شہباز شریف کا 10روزہ جسمانی ریمانڈ ، سابق وزیراعلیٰ کی چیمبر کی بجائے اوپن عدالت میں سماعت کرنے کی درخواست تسلیم ، نیب کو فوری بیان ریکارڈ کروانے سے انکار ، گرفتاری پر احتجاج کرنیوالے لیگی ارکان اسمبلی سمیت150کارکنوں پر مقدمہ

شہباز شریف کا 10روزہ جسمانی ریمانڈ ، سابق وزیراعلیٰ کی چیمبر کی بجائے اوپن ...

 لاہور(نامہ نگار،جنرل رپورٹر ،نیوزایجنسیاں) احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیاہے۔نیب کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی ،عدالت نے کچھ دیر کیلئے اپنا فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سنا دیا گیا۔شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔نیب نے ایک روز قبل سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم انہیں پیشی پر آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیاتھا۔گزشتہ روز احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پر کمرہ عدالت میں رش زیادہ ہونے پر احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے شہباز شریف اور وکلاء کو اپنے چیمبر میں بلالیا اور وہاں سماعت شروع کی۔نیب اہلکار شہبازشریف کو رش کے باعث سیڑھیوں کے بجائے لفٹ کے ذریعے تیسری منزل پر لے گئے ہیں۔اس موقع پر پراسیکیوٹر نیب نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے اختیارات سے تجاوز کیا اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کرکے کاسا ڈویلپرز کو دیا، اْن کے اس غیر قانونی اقدام سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔پراسیکیوٹر نیب نے مزید کہا کہ شہباز شریف سے مزید تفتیش درکار ہے، عدالت شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرے تاہم وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر تمام مقدمات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں،واضح رہے کہ امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کو شہباز شریف کا وکیل مقرر کیا گیا تھا،احتساب عدالت میں شہباز شریف نے موقف اختیار کیا کہ کھلی عدالت میں سماعت چاہتا ہوں، جس کے بعد فاضل جج نجم الحسن کورٹ روم میں آگئے، جہاں کھلی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت شہباز شریف نے کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک دھیلے، ایک پائی کی کرپشن نہیں کی اور نہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا بلکہ اپنی ذاتی مداخلت سے کئی ارب روپے بچائے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے بچایا،شہباز شریف نے مزید کہا کہ میں نے دن رات محنت کرکے عوام کی خدمت کی اور اس سب میں اپنی نیند اور صحت بھی خراب کرلی۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے مزیدموقف اختیار کیا کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا لیکن انہیں چھوڑ دیا گیاجبکہ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چودھری لطیف اینٹی کرپشن کے ایک کیس میں مفرور ہے جبکہ ایک کیس میں چودھری لطیف کی کمپنی بلیک لسٹ ہے۔فاضل جج نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا،جس کے بعد انہیں انتہائی سخت سکیورٹی میں بکتربند گاڑی میں احتساب عدالت سے روانہ کردیا گیا۔نیب ذرائع کے مطابق بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لے جانے سے پہلے شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹرز نے انہیں مکمل فٹ قرار دیاتھا۔علاوہ ازیں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، احتساب عدالت کے گرد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور عدالت آنے والے راستے بند کردیئے گئے تھے۔اس موقع پر وکلاء اور رینجرز اہلکاروں تلخ کلامی جبکہ وکلاء اور نیب اہلکاروں میں ہاتھا پائی ‘تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوتا رہا ۔عدالتی سماعت کے موقع پرشہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز بھی نیب عدالت پہنچے اور صرف انہیں ہی عدالت کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔شہبا زشر یف کی نیب عدالت میں پیشی کے موقعہ پر کارکنان اور حامی وکلاء نے شہبازشر یف کے حق میں نعرے لگائے تو حمزہ شہبا زشر یف کارکنوں اور حامی وکلاء کو نعروں سے روکتے رہے جبکہ سلمان اور حمزہ نے عدالت کے اندر میاں شہبا زشر یف سے بھی ملاقات کیں اور ان سے کیس سمیت دیگر امور کے حوالے سے بات چیت بھی کی گئی ۔ احتساب عدالت نے شہباز شریف کو نیب کے حوالے کرتے ہوئے سماعت 16 اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردی۔علاوہ ازیں شہبازشریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد تین رکنی تفتیشی ٹیم کو فوری بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کردیا۔ہفتہ کی دوپہر نیب کی تین رکنی تفتیشی ٹیم نے میاں شہبازشریف سے تفتیش کو آگے بڑھانے کیلئے پوچھ گچھ شروع کی تو انہوں نے کہا کہ میں اب کئی دن آپ کے پاس ہوں جو جی چاہے پوچھ لینا،لیکن آج مجھے آرام کرنے دیں کیونکہ احتساب عدالت میں پیشی کی وجہ سے بہت مصروف دن گزارا ہے۔

شہباز شریف

لاہور (جنرل رپورٹر ،کر ائم رپو رٹر،نیوزایجنسیاں ) احتساب عدالت کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکن بڑی تعداد میں جمع رہے اور شدید نعرے بازی کی گئی۔لیگی رہنما ؤں میں مریم اورنگریب، سائرہ افضل تارڑ، خواجہ احمد حسان، سمیع اللہ خان اور دیگر شامل تھے۔نیب ذرائع کے مطابق بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لے جانے سے پہلے شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹرز نے انہیں مکمل فٹ قرار دیا۔شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کے باہر موجود لیگی رہنماؤں پرویزملک ،خواجہ عمران نذیرسمیت دیگر بکتربندگاڑی پرچڑھ گئے،بکتربند گاڑی پر چڑھنے والوں میں کئی لیگی خواتین بھی شامل تھیں، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے کارکنوں کو گاڑی سے نیچے اتار دیا۔اس دوران ایک لیگی کارکن گاڑی سے نیچے گر کر زخمی ہوگیا، جسے طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس نے شہبازشریف کی گرفتاری پر احتجاج کرنے والے (ن) لیگی کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے گزشتہ روز مال روڈ ریگل چوک پر شہبازشریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ تھانہ سول لائنز میں پولیس کی مدعیت میں ہی درج کیا گیا ہے جس میں ممبر قومی اسمبلی وحید عالم اور ایم پی اے میاں مرغوب سمیت 150 کے قریب کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔

مسلم لیگی کارکنان

مزید : صفحہ اول


loading...