سچل سرمستؒ کا فیض دیکھا

سچل سرمستؒ کا فیض دیکھا
سچل سرمستؒ کا فیض دیکھا

  

ببرک کارمل جمالی (اوستہ محمد بلوچستان )

صوفیا کرام کے مزارات کی زیارات کا شوق ہمیں کہاں کہاں نہیں لے گیا۔لیکن جب کہیں جاتے ہیں موٹر بائک پر ۔ اس سفر کا اپنا لطف اور آزادی ہوتی ہے۔زمین اور ہوا سے تعلق استوار رہتا ہے۔ چھٹی کا دن تھا ۔ہم دوستوں نے اپنی اپنی بائیکس نکالی اور سندھ کی دھرتی کی طرف چل پڑھے ۔جعفرآباد سے نکل کے لاڑکانہ پہنچے اور لاڑکانہ سے دریائے سندھ کا پُل عبورکرکے خیر پور کے ضلع میں داخل ہو گئے۔ ضلع خیرپور سندھ کے سر سبز علاقوں میں شامل ہے ،اسکو سچل کادیس بھی کہتے ہیں۔ اس دیس سے کئی وزیر اور وزیر اعلٰی ہو گزرے ہیں،غوث علی شاہ اور قائم علی شاہ ۔۔۔

سندھ کی سوہنی دھرتی میں جانے کیا دلکشی ہے کہ ان گنت صوفیوں اور شاعروں نے ناصرف یہاں جنم لیا بلکہ متعدد بزرگ تو ایسے تھے جو صدیوں پہلے یہاں کھینچے چلے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ حضرت سچل سرمستؒ بھی ایسے ہی صوفی بزرگ شاعر ہیں جنہوں نے ناصرف سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا بلکہ آخری سانس بھی اسی سرزمین پر لی۔دارازہ شریف میں ان کا مزار مرجع عام و خاص ہے ۔رونق سی جمی رہتی ہے۔درویشوں نے اپنے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور ہمہ وقت سرمست نظر آتے ہیں۔دوردراز سے سیاح سچل سرمستؒ کے مزار پر آتے اور اسکی دلکشی اور روحانی آسودگی کا لطف لیتے ہیں ۔یہاں حکومت سندھ نے ایک لائبریری بھی قائم کی ہے جس میں ہر نوع کی کتب موجود ہیں ۔صوفی ازم میں تحقیق کی غرض سے طلبا یہاں آتے اور کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔

سچل سرمستؒ کئی زبانوں کے شاعر تھے۔ اردو، فارسی، سرائیکی اور ہندی میں ان کا کلام آج بھی موجود ہے۔ سندھی روایات کے مطابق انہیں ’سچل سائیں‘ بھی کہا جاتا ہے، حالانکہ ان کا اصل نام خواجہ حافظ عبدالوہاب فاروقیؒ تھا۔ آپ خیرپور کے ایک گاؤں میں 1739ء میں پیدا ہوئے۔

سچل سرمست ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدین کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ چچا نے پرورش کی اور وہی ان کے معلم بھی رہے۔ قرآن حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور تصوّف کی تعلیم چچا ہی سے حاصل کی۔ گھر میں صوفیانہ ماحول تھا اسی میں ان کی پرورش ہوئی اور یہی ساری زندگی ان کے رگ و پے میں بسا رہا۔ ان کی صاف گوئی کو دیکھ کر لوگ انہیں سچل یعنی سچ بولنے والا کہنے لگے۔ بعد میں ان کی شاعری کے شعلے دیکھ کر انہیں سرمست بھی کہا گیا۔ سچل سرمست کی پیدائش سندھ کے روایتی مذہبی گھرانے میں ہوئی مگر انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی خاندانی اور اس وقت کی مذہبی روایات کو توڑ کر اپنی محفلوں میں ہندو مسلم کا فرق مٹا دیا۔ان کے عقیدت مندوں میں کئی ہندو بھی شامل ہیں۔ سچل سرمست تصوف میں وحدت الوجود کے قائل تھے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی زندگیوں میں ستر برس کا فاصلہ ہے۔ سچل ستر برس بعد جب صوفیانہ شاعری میں آئے تو ان کی وجدانیت بھی منفرد تھی۔ان کے ساتھ صوفی ازم کی موسیقی نے بھی سرمستی کا سفر کیا اور شاہ بھٹائی کے نسبتاً دھیمے لہجے والے فقیروں سے سچل کے فقیروں کا انداز بیان منفرد اور بیباک تھا۔

سچل سرمست نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے ایسے دور اقتدار میں زندگی بسر کی جب مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر تھی۔انہوں نے اپنے آس پاس مذہبی نفرتوں کو دیکھ کر سندھی میں کہا:

’’مذہبن ملک میں ماٹھو منجھایا، شیخی پیری بیحد بھلایا‘‘

جس کا سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ مذہبوں نے ملک میں لوگوں کو مایوس کیا اور شیخی، پیری نے انہیں بھول بھلیوں میں ڈال دیا ہے۔

عادتاً خاموش طبع اور نیک طبیعت تھے۔ شریک حیات جوانی میں ہی انتقال کرگئی تھیں۔ پھر ان کی کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ اس لئے زیادہ تر تنہا اور ویرانوں میں دن گزارتے تھے۔

سچل سرمست نوّے برس کی عمر میں 14 رمضان 1242ء ہجری میں وفات کر گئے۔سچل سرمست کا کلام سندھی43، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی میں موجود ہے۔ انہیں اور ان کا کلام سنانے والے فقیروں کو سندھ میں ایک منفرد مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ کسی بھی محفل میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی کو للکارا جاتا ہے تو آج بھی سہارا سچل کا لیا جاتا ہے ۔سچل سرمست نے سندھ کے لوگوں کو اپنی شاعری میں بہت سارے پیغامات دیئے جن میں بھائی چارہ، ایک دوسرے کی عزت کا سبق ہے۔

سچل سرمست کے عرس میں صرف سندھ کے علاقائی باشندے ہی شرکت نہیں کرتے بلکہ پاکستان کے باقی علاقوں کے علاوہ بھارت سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند بھی ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔

وہ رات ہم نے ایک دوست کے مرشد کے ہاں گزاری تو وہاں ایک سو سالہ درویش سے ملاقات ہوئی ۔درویش نے بتایا کہ سچل کا فیض سرحدوں کا محتاج نہیں ہے۔اس فیض نے سندھ کو امن سچائی اور محبت کا درس دیا۔سندھ میں سب سے زیادہ والدین اپنے بچوں کے نام سچل رکھتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ سچ کا ساتھ دے ۔روایت ہے کہ سچل نام رکھنے سے بچے بیمار کم ہوتے ہیں اور مرتے بھی کم ہیں۔ ہمارے کئی دوستوں نے اپنی اولادوں کا نام سچل اسلیئے بھی رکھا ہے۔

ہم ایک ہوٹل پہ چائے پینے کیلئے رک گئے تو چائے کا گلاس دیکھ کر حیران ہوئے۔ لمبا سا گلاس تھا جو مکمل بھرا ہوا تھا ۔اوپر بادام تیر رہے تھے۔ زبردست چائے تھی۔ دودھ کی خالص چائے ۔ فی کپ ساٹھ روپے ۔ مگر چائے اتنی اچھی تھی کہ اس کا ذائقہ ابھی تک تازہ ہے ،سچل سرمست کے کلام کی طرح سچا اور لب سوز۔

مزید : بلاگ