شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد!

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد!
شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد!

  


مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی گرفتاری غیر متوقع تو نہیں، البتہ اچانک ضرور ہوئی ہے۔

اُن کے خلاف نیب کئی ماہ سے تحقیقات کررہا تھا، وہ جب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، تب بھی انہیں انکوائری کے لئے بلایا جاتا تھا اور وہ متعدد بار پیش بھی ہوئے، تاہم انکوائریوں کا یہ سلسلہ رک نہ سکا، انتخابات قریب آئے تو طلبیوں کا یہ سلسلہ روک دیا گیا، بعدازاں وہ مصروفیات کی وجہ سے پیش نہ ہوئے۔

5اکتوبر 2018ء کو انہیں دوبارہ طلب کیا گیا تھا، جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا اور اگلے دن احتساب عدالت میں پیش کرکے 10روزہ جسمانی ریمانڈ بھی لے لیا۔ اس میں تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ نیب نے کچھ عرصے سے شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ کردیا تھا، جب سے احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی گرفتاریاں ہوئی تھیں، ایک عام خیال یہی تھا کہ معاملہ شہباز شریف تک جائے گا، کیونکہ یہ دونوں افسران شہباز شریف کے بہت قریب رہے اور انہوں نے ہر وہ کام کیا، جس کا شہباز شریف نے انہیں حکم دیا، اس کے عوض انہوں نے خود بھی بے پناہ مراعات لیں اور جائیدادیں نیز مال بنایا، البتہ یہ تاثر ضرور موجود تھا کہ شہباز شریف کی جو ساکھ ہے، اسے مد نظر رکھتے ہوئے شاید انہیں باقاعدہ گرفتار نہ کیا جائے اور بلا کر تفتیش کی جاتی رہے،گرفتاری سے یہ تاثر ختم ہو گیا۔

شہباز شریف کے لئے شاید یہ پہلاموقع ہے کہ انہیں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ اُن کے لئے ایک پریشانی کی بات ہے، کیونکہ وہ تو یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے پنجاب کے خزانے کی حفاظت کی اور اسے لٹنے سے بچایا ، پھر اُن کا یہ استدلال بھی ہمیشہ سے رہا ہے کہ اُن پر ایک پانی کی کرپشن ثابت ہوجائے تو وہ سیاست کو خیر باد کہہ کر گھر چلے جائیں گے، اکثر جذبات میں تو وہ یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ میرے مرنے کے بعد بھی ایک دھیلے کی بدعنوانی ثابت ہو تو مجھے قبر سے نکال کر بیچ چوراہے میں لٹکا دیا جائے۔ اتنے یقین کے ساتھ ایسے دعوے کرنے والا کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر نیب کے شکنجے میں آجائے تو حیرت ضرور ہوتی ہے۔

البتہ اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد سے لے کر ریمانڈ تک ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ نیب انتقامی کارروائیوں پر اتر آیا ہے، بلکہ سارا نزلہ عمران خان پر گرایا جارہا ہے کہ وہ انتقام لے رہے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ عمران خان انتقام کس بات کا لے رہے ہیں؟ شریف برادران نے ذاتی طور پر عمران خان کو کیا تکلیف دی ہے،جس کی وجہ سے وہ انتقام لے رہے ہوں؟ کیا شریف برادران نے عمران خان پر سیاسی مقدمات بنوائے، کرپشن کیسز کھولے، نیب کو استعمال کیا، ایسا توکچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر انتقام کس بات کا؟ یہ بیانیہ بھی عجیب و غریب ہے کہ ضمنی انتخابات کی وجہ سے شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شہباز شریف ممبر اسمبلی ہونے کی وجہ سے کسی کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ کسی جلسے سے خطاب نہیں کرسکتے اور نہ ہی ڈور ٹو ڈور مہم چلاسکتے تھے، پھر انہیں گرفتار کرانے کی کیا ضرورت تھی؟اس کے برعکس حقیقت ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری کا مسلم لیگ (ن) کے حق میں زیادہ اثر ظاہر ہوگا، کیونکہ پاکستان میں ایسے واقعات ہمدردی کے جذبات اُبھارتے ہیں اور ہمدردی کا ووٹ کایا پلٹ دیتا ہے۔ اس لئے کوئی احمق ایسے فیصلے نہیں کر سکتا کہ انتخابات سے چند روز پہلے اپنے سیاسی حریف کو ہارنے کے خوف سے پکڑوا دے اور یہ توقع بھی کرے کہ جیت جائے گا۔ شہباز شریف کی گرفتاری سوفیصد نیب کا اپنا فیصلہ ہے، ہاں یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ نیب نے گرفتاری کا یہ اچانک فیصلہ کیوں کیا؟ شہباز شریف جب تفتیش کے لئے پیش ہو گئے تھے اور مسلسل تعاون بھی کر رہے تھے تو باقاعدہ گرفتار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اب اس سوال کا سیدھا سا جواب تلاش کیا جائے تو یہی ہو سکتا ہے کہ نیب کے ہاتھ کچھ ایسے ٹھوس شواہد لگ گئے ہوں گے، جن پر تفتیش کے لئے شہباز شریف کی نیب حراست میں موجودگی ضروری تھی، تاہم میں اس کے پیچھے دو تین ایسے واقعات دیکھ رہا ہوں، جو بادی النظر میں عجلت میں گرفتاری کی وجہ نظر آتے ہیں۔

