حلف نامۂ ختم نبوت میں تبدیلی کاٹیسٹ کیس ناکام

حلف نامۂ ختم نبوت میں تبدیلی کاٹیسٹ کیس ناکام
حلف نامۂ ختم نبوت میں تبدیلی کاٹیسٹ کیس ناکام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حالیہ دنوں میں وطن عزیزکے عوام شدیداِضطراب کی کیفیت سے گزرے ہیں۔02؍اکتوبرکو قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحاتی بل کی منظوری دی تو اِنکشاف ہواکہ پارلیمنٹ کے امیدوارکے لیے کاغذات نامزدگی میں موجودختم نبوت کے حلف نامے کے حلیے ہی کو بگاڑ دیاگیاہے۔جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا۔اِس موقع پر حکومتی کیمپ نے عوامی ردعمل کے جواب میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل یہ مؤقف اختیارکیے رکھاکہ بل میں حلف نامہ موجودہے ،اُسے حذف نہیں کیاگیا اورنہ کوئی ترمیم کی گئی ہے۔
یہ بیان دراصل اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا اورعوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکنا تھا۔جھوٹ کی عمرنہیں ہوتی ،اس لیے جب الیکٹرانک اورسوشل میڈیاپر پرانا اورنیاحلف نامہ اوراُس کی حذف شدہ شقیں بھی پیش کردی گئیں تو اُس کے باوجودبھی سرکاری د رباری ’’میں نہ مانوں‘‘کی پالیسی ہی پر کاربندرہے اوراُنہوں نے اِس نازک اورحساس مسئلے کو سیاسی اِیشوبنانے کی مکمل کوشش کی،چونکہ بل کی تبدیلیوں کی بابت شیخ رشیداحمدہی نے قومی اسمبلی کی تقریرمیں انکشاف کیاتھااوراُس کے بعدہی عوام وخاص کی توجہ اِس طرف مبذ ول ہوئی تھی،اِس لیے اِس مسئلے کو حزب اختلاف کی اختراع کے طورپر پیش کیاجاتارہا، جب شدید عوامی ردعمل کے بعدمیاں نوازشریف نے بل کی مذکورہ ترامیم کو بحال کرنے کا اعلان کیاتو پھر کل تک جو سرکاری کارندے اوراُن کے ہمنوا،کسی قسم کی تبدیلی سے انکار کے ڈھونڈرے پِیٹ رہے تھے ،اُنہوں نے بھی یکایک مؤقف بدلنے میں دیر نہ لگائی اوراپنے قائدکی بولی بولنا شروع ہوگئے۔بہرحال یہ قضیہ طے ہوگیا،مگر اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیاہے۔جن کے سیرحاصل جوابات تلاش کرنا ضروری ہیں۔
جناب ایازصادق سپیکرقومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بل میں تبدیلیاں کلریکل مِسٹیک ہیں۔کوئی اُن سے پوچھے کہ پورے بل میں سے صرف ختم نبوت کے حلفیہ بیان ہی میں ٹائپنگ کی ایسی غلطی کیوں ہوئی۔یہ غلطی ،اگر واقعی اسے غلطی تسلیم کیا جائے تو باقی بل میں کسی دوسری جگہ پر کیوں رونمانہیں ہوئی۔کلریکل مسٹیک میں سپیلنگ کی غلطی یا کوئی ایک آدھ لائن شامل ہونے سے رہ سکتی ہے،مگر یہاں معاملہ اِس کے برعکس ہے کہ صرف حلف نامہ کی ہیڈنگ یا ابتدائی عبارت ہی میں تبدیلی نہیں کی گئی ،بلکہ حلف نامہ کی ذیلی دواَہم ترین شقیں سیون بی اورسیون سی ہی کو سرے سے حذف کردیاگیاتھا۔یہ کلریکل غلطی نہیں ،بلکہ کسی شہ دماغ شاطر کی مجرمانہ شعوری کوشش تھی،جسے انتہائی ٹیکنیکل طریقے سے انجام دیاگیا،تاکہ حلف نامہ کے بِل میں موجودہونے کی وجہ سے،اگرکوئی سرسری نظر ڈالے تواُسے دِیگرشقوں اورعبارات کے حذف ہونے کا احساس ہی نہ ہو۔ایسی غلطی کا اِرتکاب کوئی ٹائپسٹ کرنے کی جرأت کرہی نہیں سکتا،بلکہ یہ روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ کام انتہائی اعلیٰ سطح پر اَنجام پایاہے۔جس میں وزیرقانون اوراُن کے سرپرست مکمل طورپر شریک ہیں۔اِسی لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کسی ملازم کا نام لینے کی بجائے دوٹوک کہاہے کہ اِس سازش میں ملوث وزیرکو برطرف کیاجائے۔وزیراعلیٰ کی اِس بیان کے بعدہی نوازشریف کو ترامیم کی واپسی کا اعلان کرناپڑا۔
