست دشمن بن گئے ہیں،ہم غیر ریاستی عناصر کو پال رہے ہیں، افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے پختونوں کو نقصان ہوگا آج افغانستان پاکستان کا بڑا دشمن بنا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے،آج ہمارا کوئی دوست نہیں رہا مسلم ممالک کوئی بھی پاکستان کے حق میں بیان دینے کو تیار نہیں، پاکستان کو سب سے زیادہ افغانستان جنگ سے نقصان ہوا۔وہ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسٗلہ کشمیر اور سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے بحث میں اظہار خیا ل کر رہے تھے۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر اکیلا ہونے کے قریب ہے،آج دنیا پکاستان کے ٹھیک موقف پر بھی اعتبار نہیں کررہی،وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی، ماضی میں غیر ریاستی عناصر نے ہمیں کوئی فائدہ نہیں دیا ،نان سٹیٹ ایکٹر دنیا میں پاکستان کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں، کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں اور ہر قسم کا دہشت گرد پاکستان کیخلاف ہے،وہ ممالک جن کا ماضی میں ہم نے ساتھ دیا آج وہ ہمارے خلاف جارہے ہیں،سی پیک پر صوبوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے ہم وزیراعظم نواز شریف کے پیچھے کھڑے ہیں، ہماری توپوں کا رخ ایک دوسرے کی بجائے بھارت کیخلاف ہونا چاہیے، وقت آگیا ہے ہم سب کو پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے متحد ہونا ہوگا۔وہ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسٗلہ کشمیر اور سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے بحث میں اظہار خیا ل کر رہے تھے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ہم سب ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے موقف میں سچائی ہونے کے باوجود کیوں دنیا ہم پر اعتبار نہیں کررہی، آج ہم اکیلے ہونے کے قریب ہیں ، ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کیا غلط کررہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی کشمیر کے حوالے سے ہماری سفارتی کوششیں ناکافی رہی ہیں، یہ وقت ہے کہ ہم ایک دارالخلافہ سے دوسرے دارالخلافہ تک اپنے پیغام کو درست انداز میں پہنچانا ہے اور اس کے ساتھ بھارتی میڈیا کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں کسی جادو کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف سفارتکاری کا راستہ نہیں بدلنا بلکہ اپنے اندرونی معاملات کو بھی دیکھنا ہے۔ آج دنیا سمجھتی ہے کہ ہم دہشت گرد پیدا کرتے ہیں یہ آج کیوں ہورہا ہے ماضی میں نان سٹیٹ ایکٹرز سے ہمیں کبھی کوئی فائدہ نہیں ملا اور ان کی وجہ سے ہم دنیا کی نظر میں پستی میں جارہے ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول