استحکام خواب ہی رہا!

استحکام خواب ہی رہا!
استحکام خواب ہی رہا!

  


حالاتِ حاضرہ کے مطابق ضرب المثل تو درجنوں ہیں،خصوصی طور پر پنجابی کی تو بے مثال ہیں۔یہاں سب کا ذکر تو ممکن نہیں،مگر کسی ایک پر گذارا مشکل سا ہے۔بہرحال کرنا تو ہے بزرگ کہہ گئے ’’گھڑی دا کسیا، سوکوہ‘‘ ذرا گہری ہے۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ سیدھے راستے جاتے جاتے اگر ایک موڑ بھی غلط مڑ جائیں تو فاصلے طویل ہو جاتے ہیں،یا پھر ’’کسی پَل کی غلطی سو میل پر لے جاتی ہے‘‘ مَیں گزشتہ روز سے سوچ رہا ہوں کہ جھلا ہی ہوں کہ استحکام کی خواہش اور دُعا کرتا رہتا ہوں کہ نفسیاتی مرض لاحق ہو گیا، مجھے اپنی نہیں،آئندہ نسلوں کی فکر لاحق ہوتی ہے۔

میری تو گذر گئی، بقول بابوں کے ’’اج مریا کل دوجا دن‘‘ یوں آخری ریل چل رہی ہے،لیکن میری ایک کے بعد دوسری نسل جو چل رہی ہے اِس کی فکر تو لاحق ہوتی ہے۔یہ سوچ کیا سکتی ہے کہ میرے اختیار میں تو صرف سوچنا یا اس سوچ کو اس صفحہ پر منتقل کرنا ہے۔کرنا تو جو کچھ ہے وہ اوپر والوں نے کرنا ہے۔

اِس سے آپ اللہ مراد نہ لیجئے گا، وہ تو قادر مطلق ہے، اُس کے کُن سے تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔میری مراد اُن حضرات سے ہے،جو اب حاکم ہیں یا پہلے تھے یا تو مَیں ہی بے خبر اور بالکل بے خبر ہوں یا پھر یہ حضرات عقل کل ہیں،یہ بھی نہیں لگتا ہے کہ قسمت کے دھنی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جو کریں گے وہی درست ہو گا۔

یہ سب ذہن کی مشق ہے، جو سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی یکایک گرفتاری کے باعث کرنا پڑ رہی ہے۔سوچ رہا ہوں کیا جو کِیا گیا وہ بالکل درست ہے یا پھر حکمت عملی میں کچھ کسر ہے،کیونکہ آج بحث یہ ہے کہ اِس گرفتاری سے فائدہ کسے ہوا؟ عام خیال اب یہ ہے کہ یہ کام غلط وقت پر کیا گیا اس سے مسلم لیگ(ن) اور محمد شہباز شریف کو فائدہ ہوا ہے، جہاں تک حکمرانوں اور خصوصاً برادرم فواد چودھری کا تعلق ہے تو ان کے مطابق یہ کرپشن کا سلسلہ ہے اور ان کی حکومت کی پالیسی ’’زیرو ٹالرینس‘‘ ہے۔

ہم نے ٹو ’’ٹالرینس‘‘ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ اور ہی عرض کیا تھا۔ بہرحال اگر ان کو کرپشن برداشت نہیں تو یہ کسی کو بھی قبول نہیں،پاکستان کے عوام بلاشبہ کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ افراد کا سخت محاسبہ چاہتے ہیں،لیکن یہاں تو صورتِ حال ہی مختلف ہے،کرپشن کا الزام ہے،لیکن گرفتاری کی وجہ اختیارات کا غلط استعمال بتائی جا رہی ہے۔

اس سے متوالوں کو یہ موقع ملا وہ پوچھتے ہیں کہ کرپشن کیا تھی اور کیا کی گئی وہ تو بتایا جائے۔اختیارات کا غلط استعمال تو ایک ایسا الزام ہے،جو کسی بھی مقتدر شخصیت پر لگایا جا سکتا ہے۔

متوالے کہتے ہیں موجودہ حکومت جو اہم تقرریاں کر رہی ہے وہ اختیارات کے تحت نہیں اور اگر ایسا ہے تو پھر اپنوں کی تقرری کا تو مطلب ہی اختیارات کا استعمال ہے، ناجائز نہیں کہہ رہا یہ میرا استحقاق نہیں تاہم اتنا ضرور کہوں گا کہ جو تقرریاں ہوئیں ان میں میرٹ کہاں ہے؟ کہ تحریک انصاف تو میرٹ کی سخت حامی ہے۔

یہ بات دوسری طرف نکل گئی۔گذارش تو یہ تھی کہ جب56کمپنیوں کا ذکر ہو رہا تھا،احد چیمہ اور فواد حسن فواد گرفتار کئے گئے تو اندازہ ہو رہا تھا کہ اندر سے بہت کچھ نکلے گا،عدالت عظمیٰ کے روبرو 56 کمپنیوں کا ذکر آتا تو 14،14 لاکھ روپے تنخواہ اور مراعات کی بھی بات ہوتی۔

یہ بھی کہا جاتا کہ میٹرو بس اور میٹرو اورنج لائن ٹرین کے حسابات کا فرانزک آڈٹ کرایا جا رہا ہے۔

تاثر یہ پیدا ہوتا کہ اِن منصوبوں میں گھپلے ہیں،لیکن ابھی تک تو ان میں تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں،اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں ٹھیکہ منسوخ کر کے دوسری پارٹی کو دینا اختیارات کا غلط استعمال ہے، جس سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا۔

لیگ(ن) کی طرف سے جواباً اسے انتقامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے،ان کے مطابق جب2018ء کے عام انتخابات تھے تو سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کو بند کیا گیا اور اب ضمنی انتخابات کا موقع ہے تو محمد شہباز شریف حوالاتی ہو گئے ہیں،مقصد انتخابات پر اثرانداز ہونا ہے،لیکن گزشتہ روز اور آج جو بھی ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو نفع نقصان کی فکر نہیں تھی، یا پھر نیب کو کسی سیاست، یا حکومت کا مسئلہ نہیں ہے، اور ان کی طرف سے اپنا کام کر لیا گیا۔

سیاست میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں سیاسی ہی ہوتی ہیں، اور اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں،اب بھی ایسا ہوا، اندازہ ہے کہ نیب کی مہربانی سے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کو فائدہ ہوا ہے اور کم از کم لاہور میں تو براہِ راست خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی بھی مستفید ہوں گے۔

سابق وزیراعلیٰ کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔اِس موقع پر متوالوں اور متوالیوں نے احتجاج کر کے خاموشی بھی توڑی،انتظامیہ نے تحمل اور حکمت عملی سے کام لیا اور کوئی تصادم نہیں ہوا، لیکن محاذ آرائی تو بڑھ گئی،استحکام میرا خواب ہی رہا۔

مزید : رائے /کالم


loading...