اِس مرحلے پر جہاں پوری قوم کا ختم نبوت کے مسئلہ پر اِتفاق واِتحاددیکھنے میں آیا،وہیں یہ خوش کن امربھی واقع ہواکہ پاکستان آرمی نے بھی پہلی بارقوم کے جذبات واِحساسات کے احترام میں کھل کراَپنے مؤقف کا اظہارکیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنر ل آصف غفور نے کہا کہ ’’جہاں تک ختم نبوتﷺ کا تعلق ہے تو ہر پاکستانی ناموس رسالتﷺ پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور اِس پر ترمیم کوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔راولپنڈی میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ الیکشن اصلاحات بل کے موقع پر ختم نبوت ﷺ کی شق کے خاتمے کو کوئی بھی پاکستانی قبول نہیں کرسکتا۔‘‘پاک فوج کے اِس جرأت مندانہ اعلان نے پاکستانی قوم کے مورال کو بلندکیاہے اَوردینی قوتوں کے مطالبہ کی تائیدکرکے فوج کے بارے میں کئی منفی تاثرات کو کافی حدتک زائل کرنے میں مدددی ہے۔
اِس دورانیہ میں ایک افسوسناک امریہ بھی سامنے آیاہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت نے انتخابی اصلاحات کے بل کا سرے سے مطالعہ ہی نہیں کیا،یہاں تک کہ جہاں دیدہ سیاست دان شیخ رشیداحمد،جن کی قومی اسمبلی میں تقریرہی سے تحفظ ختم نبوت کے مسئلہ پر لوگوں کی توجہ مبذول ہوئی۔انہوں نے بھی اپنی تقریر میں کہہ ڈالاکہ اِس بل کی منظوری کے بعدختم نبوت کی شق ہی ختم کردی گئی ہے۔حالانکہ یہ شق اُس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی۔جب تک کہ دوتہائی اکثریت اسے ختم کرنے کے لیے ووٹ نہ ڈالے۔سوشل میڈیاکے حوالے سے ایک تلخ تجربے کی بھی نشاندہی ضروری ہے کہ سوشل میڈیاپر تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے متحرک دینی دوست بھی سنی سنائی باتوں کی بناء پر، سوچے سمجھے اورمعلو م کیے بغیر یہی کہتے پائے گئے کہ بل سے ختم نبوت کا حلف نامہ ہی ختم کردیاگیاہے۔جبکہ حکومت اوراُس کی اتحادی جماعتوں کے مخلص احباب بھی سوشل میڈیاپر حکومتی دِفاع کرتے ہی پائے گئے اورانہوں نے یہ مؤقف اختیارکیاکہ حلف نامہ سے ختم نبوت کا پیراگراف ختم نہیں کیاگیا۔حالانکہ اگر جماعتی وابستگیوں سے ہٹ کرصرف چندلمحوں کے لیے قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے نئے اورپرانے فارم دیکھ لیے جاتے تومعلوم ہوجاتاکہ حلف نامہ تو موجودہے ،مگر فارم میں کیاکیا خوفناک تبدیلیاں اوررَدوبدل رونماہوچکاہے؟سوشل میڈیاپر موجودہمارے دینی وسیاسی کارکن اگربغیرتحقیق فوری کمنٹس دینے اوربلاسوچے سمجھے دوسروں کی پوسٹیں شیئر کرنے سے پرہیزکریں اورخودتھوڑی سی محنت کی عادت ڈالیں تو یقیناکبھی ایسے مسائل درپیش نہیں ہوں گے اورجگ ہنسائی بھی نہیں ہوگی۔