میرے نزدیک نوازشریف اور مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا کے بعد ضمانت پر رہائی نیب کے لئے شرمندگی اور ہزیمت کا باعث بنی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جو تفصیلی فیصلہ دیا ہے، اس میں نیب پراسیکیوشن کی کئی خامیوں کا ذکر کیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے جان بوجھ کر اس کیس میں ایسے شخص کو پراسیکیوٹر مقرر کیا، جو اس کیس کی نوعیت سے واقف نہیں تھا، نیب غالباً اس داغ کو دھونا چاہتی تھی، پھر ابھی چند روز پہلے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے نیب کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے، انہوں نے کہا کہ نیب صرف دعوے کرتا ہے، اس نے آج تک کسی کیس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا۔

انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ چیئرمین نیب کوچیمبرمیں بلاکر نیب کی کارکردگی کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔ میڈیا پر بھی نیب اور چیئرمین نیب جاوید اقبال کے بارے میں یہ چہ میگوائیاں ہونے لگی تھیں کہ اس وقت سپریم کورٹ، حکومت اور فوج احتساب کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں، لیکن نیب قوم کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔

شاید انہی حالات میں چیئرمین نیب کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ہو کہ ایک بڑی شخصیت پر ہاتھ ڈال کر سب کے منہ بند کرنے کی کوشش کی جائے۔ سو شہباز شریف نیب کے ریڈار پر آ گئے۔۔۔ تاہم اب نیب کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ شہباز شریف پر کرپشن کے الزامات کو ثابت کرے۔ اگر تفتیش میں نیب ایسے ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے جو شہباز شریف کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ضروری ہیں تو یہ نیب کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہوگا، کیونکہ پھر یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ نیب صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ حقیقت میں اس کا بدعنوانی کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس گرفتاری کے ملک کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا کیا نہیں ہوں گے؟ شہباز شریف ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر۔

وہ اپنی جماعت میں بھی کتنے مقبول ہیں، اس کا اندازہ ان کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے احتجاج اور احتساب عدالت کے باہر ان کا شہباز شریف سے پرجوش اظہار یکجہتی ہے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرادی ہے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی کوششیں بھی شروع کردی گئی ہیں، وہ اپوزیشن جو اس سے پہلے ایک یا دوسری وجہ کی بناپر اکٹھی نہیں ہو پا رہی تھی، اس گرفتاری کے بعد اکٹھی ہو کر کوئی لائحہ عمل بناسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بھی اب کان کھڑے ہوگئے ہیں۔

میاں شہبازشریف کی گرفتاری نے آصف علی زرداری کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جو منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کے ریڈار پر آئے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم سے اس کیس کی تفتیش کے لئے ایک جے آئی ٹی بھی کام کررہی ہے، اگر ان کیسوں کو سیاسی انتقام ثابت نہ کیا گیا تو مضبوط شواہد کی بنیاد پر سزائیں بھی ہوسکتی ہیں، اس لئے شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی سطح پر آسانی کے ساتھ ہضم نہیں کیا جائے گا۔

نواز شریف تونااہل ہو کر اسمبلی سے باہر ہوگئے تھے، شہباز شریف تو اسمبلی میں موجود ہیں اور قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے پر اپوزیشن کا دباؤ سپیکر قومی اسمبلی کو شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر مجبور بھی کرسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نواز شریف کھل کر سامنے آجائیں اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کریں۔

حکومت کے خلاف اگر کوئی تحریک منظم کرنی ہے تو اُسے بھی عملی جامہ پہنائیں۔ نیب کا اگر لمبا پروگرام ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ 90روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر کہیں شہباز شریف کے خلاف ریفرنس ڈائر نہ کردے۔ اس صورت میں رہائی مزید موخر ہوسکتی ہے۔

موجودہ سیاسی صورت حال میں یہ سوال کلیدی اہمیت رکھتا ہے کہ کیا حکومت سیاسی دباؤ پر شہباز شریف کی رہائی میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے، کیا وہ نیب کو کہہ سکتی ہے کہ معاملات حل پاگئے ہیں، اس لئے رہا کر دیا جائے، کیا عمران خان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ایسا کوئی حکم جاری کریں گے؟ کیا چیئرمین نیب جاوید اقبال معاملات کو اس طرح سیاسی بنیادوں پر نمٹائیں گے؟ مجھے تو ان میں سے کوئی بات بھی وقوع پذیر ہوتی نظر نہیں آتی۔

موجودہ فضا میں حالات ایسے نہیں کہ مک مکا کے ذریعے معاملات چلائے جاسکیں۔ عمران خان اگر ایسا کرتے ہیں تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔ معاملات اب صرف قانونی جنگ کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں۔ آپ اسمبلی کا اجلاس بلاکر اگر اس میں ہنگامہ کرتے ہیں، تو اس کا نیب یا احتساب عدالتوں پر کیا اثر پڑے گا، البتہ حکومت ضرور دباؤ میں آجائے گی، مگر وہ بھی کچھ نہیں کر سکے گی۔

اس وقت عدالتیں آزاد ہیں، آزادانہ فیصلے بھی کررہی ہیں، سب سے بڑی مثال نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا فیصلہ معطل ہونے کے بعد ضمانت پر باہر آجانا ہے، اس لئے شہباز شریف کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے قانونی جنگ لڑنا پڑے گی۔

شہباز شریف کو سیاسی مقدمے میں گرفتار نہیں کیا گیا، شہباز شریف ناقابل تسخیر سمجھے جاتے تھے، اُن کی گرفتاری کا اکثر لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، مگر اس حقیقت کو مان لینا چاہئے کہ اب حالات بدل رہے ہیں اور جو کل تک ناقابلِ تسخیر سمجھے جاتے تھے، آج تسخیر بھی ہو رہے ہیں اور زنداں میں بھی ڈالے جارہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...