چارسدہ ،ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سپرٹنڈنٹ کی بیوہ ڈیتھ گرانٹ سے محروم

چارسدہ ،ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سپرٹنڈنٹ کی بیوہ ڈیتھ گرانٹ سے محروم

چارسدہ (بیورو رپورٹ) شادی کے چھ ماہ بعد جاں بحق ہونے والے ورکر ویلفےئر بورڈ کے سپرنٹنڈنٹ کی بیوہ اور معصوم بیٹا سسرالیوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے حسرت و یاس کی تصویر بن گئے ۔ سڑک خادثہ میں جاں بحق ہونے والے سپرنٹنڈنٹ آفتاب عالم کا 17لاکھ 40ہزار روپے ڈیتھ گرانٹ بیوہ خاتون اور بچے کی بجائے سسر نے جعل سازی سے حاصل کر کے ہڑپ کر لیا ۔ بیوہ خاتون اور معصوم بچہ کسمپر سی کی زندگی گزارنے اور حصول انصاف کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور ۔ وزیر اعظم ، وزیر اعلی اور چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق اتمانزئی صنم گڑھی کی خاتون مسماۃ سدرہ زوجہ مرحوم آفتاب عالم نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2012میں ان کی شادی کزن آفتاب عالم سے ہوئی جو کہ وکر ر ویلفےئر بورڈ کے سکول میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے ۔ شادی کے چھ ماہ بعد ٹریفک خادثے میں ان کے شوہر آفتاب عالم کی موت واقعہ ہو ئی جس کے بعد ان کی زندگی میں ہر طرف اندھیرا چھا گیا ۔ اس دوران اللہ نے ان کو چاند سا بیٹا دیا جس کا نام انہوں نے ابصار عالم رکھ کر باقی ماندہ زندگی مرحوم آفتاب عالم کی نشانی کیلئے وقف کر دی ۔ بیوہ خاتون مسماۃ سدرہ نے کہا کہ محکمہ ورکر ویلفےئر بورڈ سے ساز باز کرکے ان کے سسر لیاقت علی نے 10اکتوبر اور 7نومبر 2012کو اان کے شوہر آفتاب عالم کے ڈیتھ گرانٹ کے 17لاکھ 40ہزار روپے کے چیک اپنے نام کرلئے اور مجھے اور معصوم بچے کو گھر سے نکال دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجبور اً وہ والدین کے گھر رہنے پر مجبور ہو گئی ۔ شوہر کے ڈیتھ گرانٹ کے حصول کیلئے رشتہ داروں اور عمائدین علاقہ نے کئی جر گے کئے مگر ان کے سسر نے معصوم بچے اور میرے حق پر قبضہ جما لیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ حصول انصاف کیلئے انہوں نے ورکر ز ویلفےئر بورڈ کے اعلی حکام ، نیب ، انٹی کرپشن اور وزیر اعلی کمپلینٹ سیل کوکئی درخواستیں دئیے ہیں مگر اس پر کوئی عمل در آمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا کر کسمپر سی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر ویز خٹک اور چیف جسٹس سے فوری انصاف فراہم کرنے اور ڈیتھ گرانٹ کے 17لاکھ 40ہزار روپے ریکوری کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے بچے ابصار عالم کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنا سکے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر