سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ہفتہ میں دوبار سماعت کا حکم نئی جے آئی ٹی کیلئے پنجاب حکومت ، پولیس محکمہ پراسیکیوشن کو نوٹس

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ہفتہ میں دوبار سماعت کا حکم نئی جے آئی ٹی کیلئے پنجاب ...

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجا ز الاحسن پر مشتمل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف کیسوں کی سماعت کی ۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجا ز الاحسن پر مشتمل بنچ نے پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں سے پانی کی قیمت ،ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین کیلئے وفاقی اورچاروں صوبائی حکومتوں کونوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ آئندہ تاریخ سماعت پر 11اکتوبر کو اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹس جنرل اسلام آباد میں پیش ہوں۔عدالت نے پانی فروخت کرنے والی ایک بڑی کمپنی نیسلے انٹرنیشنل کے فرانزک آڈٹ کا حکم بھی جاری کردیا ہے ،دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کشت کر کے گھروں کاپانی بچا رہے ہیں اور یہ کمپنیاں مفت میں قومی وسائل استعمال کرکے اربوں روپے کمارہی ہیں اور حکومت کو ایک پیسہ بھی ادا نہیں کررہی ہیں،پانی ملک کا سب سے بڑا عطیہ ہے جو مفت میں دیا جا رہا ہے،اس کیس کی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نماز کے وقفہ سے پہلے اور بعد میں دو مرتبہ سماعت ہوئی ۔وقفہ سے پہلے سماعت کے موقع پرنیسلے کی جانب سے 81ڈبوں پر مشتمل ریکارڈعدالت میں پیش کیا گیا،جس پر چیف جسٹس نے کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن سے کہا کہ عدالت نے متعلقہ دستاویزات مانگیں آپ نے غیر ضروری ڈبے لا کر سپریم کورٹ میں رکھ دئیے،ہم نے فرانزک آڈیٹر مقرر کیا آپ نے اس پر اعتراض کردیا،چیف جسٹس نے کہا کہ اب یہ آڈٹ سپریم کورٹ کی عمارت میں ہو گا،تمام حجت کے طور پرآپ کی سی ای او ساتھ بیٹھے گی،جب تک آڈٹ مکمل نہیں ہوتا ،وہ ہائی کورٹ کی عمارت میں موجود رہیں گی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی کہ آڈٹ کیلئے دو کمرے مختص کئے جائیں،کمپنی کی سی ای او اور دیگر سٹاف کو صرف واش روم استعمال کرنے کی سہولت دی جائے تاہم وقفہ کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو فاضل بنچ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو کمپنی کے فرانزک آڈٹ کا حکم جاری کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی بھی بتائے کہ کمپنیوں کے لئے کیا نرخ مناسب ہو گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی ملک کا سب سے بڑا ریسورس ہے جو مفت میں دیا جا رہا ہے،نیسلے کمپنی کرائے کی جگہ لے کر وہاں سے مفت کا پانی بیچ رہی ہے، منرل واٹر کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے، نیسلے 35 سال سے پاکستان میں کام کر رہی اور پانی کی رقم ادا نہیں کی، ظفر کلانوری ایڈووکیٹ نے کہا کہ نیسلے نے 3 سال میں 2.7 بلین لیٹر پانی استعمال کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ سیلز ٹیکس تو عوام ادا کرتے ہیں اور خام مال کی صورت میں پانی کے استعمال پر ٹیکس کس نے دینا ہے؟ گھر میں ڈونکی پمپ لگا کر یا بور کر کے پانی لینا ایک ذاتی استعمال ہے، ہم گھروں پر کشت کر کے پانی بچا رہے ہیں اور آپ کرائے کی جگہوں سے پانی نکال کر بیچ رہے ہیں، چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے کہا کہ آپ نے پورٹ قاسم پر بھی پلانٹ لگا رکھا ہے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ وہاں تو سمندر کا پانی صاف کیا جارہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں پورٹ قاسم والی فیکٹری کا بھی دورہ کروں گا اوردیکھو گا کہ پانی کہاں سے لیا جارہاہے۔فاضل جج نے مذکورہ احکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت جمعرات11اکتوبر پر ملتوی کردی۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کیلئے نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے معاملہ پر پنجاب حکومت ،پولیس اور محکمہ پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کردیئے ہیں،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل کوآئندہ تاریخ سماعت پر جواب پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ادارہ منہاج القرآن اورپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے پیش ہو کر فاضل بنچ سے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق غیر جانبدارا نہ نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کی،چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے استغاثہ میں لاہور ہائی کورٹ نے آپ کی اپیل مسترد کی ہے، اس کے خلاف آپ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں،آپ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ پاکپتن ،بلدیہ ٹاؤن فیکٹری اور زینب قتل کیس کے معاملے پر عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی،سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق بھی غیر جانبدار جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جائے جس پر عدالت نے پنجاب حکومت،محکمہ پراسیکیوشن اور پنجاب پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے کہ کیا اس مرحلہ پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جاسکتی ہے ،سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے استغاثہ کی سماعت روزانہ کی بجائے ہفتہ میں دو مرتبہ کرنے کا حکم بھی جاری کیاہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے قراردیا ہے کہ ایسی تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں کہ ایک بورڈ لگا دیا جائے اور وہاں نہ کوئی پڑھانے والا ہو اور نہ کوئی پڑھنے والا اور ڈگری مل جائے۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سرگودھا یونیورسٹی ازخود نوٹس کیس میں نیب کو سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے مالکان کیخلاف تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے دیئے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بہت ہوچکا اب پیسہ بنانے کا میکنزم ختم ہونا چاہیے ،چیف جسٹس نے قراردیا کہ سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد اچھا بندہ لگا ہے ،تحقیقات میں ان سے بھی معاونت لی جائے ،اس کیس میں سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے پیش ہوکربتایا کہ سرگودھا یونیورسٹی کے سب کیمپس فنانس ڈیپارٹمنٹ، سنڈیکیٹ اور ایچ ای سی کی منظوری کے بغیر قائم کئے گئے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے قراردیا ہے کہ میری ریٹائرمنٹ کے انتظار میں 3ماہ کا وقت گزارنے کی کوشش کرنے والوں کو موقع نہیں دوں گا۔فاضل جج نے یہ ریمارکس ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی متعلقہ خاتون افسر کو مخاطب کرتے ہوئے دیئے ۔خاتون افسر نے فضلہ ٹھکانے لگانے کے تمام پلانٹس چالو کرنے کیلئے عدالت سے مہلت طلب کی ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فضلہ ٹھکانے لگانے کے عالمی معیار کے مطابق انتظامات نہ ہونے کے باعث آلودگی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں،پہلے بھی آپ کو موقع دیا گیا لیکن وعدے کی پاسداری نہیں کی گئی، مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، آپ تین ماہ کا وقت گزارنا چاہتے ہیں کہ میں چلا جاؤں، ایسے نہیں ہوگا، چیف جسٹس نے خبر دار کیا کہ اگر مہلت کے باوجود کام مکمل نہ کیا گیا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں حمید لطیف ہسپتال کی پارکنگ اور عمارت سے متعلق از خود نوٹس کیس میں ڈی جی ایل ڈی اے کو ہسپتال کی عمارت کی قانون کے مطابق تعمیر کا جائزہ لینے کا حکم جاری کردیا۔عدالت نے حمید لطیف ہسپتال کی سڑک پر پارکنگ ختم کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...