سی پیک پرتحفظات دور ، ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرینگے ، تجربہ کا رسیاستدانوں نے ہی ملک کو مقروض ، کرپشن پروان چڑھائی ، وزیراعظم ، بلوچستان ہی پاکستان کا معاشی مستقبل ، آرمی چیف

سی پیک پرتحفظات دور ، ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرینگے ، تجربہ کا رسیاستدانوں ...

 کوئٹہ (بیورورپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کریشن کی وجہ سے آج پاکستان 28ہزار ارب رو پے کا مقروض ہے ،بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ موثر بلدیاتی نظام اور افراد ی قوت نہ ہونا ہے ، ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے نیا بلو چستا ن بنا نے جارہے ہیں ،صوبے میں ساڑھے چار سو ارب ڈالر کے معدنی وسا ئل موجود ہیں ، بلوچستان میں جلد ہی کینسر ہسپتال تعمیر کریں گے ، کچھی کینال منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے بھرپور اقداما ت کیے جائیں گے ،وزیراعلیٰ اور انکی ٹیم کرپشن کے خاتمے کیلئے کام کرے ، یہ بات انہو ں نے ہفتہ کی شب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ارکان اسمبلی ، سینیٹرز، سول سوسائٹی ، قبائلی و سیاسی عمائدین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ یاسین زئی ،وزیراعلیٰ میر جام کمال،وفاقی وزیر خسرو بختیار، ڈپٹی سپیکر قو می اسمبلی قاسم خان سوری ،پی ٹی آئی کے صوبائی پار لیما نی لیڈر سردار یار محمد رند، وزیراعظم کے مشیر نعیم الحق بھی موجودتھے، وزیراعظم عمران خا ن نے کہا سیاسی جماعتیں صرف ووٹ کیلئے بلوچستان کا رخ کرتی ہیں بلوچستان کے عوام کو تر قی دینے کی سب سے زیادہ ضرور ت ہے، انسا نوں پر سرمایہ کاری سے ہی اصل ترقی ممکن ہے ،وزیراعلیٰ کی اس حوالے سے بھرپور مددکرینگے ،وفاق بلوچستان کی مدد کیلئے ہر وقت تیا ر ہے ، بلو چستان خود اٹھے گا اور ساتھ پورے پاکستان کو اٹھائے گا ،ہم صوبے کو وہ ترقی دیں جو اب تک نہیں ملی جہاں صوبے کے پا س قوت نہیں وفا ق بلوچستان کو قوت فراہم کریگا ، سکیورٹی کی صورتحال کے اجلاس اور کابینہ سے ملاقات میں معلوم ہوا ہے بلوچستان میں سب سے زیادہ صلا حیت موجود ہے یہاں سونا ،تانبا، کوئلہ ،کرومائیٹ کے 450 ارب ڈالر کے ذخائر،تیل بھی موجود ہے اور گیس کے بھی بہت سے ذخا ئر دریا فت ہی نہیں کیے گئے ،گوادر بندرگاہ اور سی پیک ترقی کے مواقعے ہیں ہمیں انکا درست طرح فائدہ اٹھانا ہے، یقین دلاتا ہوں کچھی کینا ل منصوے پر ترجیحی بنیادوں پر کام ہوگا ، اگر بلوچستان کو دریائے سندھ سے اسکا مکمل حصہ ملے جائے تو بلوچستان اناج برآمد کرنے کیلئے خود کفیل ہوگا ، ہم پنجا ب اور خیبر پختونخواء میں نیا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں حکومت بلوچستا ن سے بھی گزارش ہے وہ صوبے میں نیا بلدیاتی نظا م لائے ۔جب تک بلوچستان میں اچھا بلدیاتی نظام نہیں لا تے ویلج کونسل نہیں بناتے یہ صوبہ اتنا پھیلا ہوا اور آبادی کم ہے یہ ناممکن ہے ضلعی ناظم بنا کر ترقی ممکن ہوسکے ہمیں نچلی سطح پر براہ راست پیسہ اور اختیارات منتقل کرنے کی ضرور ت ہے ، بلوچستان کو کینسر ہسپتال کی اشد ضرو ر ت ہے لوگ یہاں سے شوکت خانم لاہور جاتے ہیں انشاء اللہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگر یکٹو کو کوئٹہ بھجواؤنگاوہ یہاں ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے جائزہ لیں گے ،ہمیں مسئلہ صرف ماہر ڈاکٹروں کا ہے کو شش کریں گے انہیں باہر سے بلائیں ،آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی بات کی ہے کوشش کریں گے پاک فوج بھی اس حوالے سے معاو نت فراہم کر ے ۔دہشتگردی سے صوبہ ماہر اساتذہ ، ڈاکٹروں کے محروم ہوا اس نقصان کو پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے ، کرپشن کیلئے نااہل لوگوں کو اداروں میں بھرتی کیا گیا اور پھر ادارے لوٹے گئے،خوشی ہے بلوچستان میں تبدیلی کیلئے نئی سوچ آئی ہے ۔سیاسی جماعتیں صرف ووٹ کیلئے بلوچستان کا رخ کرتی ہیں پھر یہاں کی سیاسی پارٹیاں اپنے آپ کو منظم کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور نہ ہی اقتدار میں آکر یہ سوچتی ہیں کہ بلوچستان بھی پاکستان کا ایک حصہ ہے اور اس میں ڈویلپمنٹ کرنے کی ضرور ت ہے ۔ این ایف سی کے تحت بلوچستان کو جو زیادہ پیسہ ملا اگر وہ بھی بلوچستان کے لوگوں تک صحیح طرح پہنچ جاتا تو لوگوں کے حالات اتنے بُرے نہ ہوتے۔قبل ازیں اپنی زیر صدار ت بلو چستان کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کاکہنا تھا بلوچستان حکو مت کو درپیش مالی بحران میں ہر ممکن تعاون کریں گے، بلوچستان حکومت اور وفاق مشترکہ پارٹنر شپ کے تحت صوبے سے پسما ندگی کے خا تمے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے، سی پیک میں بلوچستان کے تحفظا ت کا ازالہ کیا جائے گا ،تجربہ کار سیاستدانوں نے ہی ملک پر قر ضے چڑھا ئے ، بلوچستان کی ترقی سے پاکستان کی ترقی وابستہ ہے ، ایسا کوئی وعدہ نہیں کرینگے جو پورا نہ کرسکیں، اراکین بلوچستان اسمبلی صو بے کے عوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے موثر قانون ساز ی کیلئے کام کریں، کابینہ ا جلا س میں وزیراعظم کو صوبہ میں سماجی و معاشی ترقیاتی منصو بوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا بلوچستان کو جائز حق دیں گے، ملک اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے، امید ہے اس مشکل سے جلد چھٹکارا پالیں گے۔ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو فعال کیے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔کرپشن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،اسی وجہ سے ملک مقروض، ہر ادارہ تباہ ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ بلو چستان میں اینٹی کرپشن کو مضبوط کریں ۔ قبل از یں وزیراعظم عمران خان نے گورنر بلوچستان جسٹس(ر) اما ن اللہ یا سین زئی اور وزیراعلی جام کمال سے ملاقات کے موقع پر صوبہ کی مجموعی صورتحال اور ترقیاتی منصو بو ں پر تبادلہ خیال کیا اور بلوچستا ن کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری رہیگا۔ بعد ازاں وزیر ا عظم عمران خان نے وز یر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزرا کے ہمراہ سدرن کمانڈ کوئٹہ کے ہیڈ کوارٹر دورہ کیا ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کوئٹہ ایئر بیس پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انکا استقبال کیا ،سدرن کمانڈ میں وزیر اعظم کی زیر صدا ر ت اجلاس ہوا جس میں انہیں بلوچستان کی سکیورٹی صور تحال ، خوشحال بلوچستان کے تحت صوبے کی سماجی و معاشی ترقی ، سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی اور پاک افغا ن سرحد پر باڑ میں پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعظم نے صوبے کے امن و امان، سماجی و معاشی ترقی میں سکیورٹی فورسز کے کردا ر کو سراہااورکہا قومی یکجہتی سے صوبوں کو خوشحالی کی جا نب لے جائینگے ، صوبوں اور وفاق کے درمیان تعاون، جامع قومی کوشش اور فوج کی مدد سے بلوچستان کے حقیقی وسا ئل سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا خیبر پختونخوا میں استحکام کے بعد بلوچستان پر تو جہ مرکوز کی ،بلو چستا ن پاکستان کا معاشی مستقبل ہے۔بعدازاں وزیرا عظم سے بی این پی مینگل کے پارلیمانی وفد نے بھی ملاقا ت کی جس میں مخلوط حکومت میں اتحادی جماعت کے 6نکات کے حوالے سے تبادلہ خیال اور بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی، عوام کی فلاح و بہبود، کرپشن کے خاتمے اور شفافیت یقینی بنانے کے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مشاورت اور کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ وفد میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی، ثناء بلوچ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین شامل تھے ۔قبل ازیں وز یر ا عظم عمران خان دو روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تو وزیراعلی بلو چستا ن جام کمال نے استقبال کیا، اس موقع پر زرغون روڈ اور ملحقہ سڑکوں کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا جس سے شہر یو ں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔وز یر اعظم کے دورے کے موقع پر بلوچستان میں سی پیک منصوبوں،سیندک پرا جیکٹ ، گو ا د ر میں سعودی تعا و ن سے قائم آئل ریفائنری سمیت دیگر منصوبوں پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

وزیراعظم

مزید : صفحہ اول


loading...