خسرہ سے بچاؤ کی12روزہ مہم15 اکتوبر سے شروع ہوگی،ڈپٹی کمشنر کوہاٹ

خسرہ سے بچاؤ کی12روزہ مہم15 اکتوبر سے شروع ہوگی،ڈپٹی کمشنر کوہاٹ

پشاور( سٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنر کوہاٹ خالد الیاس نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15تا 26اکتوبر 2018ء سے شروع ہونے والی خسرہ سے بچاؤ کی12روزہ مہم کو ہرصورت کامیاب بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کارلائیں اور 9ماہ تا5سال کے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائیں۔انہوں نے والدین،منتخب عوامی نمائندوں اور علماء اکرام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارا ملک اور آنے والی نسلیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس مرض سے محفوظ ہو سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں خسرہ سے بچاؤ مہم سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر لاچی سمیع الرحمن، ڈی ایچ او ڈاکٹر مشرف،ڈسٹرکٹ خطیب مفتی شفیع اللہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اس مہم کے مجوزہ پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیااور اس سلسلے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ مہم بغیر کسی وقفے کے 12دن تک جاری رہے گی اور اس کے لئے اربن اور رورل سطح پر فکسڈ، آؤٹ ریچ اور موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور اربن سطح پر ہر ٹیم روزانہ 150تا200جبکہ رورل سطح پر 100تا150بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگائیں گے۔اس مہم کے دوران مجموعی طور پر156000 بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کا ہدف رکھا گیاہے۔اجلاس کو مزید بتایاگیا کہ خسرہ سے متاثرہ بچے سے مزید 18بچوں کو یہ بیماری منتقل ہوسکتی ہے اور احتیاط نہ کرنے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔اس کی علامات میں بخار، جلد پر سرخ دانے نکلنا، ناک سے پانی بہنااور کھانسی شامل ہیں لہذا جن بچوں میں یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹریا قریبی ہسپتال سے رجوع کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے اپنے مختصر خطاب میں محکمہ صحت کو انتظامیہ اور دوسرے محکموں کی جانب سے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس مہم کو ہرصورت کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی ہر گز کوئی گنجائش نہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...