نیب خود مختار ادارہ ، شہباز شریف کی گرفتاری میں حکومت کا ہاتھ نہیں ، شاہ محمود قریشی

نیب خود مختار ادارہ ، شہباز شریف کی گرفتاری میں حکومت کا ہاتھ نہیں ، شاہ ...

ملتان ( مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے میری امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملا قا ت کے بعد امریکہ کے پاکستان کیلئے رویے میں تبدیلی آئی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان کا موقف تسلیم کیا گیا، نیب نے شہبا ز شریف کیخلاف تحقیقات کے بعد گرفتاری کا فیصلہ کیا، ان کیخلاف ہماری حکومت نے کیس درج نہیں کیا شہباز شریف کو قانونی جنگ لڑنے کا پورا حق ہے،ہمیں عدالتوں کا احترام کرنا ہوگا۔ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا اقوام متحدہ میری تقریر کو سراہنے پر مجبور ہواکیونکہ وہ پاکستانیوں کی آواز تھی، امریکہ پچھلے دو برس سے پاکستان پر جس انداز سے نکتہ چینی کررہا تھا مگراب امریکہ کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد مقدم ہے اس وقت مسلم امہ تقسیم اور ان میں اتفاق یکسوئی و یکجہتی موجودہ نہیں جس کے باعث کشمیر کا موقف پیش کر نا آسان نہیں مگر ہم نے کشمیر کا معاملہ احسن انداز میں اٹھایا ہم جتنے تقسیم ہوں گے اتنا ہی ہمارا موقف کمزور ہوگا۔ میرے امریکہ کے دور ے کا مقصد پیسے یا امداد لینا نہیں تھا، ہمیں تسلسل کیساتھ نئے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے ،اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ پاکستان کو افغا نستا ن کے تناظر اور بھارت کے چشمے سے نہ دیکھا جائے ،ڈیم بننا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ا مریکہ کو تعلقات پرکہا انہیں باور کرناچاہیے حا لا ت یکساں نہیں رہتے ضرورتیں بدلتی رہتی ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی ہے، ہماری خواہش ہے امن و استحکام کا بول با لا ہو، دونوں اطراف سے ہمیں دقتوں کا سامنا ہے، ہمارا موقف ہے بھارت اور پاکستان کے پاس مذاکرات کے علاوہ اور کوئی را ستہ نہیں، پچھلے کچھ سالوں سے پاک بھارت تعلقات تعطل کا شکار ہیں، خارجہ پالیسی ایک ایسا عمل ہے جس میں ملک کی سالمیت کی بات کی جاتی ہے، حکومت کی معیاد صرف چند سالوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہم نے اقوام متحدہ میں ہر مسئلہ پر واضح انداز میں بات کی ، ہماری کوشش ہے اپنی کاو شوں کو اونچا دکھایا جائے،میں کسی کو کریڈٹ دے سکتا ہوں اور نہ لے سکتا ہوں، یہ دورہ پیسوں کے مطالبے کے حوالے سے تھا، یہ نہ مطالبہ تھا اور نہ پورے دورے میں اس پر تذکرہ کیا، ہمیں بہت سی چیزیں اپنی بقاء کیلئے کرنے کی ضرورت ہے، اس ملک کی بقاء کیلئے فوج و عوام نے بہت ہمت سے کام کیا ہے، ہمسائیوں کیساتھ اچھے تعلق ہونا ہر ملک کی خواہش ہونی چاہیے، پچھلے 17سالوں میں ملکی معیشت پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے، ہم نے اسکی بحالی کیلئے ہاتھ بڑھایابھارت کو بھی ایسا کرنا چاہیے تھا اورسشما سوراج اور میرے درمیان اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائن پر ملاقات ہونی چاہیے تھی تاکہ امن کیلئے رابطہ اور بات ہوتی لیکن بھارت نے یہ موقع بھی گنوا دیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...