وفاقی چیمبر کے کسی عہدیدارکو کونسل آف بزنس لیڈرز میں شامل نہیں کیا گیا: احمد جواد

وفاقی چیمبر کے کسی عہدیدارکو کونسل آف بزنس لیڈرز میں شامل نہیں کیا گیا: احمد ...

لاہور (کامرس رپورٹر) بزنس مین پینل نے فیڈریشن پاکستان چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خراب کارکردگی کی وجہ سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز سے وزیراعظم کی بنائی گئی کونسل آف نزنس لیڈرز میں کسی عہدیدار کو نہیں چنا گیا۔ اپیکس باڈی کے لئے باعث شرم ہے کہ موجودہ آفس بئیرز کو بزنس کونسل میں منتخب نہیں کیا گیا۔ ایف پی سی سی آئی قومی اور بین الاقوامی سطح پر بزنس پلان نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پہچان کھو چکاہے اور غلط پالیسیز کی بناء پر دن بدن مجروح ہو رہا ہے ۔بزنس مین پینل کے ترجمان احمد جوادنے گزشتہ روز ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ایف پی سی سی آئی محض ایک پبلک ریلیشنگ باڈی بن چکی ہے۔حکومت کی معاشی پالیسز میں کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے سے قاصررہی ہے۔اسی لئے کسی بھی پلیٹ فارم پر اس ادارہ کی ٹھوس نمائندگی نظر نہیں آتی جوکہ بزنس کمیونٹی کے لیے لمحہ فکر یہ ہے وزیر اعظم کی کونسل آف بزنس میں شامل نہ ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے موجودہ نام نہاد لیڈرز کی سابق حکومت سے وابستگی اور پاپلوسی کی بنا ء پر فیڈریشن کے موجودہ نمائندوں کو رد کر دیا ہے۔ پچھلے چار سالوں میں ایس ایم منیر اینڈ کمپنی سابق حکومت کے گن گاتی رہی اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہوئے اب یہ حربہ نہیں چلے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایف پی پی سی آئی میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ(آ اینڈ ڈی) کا شعبہ شدید فقدان کا شکار ہے پچھلے چند سالوں میں آر اینڈ ڈی کوئی بھی جامع رپورٹ مرتنب کرنے میں ناکام رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں معاشی مسائل سے متعلقہ ریسرچ پیپر اور تقابلتی رپورٹ بھی کہیں نہیں نظر نہیں آتی۔انھوں نے مزید کہا بجٹ تجاویز پر بھی ایف پی پی سی آئی کی تجاویز کو پچھلے چند سالوں سے نظر انداز کیا جاتا رہا جو پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی تنظیم کے وقار کے منافی ہے جبکہ موجودہ قیادت ہر دفعہ وفاقی بجٹ کی تعریفوں کے گن گاتی رہی ۔ ایف پی سی سی آئی آفس میں نہ ایسا کوئی ڈیسک ہے اورنہ ہی کوئی سٹیئرنگ کمیٹی ہے جو حکومت کو کسی معاملے میں بریف کر سکے ۔

یہاں تک کہ سیکڑی جنرل آفس یو بی جی لیڈران کے لئے ایک پوسٹ آفس کی صورت اختیارکر چکا ہے ۔

مزید : کامرس


loading...