فیصل آباد میں لیگی لیڈروں کے گھروں سے اسلحے کے ڈھیر ملنے کے بعد حکومت نے آپریشن روک دیا

فیصل آباد میں لیگی لیڈروں کے گھروں سے اسلحے کے ڈھیر ملنے کے بعد حکومت نے ...
فیصل آباد میں لیگی لیڈروں کے گھروں سے اسلحے کے ڈھیر ملنے کے بعد حکومت نے آپریشن روک دیا

  

فیصل آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیصل آباد میں پولیس نے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے تین یونین کونسل چیئرمینوں کے ڈیروں سے اسلحہ برآمد ہونے کے بعد دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن ہی بند کردیا ہے۔حد تویہ کہ تینوں ملزموں کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔آپریشن روکے جانے کی خبریں ایسے وقت پر منظر عام پر آئیں ہیں جب ایک ہی روز پہلے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف جب بھی کارروائی کرتے ہیں،سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ انہیں رہا کروانے کی کوششیں شروع کردیتی ہے تاہم اب فیصل آباد میں سامنے آنے والے پولیس کے اس اقدام کے بعد لگ رہا ہے کہ حکومت خود ہی ملزموں کو بچارہی ہے۔

پولیس کی جانب سے متذکرہ بالا رہنماو¿ں کے ڈیروں پر چھاپے فیصل آباد میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ تھے تاہم اب کارروائیاں ایک ماہ سے بند ہیں۔ ڈیلی پاکستان گلوبل نے انگریزی اخبار”ڈان“ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان چھاپوں کے دوران ن لیگی رہنماو¿ں کے ڈیروں سے ممنوعہ ہتھیاروں کی بڑی مقدار برآمد ہوئی تھی جس کے بعد دو اعلیٰ پولیس افسروں نے ن لیگی رہنماو¿ں رنا اسرار، محسن سلیم اور پرویز کموکا کے ساتھ مفاہمت کے لئے میٹنگ بھی کی تھی۔ا گرچہ پولیس نے تینوں کارروائیوں کی ایف آئی آر درج کی تھیں جن میں برآمد ہونے والے ممنوعہ اسلحے کی تفصیل بھی موجود ہے تاہم تینوں یوسی چیئرمینوں کو نامزد کرنے کی جرات نہیں کرسکی۔عارف نوان،بلال اور مدثر نامی ملزموں کے خلاف صرف اسلحہ کی نمائش کا مقدمہ درج کیا گیا۔

اخبار کے مطابق اگرچہ ضلع فیصل آباد میں آرمی آپریشن اس وقت بھی جاری ہے لیکن پولیس اس میں مستعد ہوکر حصہ نہیں لے رہی۔چھاپوں کی زد میں آنےوالے ڈیروں کے مالکان یوسی چیئرمین رانا اسرار اور محسن سلیم پولیس کے چھاپے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔دوسری جانب سٹی پولیس آفیسر افضال کوثر نے آپریشن روکے جانے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

مزید : قومی