عوام سیکولرپیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ کو مذہب دوست سیاسی جماعت سمجھتے چلے آئے ہیں، اورمذہبی ووٹ بینک بھی مسلم لیگ کے حق میں پڑتا رہاہے ،لیکن طُرفہ تماشاہے کہ حالیہ عرصہ میں مسلم لیگ نے مذہبی رجحانات کی حامل جماعت ہونے کے برعکس سیکولرجماعت ہونے کی شناخت قائم کی ہے۔مسلم لیگ کے لبرل اورسیکولراِقدامات کا محوردَراصل بیرونی قوتوں کا ایجنڈہ ہے۔جن کی تکمیل کے لیے ایسے دل آزاراِقدامات کرکے عوام کے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں۔قانون توہین رسالت ہو،یا قادیانیوں کی آئین میں متعینہ غیرمسلم اقلیت ہونے کی حیثیت،امریکہ اورمغرب کی آشیرباد ہی پر اِن قوانین کو غیرمؤثرکرنے کے حربے وقتاً فوقتاً بروئے کارلائے جاتے رہے ہیں،لیکن یہ سیکولرسٹ اقتداریوں کی بھول ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی من مانی کا اسلام لاسکیں گے کہ جس کا تقاضااُن سے بیرونی ایجنڈے کے تخلیق کارکرتے ہیں۔یہ ملک اسلام کے نام پر بناہے اوراِسلام ہی کے نام پر قائم رہے گا اوراُس کی اسلامی شناخت کے خاتمے اورنظریاتی تشخص کو مٹانے کے خواہش مندہمیشہ ناکام ونامرادرہیں گے۔
قومی سمبلی ختم نبوت کے حلف نامہ کی حذف شدہ عبارات اور دو ذیلی شقوں کو اُن کی اصل شکل میں بحالی کا بل منظور کر چکی ہے۔اب سینٹ اور صدر سے منظوری کے مراحل باقی ہیں۔الحمدللہ عوام نے بیداری کا ثبوت دیا اور حکومت کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کر دیا۔ختم نبوت کے پروانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان جتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، اختر شیرانی کی طرح اپنی جان ومال اور اولاد سے عزیزترین ہستی ﷺکے ناموس کی حفاظت کے لیے آخری حدوں تک جا سکتا ہے ۔جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و حرمت کی توہین کے راستے کھولنے چاہے ،انہیں منہ کی کھانا پڑی اور جب تک وہ توبہ نہیں کرتے ،انہیں نشان عبرت بننے کے لیے عذابِ الہٰی کا منتظر رہنا چاہیے ۔
پوری قوم جس کرب سے گزری ہے ۔اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔بدنصیب ہیں وہ لوگ! کہ جو تحفظ ناموس رسالت کی بجائے اپنی سیاسی وابستگیاں بچانے میں مگن رہے ۔ وقتی شہرت اور عارضی مفادات کی خاطر اپنے قلم اور عمل سے گنبد خضریٰ کے مکین کو تڑپاتے رہے ۔سلام ہے ان خوش بختوں پر! جو آقا علیہ السلام کے منصب نبوت پر ڈاکہ زنی کرنے والوں کے راستے میں چٹان بن کر کھڑے رہے ۔سیاست کو جوتے کی نوک پر رَکھا اورسارقانِ نبوت کے ہمنواؤں کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔دوستو! ابھی رُکنا نہیں،کیونکہ سفرباقی ہے ۔ منزل تک پہنچنے کے لیے کئی خارزار گھاٹیوں کو پار کرنا ہے ۔سیکولر،لبرل اور منکرینِ ختم نبوت کے ناپاک ارادوں اور مذموم اقدامات کا سدباب کرنا ہے ۔باہم اتحاد اور ایمان کی قوت سے اپنی جدوجہد کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے ،مگر نام ونمود کی نمائش کے بغیر:
مجھے خاک میں ملا کر میری خاک بھی اڑا دے
ترے نام پہ مٹا ہوں مجھے کیا غرض نشاں سے

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -